عراق:جنازے میں خودکش دھماکہ، بیس ہلاک

عراق میں حکام کے مطابق ملک کے شمالی حصے میں ایک جنازے میں ہونے والے خود کش دھماکے میں بیس سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
یہ دھماکہ سنیچر کو عراق کے صوبے نینوا کے دارالحکومت موصل کے قریب ہوا۔
حکام کے مطابق مرنے والوں کا تعلق شعیہ مسلک سے ہے اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس دھماکے کے پیچھے کون ہے؟
عراق میں حالیہ مہنیوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد کا تازہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب موصل کے قریب شبعک قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی نمازِ جنازہ کو نشانہ بنایا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شبعک کا قبیلہ موصل اور بشیکہ کے درمیان واقع ہے اور اس کی آبادی پچاس ہزار افراد پر مشتمل ہے۔
خیال رہے کہ یہ واقعہ عراق کے مرکزی شہر بعقوبہ میں ایک سنی مسجد پر بم حملے کے ایک روز بعد پیش آیا ہے۔
بعقوبہ میں جمعہ کو ایک سنی مسجد پر ہونے والےایک حملے میں کم سے کم تیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران عراق میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جن میں صرف اگست میں 800 افراد ہلاک ہوئے۔
عراق میں موجود القائدہ نے حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے مگر ان کا بنیادی ہدف شیعہ آبادی، سکیورٹی حکام اور حکومتی تنصیبات رہی ہیں۔
مگر ایسے واقعات کو روکنے میں حکومت کی ناکامی کے پیش نظر شیعہ ملیشیا دوبارہ اکھٹے ہو رہے ہیں اور انہوں نے خبر دار کیا ہے کہ وہ اپنے فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا تحفظ کرنے کے لیے تیار ہیں-
شام میں جاری تنازعے سے بھی عراق متاثر ہوا ہے جہاں تشدد میں فرقہ واریت کا عنصر نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں عراقی سکیورٹی حکام نے بغداد کے مضافاتی علاقوں سے مبینہ طور پر سینکڑوں القائدہ کے دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔
اس گرفتاریوں کی مہم کو شیعہ اکثریتی حکومت نے ’شہیدوں کا انتقام‘ قرار دیا ہے۔
اس آپریشن سے جو زیادہ تر سنی اکثریتی علاقوں میں کیا جا رہا ہے سنی بہت غصے میں ہیں اور اس سے تشدد کے واقعات میں کمی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔







