بریڈلی میننگ کو 35 برس قید کی سزا

بریڈلی میننگ
،تصویر کا کیپشنوکی لیکس کو خفیہ معلومات فراہم کرنے والے امریکی فوجی بریڈلی میننگ کو پینتیس سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

وکی لیکس کو خفیہ معلومات فراہم کرنے والے امریکی فوجی بریڈلی میننگ کو پینتیس سال کی سزائے قید سنائی گئی ہے۔

پچیس سالہ بریڈلی میننگ کو بیس جولائی کو ایک فوجی عدالت نے جاسوسی اور چوری سمیت دیگر الزامات کے تحت مجرم قرار دیا تھا تاہم ان پر’دشمن کی مدد‘ کا ملزم قرار نہیں دیا گیا۔

فیصلہ سنائے جانے کے بعد میننگ کے وکیل نے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں میننگ نے کہا تھا کہ انھوں نے یہ قدم ’ملک کی محبت‘ میں اٹھایا تھا۔

ان کے حامیوں نے صدر براک اوباما سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میننگ کی سزا معاف کر دیں۔

گزشتہ ہفتے میننگ نے امریکی عوام سے انہیں تکلیف پہنچانے اور اپنے اقدام سے ہونے والے ’غیر متوقع نتائج ‘ پر معافی مانگی تھی۔

استغاثہ نے 60 سال کی سزا کی درخواست کی تھی تاکہ مستقبل میں اس قسم کے راز افشا کرنے والوں کو پیغام دیا جا سکے۔

میننگ کی سزا میں سے تقریباً ساڑھے تین سال کا عرصہ کم کر دیا جائے گا جو وہ پہلے ہی جیل میں گزار چکے ہیں۔گرفتاری کے بعد قید کے دوران سخت حالات کے بدلے انہیں 112 دنوں کی رعایت بھی دی جائے گی۔

ملٹری قیدیوں کی سزاؤں میں ان کے اچھے برتاؤ کی وجہ سے کمی ہو سکتی ہے لیکن پیرول کا اہل ہونے کے لیے ان کے لیے اپنی سزا کا ایک تہائی حصہ کاٹنا ضروری ہے۔

میری لینڈ میں فورٹ میڈ کی فوجی عدالت میں جج کرنل ڈینیس لِنڈ کا کہنا تھا کہ بریڈلی میننگ کو امریکی فوج سے نکالا جائے اور ان کی تنخواہ بھی ضبط کر لی جائے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جب میننگ کو کمرہ عدالت سے باہر لایا گیا تو ان کے حامیوں نے ’بریڈلی ہم تمہارا انتظار کریں گے‘ اور ’شکریہ بریڈلی، ہمیں تم سے محبت ہے‘ کے نعرے لگائے۔

دو ہزار دس میں عراق میں بطور انٹیلی جینس تجزیہ کار تعیناتی کے دوران میننگ نے وکی لیکس کو امریکی حکومت کی ہزاروں سفارتی اور فوجی دستاویزات فراہم کی تھیں۔

مقدمے کے باقاعدہ آغاز سے قبل ایک سماعت میں میننگ کا کہنا تھا کہ وہ اس امید کے ساتھ یہ خفیہ دستاویزات منظر عام پر لائے تھے کہ اس سے امریکہ کی خارجہ پالیسی اور ملٹری کے بارے میں عوامی بحث کا آغاز ہوگا۔

بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران میننگ کا کہنا تھا کہ ’ گذشتہ تین سال میں میں نے بہت کچھ سیکھا ہے‘۔

اس فیصلے اور سزا پر نظرثانی کی جائے گی اور ممکن ہے کہ ملٹری کے ڈسٹرکٹ کمانڈر اس میں کمی کر دیں اور آرمی کورٹ آف کرمنل اپیلز میں بھی اس پر نظر ثانی کی جائے گی۔

دریں اثنا حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور بریڈلی میننگ سپورٹ نیٹ ورک نے ایک آن لائن پٹیشن کا اعلان کیا ہے جس میں صدر براک اوباما سے بریڈلی میننگ کو معاف کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

ملٹری میں نفسیات کے ڈاکٹر نے عدالت کو بتایا ہے کہ خفیہ دستاویزات وکی لیکس کو مہیا کرنے کے وقت میننگ اپنے جنسی تشخص کی تلاش میں تھے۔

نیوی میں کیپٹن ڈیوڈ مولٹن نے عدالت کو بتایا کہ عراق میں تعیناتی کے دوران میننگ محسوس کر رہے تھے کہ ان کا خاندان اور دوست ان سے لاتعلق ہوگئے ہیں اور ان کے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ تعلقات بھی اچھے نہیں تھے۔

ان کے دفاع کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں کے مطابق میننگ کے افسران نے ان کے غیر مستقل مزاج کو نظر انداز کیا تھا۔ ثبوت میں بتایا گیا ہے کہ میننگ نے ایک نفسیاتی کونسلنگ کے دوران بندوق اٹھانے کی کوشش کی تھی۔

ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میننگ کی ذہنی حالت بیرون ملک ذمہ داریاں نبھانے کے لیے موزوں نہیں تھی۔

ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ میننگ کے ساتھ کویت میں ایک آرمی کیمپ اور ورجینیا میں قید تنہائی کے دوران برا سلوک کیا گیا تھا۔

میننگ نے عدالت کو بتایا کہ میں سوچ رہا تھا کہ ’میں اس پنجرے میں پھنس گیا ہوں اور مر جاؤں گا۔ ‘