اسرائیل کا 26 فلسطینی قیدی رہا کرنے کا اعلان

اسرائیلی حکومت نے فلسطینی حکام کے ساتھ اگلے ہفتے شروع ہونے والے امن مذاکرات سے قبل چھبیس فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اسرائیلی حکومت کے مطابق یہ قیدی منگل کو رہا کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کی رہائی سے قبل ان کے اہلخانہ کو مطلع کیا جائے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایک ہزار نئے گھر بنانے کے متنازع منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ان قیدیوں کی فہرست شائع کرنے اور ان کی رہائی میں اڑتالیس گھنٹوں کا وقت درکار ہو گا تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جاسکیں۔

<link type="page"><caption> اسرائیل اور فلسطین مذاکرات کا دوبارہ آغاز</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/07/130730_mideast_talks_resume_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> اسرائیل: یہودی بستیوں کے لیے مزید مراعات</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/08/130804_israel_settlements_expansion_sa.shtml" platform="highweb"/></link>

اسرائیلی حکام کے بقول رہا ہونے والے قیدیوں میں سے چودہ غزہ بھیجے جائیں گے اور آٹھ مغربی کنارہ۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ ان قیدیوں میں سے آٹھ کی رہائی تین سال بعد تھی جبکہ دو کی رہائی چھ ماہ بعد۔

دوسری جانب اسرائیل کے ہاؤسنگ و تعمیرات کے وزیر ایری ایرئیل نے کہا کہ یہ گھر مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنائے جائیں گے۔

یہ اعلان فلسطین اور اسرائیل کے درمیان یروشلم میں امن مذاکرات کے آغاز سے تین دن پہلے کیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل براہِ راست مذاکرات بھی ان بستیوں کے اعلان کی وجہ سے معطل ہو گئے تھے۔

امن مذاکرات ستمبر دو ہزار دس کے بعد سے معطل ہیں۔

یاد رہے کہ فلسطینیوں کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے اسرائیل نے سو سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سلسلے میں پہلا گروپ تیرہ اگست کو رہا کیا جائے گا۔

اسرائیل کے 1967 میں غربِ اردن اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے بنائی گئی ایک سو سے زیادہ آبادکاریوں میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ یہودی رہتے ہیں۔

فلسطینی ان علاقوں اور غزہ کی پٹی کے علاقوں پر مشتمل ایک فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

ایرئیل ایری نے کہا کہ مشرقی یروشلم میں آٹھ سو سے زیادہ گھر جبکہ چار سو سے زیادہ گھر مقبوضہ مغربی کنارے میں بنائے جائیں گے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں ہے جو دوسرے ممالک سے احکامات لیتا ہو کہ وہ کہاں تعمیرات کرسکتا ہے اور کہاں نہیں‘۔

ایرئیل ایری نے مزید کہا کہ ’ہم پورے ملک میں تعمیرات جاری رکھیں گے جو کہ صیہونیت اور ملک کی معیشت کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔‘

فلسطینی مذاکراتی ٹیم کے رکن محمد شاطی نے کہا کہ اسرائیل کے اس اقدام کا مقصد ’عالمی برادی کی جانب سے دیے گئے حل کی بنیادوں کو تباہ کرنا ہے جس کا مقصد 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک فلسطینی ریاست کا قیام تھا۔‘

شاطی نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ ’ان مذاکرات کا اپنی مرضی کے مطابق رخ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

مذاکراتی ٹیم کے سربارہ صائب اراکات نے رائٹرز کو بتایا کہ ’اگر اسرائیلی حکومت سمجھتی ہے کہ وہ آبادیاں بنانے کے سلسلے میں ایک حد پار کر سکتی ہے اور وہ اس طرح کے طرز عمل کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو وہ مذاکرات کے عدم استحکام کا پرچار کر رہے ہیں۔‘

سینئر فلسطینی رہنما ڈاکٹر حنان اشراوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم سمجھتے ہیں اسرائیل جان بوجھ کر امریکہ کو اور باقی دنیا کو پیغام دے رہا ہے کہ مذاکرات کو شروع کرنے کی کسی قسم کی کوششوں کے باوجود ہم لوگ مزید زمین چوری کرنے کے سلسلے کو جاری رکھیں گے اور اس پر مزید آبادیاں بنائیں گے اور دو ریاستی حل کے عمل کو نقصان پہنچائیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک بہت خطرناک پالیسی ہے اور اگر اس پر نظر نہیں رکھی جائے گی تو یہ بڑے خطرات پر منتج ہو گی اور اس کے نتیجے میں امن کے تمام تر امکانات تباہ ہو جائیں گے۔‘

فلسطینی صدر محمود عباس اس سے قبل اس بات پر اسرار کر چکے ہیں کہ مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہوں گے جب تک اسرائیل نئی آبادیوں پر پابندی نہیں لگاتا مگر انہوں نے اپنے اس موقف میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی جانب سے ثالثی کے بعد نرمی پیدا کی ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادیاں تعمیر کرنا بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی ہیں مگر اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

اس سے قبل پانچ اگست کو اسرائیل نے متعدد یہودی بستیوں کو مراعات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان آبادکاریوں کو کچھ عرصہ پہلے تک غیر قانونی تصور کیا جاتا تھا۔

بستیوں کی نگراں تنظیم ’پیش ناؤ‘ کا کہنا ہے کہ 91 آبادکاریوں میں سے تین کو گذشتہ سال قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔

سینئر فلسطینی رہنما حنان اشراوی کہہ چکی ہیں کہ تین سال معطل رہنے کے بعد بحال ہونے والے امن مذاکرات پر اس اقدام کا ’تباہ کن‘ اثر پڑے گا۔