ایڈورڈ سنوڈن کا پناہ دینے پر روس کا شکریہ

ایڈورڈ سنوڈن
،تصویر کا کیپشنایڈورڈ سنوڈن تیئیس جون کو ہانگ کانگ سے ماسکو پہنچے تھے

امریکہ کے خفیہ راز افشاء کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے عارضی پناہ دینے پر روس کا شکریہ ادا کیا ہے۔

جمعرات کو سنوڈن نے روس کے دارالحکومت ماسکو کا ہوائی اڈا چھوڑ دیا جہاں وہ جون سے رہائش پذیر تھے۔

دریں اثناء امریکہ نے روس کے فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں امریکی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے عالمی قوانین کا کوئی احترام نہیں کیا۔

ایڈورڈ سنوڈن امریکہ میں حکومت کی طرف سے لوگوں کی نگرانی کرنے کے خفیہ پروگرام ’پرزم‘ کی تفصیلات سامنے لانے کے الزام میں امریکی حکام کو مطلوب ہیں۔

ایڈورڈ سنوڈن نے وکی لیکس پر جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ’ گزشتہ آٹھ ہفتوں کے دوران ہم نے دیکھا کہ اوباما انتظامیہ نے بین الاقوامی اور مقامی قوانین کا احترام نہیں کیا لیکن آخر میں قانون ہی جیت رہا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا’میں روسی حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے مجھے مقامی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت عارضی پناہ دی‘۔

دوسری جانب امریکہ نے روس کے فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے کے مطابق ہم دیکھ رہے ہیں کہ آیا ستمبر میں صدر اوباما اور روسی صدر پوتن کی طے شدہ ملاقات ہونی چاہیے۔

یہ ملاقات روس کے شہر سینٹ پیٹرس برگ میں دنیا کی بیس بڑی معاشی طاقتوں یعنی جی ٹوئنٹی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات ہونی ہے۔

تاہم اب وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق’ہمیں اس بات پر شدید مایوسی ہوئی ہے کہ سنوڈن کو الزامات کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ کے حوالے کرنے سے متعلق روسی حکومت نے ہماری نجی طور پر اور کھلے عام کی گئیں ہماری بہت واضح قانونی درخواستوں کے برعکس یہ قدم اٹھایا۔‘

اس سے پہلے جمعرات کو سنوڈن کے وکیل ایناتولی کچرینا نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کےموکل کو روسی سرزمین میں داخلے کے لیے ضروری کاغذات دے دیے گئے ہیں۔

سنوڈن تئیس جون کو ہانگ کانگ سے ماسکو پہنچے تھے۔

سنوڈن کی جانب سے کیے گئے انکشافات کے باعث دنیا بھر میں سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی اور امریکہ کے اتحادی اور روایتی حریف دونوں ہی پریشان ہو گئے تھے۔

امریکہ کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے روس کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ اگر وہ سنوڈن کو امریکہ کے حوالے کے حوالے کر دیں تو انہیں سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ تاہم روس نے کہا تھا کہ وہ سنوڈن کو امریکہ کے حوالے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔