صحرائے سینا: حملے میں 24 پولیس اہلکار ہلاک

مصر میں فوج نے حال ہی میں صحرائے سینا میں مسلح گرہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی ہیں
،تصویر کا کیپشنمصر میں فوج نے حال ہی میں صحرائے سینا میں مسلح گرہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی ہیں

مصر میں صحرائے سینا کے علاقے میں ایک حملے میں چوبیس پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ معزول صدر محمد مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمین کے چھتیس حامیوں کی جیل سے منتقلی کے دوران ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

درین اثناء آج یورپی یونین کے سفیر ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جہاں حالیہ بحران کے پیشِ نظر یورپی یونین کی جانب سے مصر کو دی جانے والی امداد پر نظرِ ثانی کی جا رہی ہے۔

یورپی یونین نے مصر کے لیے اس سال اور گزشتہ سال کئی ارب ڈالر کی امداد اور قرضے منظور کیے تھے۔

طبی ذرائع اور حکام کا کہنا ہے کہ صحرائے سینا میں پولیس کے اہلکار دو بسوں میں سفر کر رہے تھے جب غزہ کی سرحد کے قریب رافع کے مقام کے قریب مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا۔

واقعے کے دوران دھماکے میں تین پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

مصر میں فوج نے حال ہی میں صحرائے سینا میں مسلح گرہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی ہیں۔

صحرائے سینا میں دو ہزار گیارہ میں صدر حسنی مبارک کی حکومت گرنے کے بعد سے مسلح گروہوں کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

صحرائے سینا میں فوجی تعیناتی اسرائیل اور مصر کے درمیان سنہ انیس سو انہتر میں کیے گئے امن معاہدے کے تحت کی جاتی ہے۔

پیر کی صبح ہوئے اس واقعے میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ چار مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں کی دو بسوں کو روکا اور اس میں سوار افراد کو بسوں سے نکال کر گولیاں مار دیں۔

اس سے قبل اتوار کی شب قاہرہ کے ایک جیل سے ایک مضافاتی علاقے میں منتقلی کے دوران فرار کی کوشش کرنے والے 36 قیدی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان قیدیوں کا تعلق اخوان المسلمین سے بتایا جا رہا ہے۔

وزارتِ داخلہ نے ان ہلاکتوں کے حوالے سے پہلے کہا تھا کہ وہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں تاہم بعد میں حکام کا کہنا تھا کہ یہ ہلاکتیں آنسو گیس کی وجہ سے سانس گھٹنے سے ہوئی ہیں۔

مصر کی وزارتِ خارجہ نے سنیچر کو کہا تھا کہ ملک میں جاری مظاہروں میں اخوان المسلمین کے ایک ہزار سے زائد ارکان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مصر میں عبوری حکومت نے ملک میں ’ہنگامی صورتحال‘ نافذ کر رکھی ہے۔ تین جولائی کو عوامی احتجاج کے بعد مصری فوج نے صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا تاہم اس وقت سے اب تک ملک میں فوج کے اس اقدام کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے۔ ان مظاہروں میں آٹھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ مظاہروں میں پیش پیش رہنے والی معزول صدر محمد مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمین کا دعویٰ ہے کہ فوج نے احتجاج کو ختم کرنے کے لیے کم از کم دو ہزار افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا قاہرہ سے کہنا ہے کہ شہر میں زندگی کسی حد تک معمول پر آنا شروع ہو رہی ہے۔

دوسری جانب مصر کی کابینہ نے اتوار کو ایک خصوصی اجلاس میں ملک میں جاری بحران پر غور کیا۔

مصر کے عبوری وزیراعظم نے معزول صدر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کرنے والی جماعت اخوان المسلمین کو قانونی طور پر تحلیل کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی نے خبردار کیا تھا کہ فوج ملک میں جاری تشدد کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔

جنرل السیسی نے فوج اور پولیس کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں سب کے لیے جگہ ہے مگر تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔