مصر میں احتجاج جاری، دس مظاہرین ہلاک

محمد مرسی کے خاندان نے جرائم کی عالمی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے
،تصویر کا کیپشنمحمد مرسی کے خاندان نے جرائم کی عالمی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

محمد مرسی کی معزولی کے بعد ہونے والے احتجاج میں کم از کم ساٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات کو ہونے والی ہلاکتیں قاہرہ یونیورسٹی کے قریب محمد مرسی کے حامیوں کے دھرنے میں ہوئی ہیں۔

اخوان المسلیمن محمد مرسی کی معزولی اور مصر کی عبوری انتظامیہ کو قبول سے مسلسل انکار کر رہی ہے اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

محمد مرسی کو تین جولائی کو ان کے اقتدار کے پہلے برس کی تکمیل پر ملک میں لاکھوں افراد کے مظاہروں کے بعد فوج نے اقتدار سے الگ کر دیا تھا اور اس کے بعد سے انہیں نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔

ان کی جماعت اخوان المسلمین نے اس اقدام کو فوجی بغاوت قرار دیا تھا اور اب ان کے خاندان کا بھی کہنا ہے کہ وہ سابق صدر کے ’تحفظ‘ کے لیے فوج کو ہی ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

ادھر محمد مرسی کے خاندان نے کہا ہے کہ وہ محمد مرسی کی معزولی کی تحقیقات کے لیے جرائم کی عالمی عدالت سے رجوح کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ محمد مرسی کی بیٹی شائمہ مرسی نے کہا ہے کہ فوجی سربراہ عبدالفتح السیسی کے خلاف عالمی اور مقامی سطح پر قانونی چارہ جوئی کی جائےگی۔

شائمہ مرسی نے کہا کہ ’ہم خونی فوجی بغاوت کے قائد عبدالفتح السیسی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقامی اور عالمی سطح پر قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔‘