امریکہ کو تکلیف پہنچانے پر میننگ کی’معافی‘

وکی لیکس کو امریکہ کی خفیہ حکومتی معلومات فراہم کرنے والے امریکی فوجی بریڈلی میننگ نے کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ ان کے اقدام سے امریکہ اور لوگوں کو تکلیف ہوئی اور وہ معافی کے خواستگار ہیں۔
پچیس سالہ میننگ نے یہ بات امریکی ریاست میری لینڈ میں اپنے کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران ایک بیان میں کہی ہے۔
<link type="page"><caption> ’جنگی رپورٹس اور خفیہ دستاویزات افشا کیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/02/130228_wikileaks_manning_trial_rk.shtml" platform="highweb"/></link>
فوجی عدالت نے بیس جولائی کو بریڈلی میننگ کو جاسوسی اور چوری سمیت دیگر الزمات کے تحت مجرم قرار دیا تھا تاہم ان پر’دشمن کی مدد‘ کا ملزم قرار نہیں دیا گیا۔
میننگ پر جو الزامات ثابت ہوئے ہیں ان کے تحت انہیں 90 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ وہ پہلے ہی ہزاروں جنگی رپورٹس اور سفارتی پیغامات وکی لیکس کو فراہم کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
بدھ کو عدالت کے سامنے اپنے بیان میں بریڈلی میننگ نے کہا کہ ’مجھے افسوس ہے کہ میرے اقدامات سے لوگوں کو تکلیف پہنچی۔ میں معذرت خواہ ہوں کہ اس سے امریکہ کو تکلیف ہوئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے اقدامات کے غیرمتوقع نتائج پر معافی کا طلبگار ہوں۔ گزشتہ تین برس میں میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’جب میں نے یہ فیصلے کیے تو میں لوگوں کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا تھا بلکہ میں تو ان کی مدد کا خواہاں تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میننگ نے کہا مقدمے کی سماعت اور قید کے بعد اب ان کا یقین ہے کہ انہیں نظام میں رہتے ہوئے ہی ان تبدیلیوں کے لیے کام کرنا چاہیے تھا جو وہ لانا چاہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی امریکہ کی قومی سلامتی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تھے بلکہ اس بات کے خواہاں تھے کہ یہ دستاویزات عام ہونے سے امریکہ کی فوجی اور خارجہ پالیسی کے بارے میں عوامی سطح پر بحث ہو۔
بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں اپنے اقدامات کی قیمت ادا کرنا پڑے گی لیکن انہیں امید ہے کہ وہ ایک دن اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ جوڑیں گے اور اپنے اہلخانہ سے ایک بامعنی تعلق قائم کر پائیں گے۔
سپاہی بریڈلی میننگ نے دو ہزار سات میں امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔عراق میں فوجی تجزیہ کار کے طور پر تعینات میننگ کو مئی سال دو ہزار دس میں عراق سے ہی گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں امریکہ منتقل کرنے سے پہلے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر کئی ہفتوں تک قید میں رکھا گیا تھا۔
خفیہ معلومات کے تجزیہ کار کے طور پر امریکی فوج میں کام کرنے والے میننگ نے مبینہ طور پر وکی لیکس کو امریکی حکومت کی ہزاروں سفارتی اور فوجی دستاویزات فراہم کی تھیں جن کی اشاعت سے دنیا بھر میں سنسنی پھیل گئی تھی۔
ان میں افغانستان اور عراق کی جنگ سے متعلق چار لاکھ ستر ہزار دستاویزات کے علاوہ امریکی محکمہ خارجہ کی دو لاکھ پچاس ہزار دستاویز بھی شامل تھیں جن میں دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں کے واشنگٹن کو بھیجے جانے والے مراسلے شامل تھے۔
دنیا بھر میں بریڈلی میننگ کے حمایتیوں کا خیال ہے کہ ان دستاویزات کو منظرِ عام پر لانا ضمیر کی آواز تھی۔ بریڈلے میننگ کو بہت سے لوگ ہیرو کے طورپر مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جنگی جرائم سے پردہ ہٹایا اور خِلیجی ممالک میں عرب سپرنگ کے نام سے یاد کیے جانے والے جمہوریت کے لیے تحریک کو متحرک ہونے میں مدد کی۔







