میننگ کو مجرم قرار دینا خطرناک روایت ہے: اسانژ

وکی لیکس ویب سائٹ کے بانی جولین اسانژ نے امریکہ کی ایک فوجی عدالت کی طرف سے وکی لیکس کو خفیہ معلومات فراہم کرنے والےامریکی فوجی بریڈلی میننگ کو جاسوسی کا مجرم قرار دینے کو ایک ’خطرناک روایت‘ قرار دیا ہے۔
امریکہ کی ایک فوجی عدالت نے وکی لیکس کو خفیہ معلومات فراہم کرنے والےامریکی فوجی بریڈلی میننگ کو مجرم قرار دے دیا تھا البتہ عدالت نےبریڈلی میننگ کے خلاف ’دشمن کی مدد‘ کا الزام نہیں مانا۔
<link type="page"><caption> وکی لیکس کیس، بریڈلی میننگ مجرم قرار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/07/130730_manning_guilty_wikileaks_case_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’جنگی رپورٹس اور خفیہ دستاویزات افشا کیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/02/130228_wikileaks_manning_trial_rk.shtml" platform="highweb"/></link>
جولین اسانژ نے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ’قومی سلامتی کی خطرناک اور شدت پسند‘ شکل ظاہر کرتا ہے۔
انھوں نے عدالتی کارروائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’یہ کبھی بھی شفاف مقدمہ نہیں تھا۔‘
وکی لیکس کے بانی نے کہا کہ’بریڈلے میننگ نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ وہ ایک ہیرو ہے جو حکومت سے شفافیت اور احتساب کا مطالبہ کرتا ہے اور جو امریکی حکومت کے مجرمانہ اقدامات امریکی عوام اور دنیا پر آشکارہ کر رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں صرف امریکہ کا غرور متاثر ہوا ہے۔
جولین اسانژ نے کہا کہ امریکی انصاف کے نظام میں دو اپیل کی گنجائش ہے اور ’وکی لیکس اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک وہ آذاد نہ ہو‘۔
پچیس سالہ بریڈلی میننگ کو دشمن کی مدد کرنے سمیت بائیس الزامات کا سامنا تھا۔
عدالت نے بریڈلی پر چوری اور کمپیوٹر فراڈ سمیت بیس الزامات کو مان لیا تھا۔
بریڈلی میننگ کو لمبے عرصے تک جیل میں رہنا پڑے گا۔ اگر ان کے خلاف’دشمن کی مدد‘ کا الزام مان لیا جاتا تو انہیں ساری زندگی جیل میں گزارنی پڑ سکتی تھی۔
بریڈلی میننگ کی سزا کا تعین بعد میں کیا جائےگا۔ انہیں زیادہ سے زیادہ ایک سو چھتیس سال قید ہو سکتی ہے اور بدھ سے سزا کے بارے میں سماعت شروع ہو گی۔
بریڈلی میننگ نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے دستاویزات وکی لیکس کو فراہم کی تھی اور کا مقصد امریکہ کی خارجہ پالیسی پر بحث شروع کرانا تھا۔

میننگ پر جاسوسی کے کئی الزامات کے علاوہ ان کو چوری کے پانچ، کمپیوٹر فراڈ کے دو اور فوجی خلاف ورزیوں کے کئی الزامات میں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔
سپاہی بریڈلی میننگ نے دو ہزار سات میں امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔عراق میں فوجی تجزیہ کار کے طور پر تعینات میننگ کو مئی سال دو ہزار دس میں عراق سے ہی گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں امریکہ منتقل کرنے سے پہلے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر کئی ہفتوں تک قید میں رکھا گیا تھا۔
خفیہ معلومات کے تجزیہ کار کے طور پر امریکی فوج میں کام کرنے والے میننگ نے مبینہ طور پر وکی لیکس کو امریکی حکومت کی ہزاروں سفارتی اور فوجی دستاویزات فراہم کی تھیں جن کی اشاعت سے دنیا بھر میں سنسنی پھیل گئی تھی۔
دنیا بھر میں بریڈلے میننگ کے حمایتیوں کا خیال ہے کہ ان دستاویزات کو منظرِ عام پر لانا ضمیر کی آواز تھی۔ بریڈلے میننگ کو بہت سے لوگ ہیرو کے طورپر مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جنگی جرائم سے پردہ ہٹایا اور خِلیجی ممالک میں عرب سپرنگ کے نام سے یاد کیے جانے والے جمہوریت کے لیے تحریک کو متحرک ہونے میں مدد کی۔







