افغانستان: سڑک کنارے نصب بم سے 17 افراد ہلاک

مغربی افغانستان میں سڑک کنارے نصب ایک بم کے پھٹنے سے سترہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں بارہ خواتین اور چار بچے بھی شامل ہیں۔
پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے دس کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔
پولیس نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ہیرات صوبے میں یہ بم ایک ٹریلر کے قریب نصب کیا گیا تھا جسے شہریوں کی آمد و رفت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے یہ بم بظاہر افغان فوجیوں پر حملہ کرنے کے لیے نصب کیا تھا تاہم بم شہریوں کی گاڑی کے قریب پھٹ گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد اوب ضلع میں اپنے گاؤں سے ایک قریبی قصبے کی جانب سفر کر رہے تھے جب ان کی گاڑی ایک دیسی ساختہ بم سے ٹکرا گئی۔
حملے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی جا رہی ہے تاہم انھوں نے اب تک اس کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔
گذشتہ دو سالوں میں افغانستان میں طالبان کی جانب سے دیسی ساختہ بموں کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور ان حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے اور خوف و ہراس کا ماحول بنا دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال میں اٹھارہ سو پولیس اہلکاروں اور نو سو فوجیوں میں سے زیادہ تر کو ہلاک کرنے میں ایسے ہی بم استعمال ہوئے ہیں۔
گذشتہ ہفتے جنوبی صوبے کندھار میں ایک ایسے ہی حملے میں آٹھ خواتین سمیت دس شہری ہلاک ہوگئے تھے۔







