اسرائیل: یہودی بستیوں کے لیے مزید مراعات

اسرائیل نے متعدد یہودی بستیوں کو مراعات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان آبادکاریوں کو کچھ ہی عرصہ پہلے تک غیر قانونی تصور کیا جاتا تھا۔
بستیوں کی نگراں تنظیم ’پیش ناؤ‘ کا کہنا ہے کہ 91 آبادکاریوں میں سے تین کو گذشتہ سال قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ان رعایتوں کا دیا جانا ضروری تھا۔
فلسطینی اہلکار حنان اشراوی کا کہنا تھا کہ تین سال معطل رہنے کے بعد گذشتہ ہفتے بحال ہونے والے امن مذاکرات پر اس اقدام کا ’تباہ کن‘ اثر پڑے گا۔
خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل بالکل یہی چاہتا ہے کہ امن مذاکرات اپنے طور چلتے رہیں مگر اسرائیل کے پاس امن مذاکرات کے مقصد کی خلاف ورزی کی کھلی چھوٹ ہو۔‘
انھوں نے کہا ’میرے خیال میں اب یہ اس عمل کے سپانسرز یعنی امریکہ اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کو فوری طور پر روکیں۔‘
فلسطینیوں کو مذاکرات پر راضی کرنے کے لیے اسرائیل نے ایک سو قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی تھی تاہم ان میں سے کسی کو ابھی تک رہا نہیں کیا گیا۔
قیدیوں کے پہلے گروپ کو 13 اگست کو رہا کیا جانا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہودی بستیوں کے تنازع کی وجہ سے ستمبر 2010 میں ہونے والے براہِ راست مذاکرات معطل ہوگئے تھے۔
.اسرائیل کے سنہ 1967 میں غربِ اردن اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے بنائی گئی ایک سو سے زیادہ آبادکاریوں میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ یہودی رہتے ہیں۔
یہ بستیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، تاہم اسرائیل اس موقف کو نہیں مانتا۔
اتوار کے روز اسرائیلی کابینہ نے چھ سو سے زیادہ قصبوں کی فہرست جاری کی جن کو ترقیاتی کام کے لیے ترجیحی قرار دیا گیا۔ ان علاقوں کو ریاستی رعایت اور مراعات کا ضرورت مند قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیل اکثر یہ فہرست جاری کرتا ہے اور ایسے علاقوں کو تبدیل کرتا رہتا ہے۔
تازہ ترین فہرست میں 91 بستیوں کو شامل کیا گیا جبکہ گذشتہ دسمبر میں یہ تعداد 85 تھی۔
اطلاعات کے مطابق اس اقدام کے خلاف اسرائیل کابینہ میں عدم اتفاقِ رائے پیدا ہوا ہے۔ کابینہ کے چار ممبران نے اس معاملے پر ووٹ نہیں ڈالا۔ ان میں وزیرِ ماحولیات امیر پریتز شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیاسی چال ہے جو امن کی کوششوں کے خلاف ہے۔
وزیرِ انصاف اور فلسطینیوں کے ساتھ مرکزی مذاکرات کار نے بھی اس فیصلے میں حمایتی ووٹ نہیں ڈالا۔







