مذاکرات منسوخ کرنے سے مایوسی ہوئی: روس

یوری اوشاکوف کا کہنا تھا کہ سربراہی سطح پر دو طرفہ بات چیت کے لیے اب بھی کھلی دعوت ہے
،تصویر کا کیپشنیوری اوشاکوف کا کہنا تھا کہ سربراہی سطح پر دو طرفہ بات چیت کے لیے اب بھی کھلی دعوت ہے

روس نے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کو روس میں پناہ دینے کے بعد امریکہ کی طرف سے دو طرفہ سربراہی بات چیت کو منسوخ کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے بدھ کو سی آئی اے کے سابق اہلکار کو روس میں پناہ دیے جانے کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتن سے اپنی متوقع ملاقات کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

روس نے امریکی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ روس کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کا خواہاں نہیں ہے۔

<link type="page"><caption> سنوڈن کو پناہ: اوباما نے پوتن سے ملاقات منسوخ کر دی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/08/130807_russia_usa_tension_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

روسی دفتر خارجہ کے ایک مشیر یوری اسکوف نے بدھ کو کہا کہ ایڈورڈ سنوڈن کے معاملے میں روس کا کوئی کردار نہیں ہے اور اس کے لیے روس کو مورد الزام نہیں ٹہرایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ امریکہ کے سابق جاسوس کے حالات کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو ہم نہیں پیدا نہیں کیے۔‘

یوری اسکوف نے امریکی اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ا مریکہ روس کے ساتھ برابری کے بنیاد پر تعلقات استوار نہیں کرنا چاہتا۔‘

روسی وزارت خارجہ کے مشیر نے کہا کہ ’امریکہ نے ہمیشہ روس کے ساتھ مطلوب افراد کی حوالگی کا معاہدہ کرنے سے انکار کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’روس کے خلاف جرائم میں شریک لوگوں کو امریکہ میں پناہ ملی ہے اور جب روس نے ان افراد کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تو امریکہ نے اس حوالے سے کسی قسم کے معاہدے کی غیر موجودگی کو جواز بنا کر ہمیشہ نفی میں جواب دیا ہے۔‘

یوری اوشاکوف کا کہنا تھا کہ سربراہی سطح پر دو طرفہ بات چیت کے لیے اب بھی کھلی دعوت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’روس کے نمائندے اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ دو طرفہ اور دیگر امور پر کام جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔‘

اس سے پہلے امریکی صدر نے بدھ کو کہا تھا کہ سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کو روس میں پناہ دیے جانے سے انہیں سخت مایوسی ہوئی ہے۔

البتہ امریکی صدر ستمبر میں روسی شہر پیٹرزبرگ میں جی ٹوئنٹی ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک مشیر نے بھی کہا تھا کہ ایڈورڈز سنوڈن کو پناہ دینے کے بعد امریکہ اور روس کے مابین پہلے سے پائی جانی والی خلیج اب مزید گہری ہوگئی ہے۔

امریکی وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں روس کے ساتھ سربراہی ملاقات کو معطل کرنا زیادہ مثبت قدم ہے۔

امریکی اور روس کے صدور کی آخری ملاقات رواں برس جون میں ہوئی تھی۔