ہنگو اور صوابی میں دھماکے، چھ افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں دو مختلف مقامات پر بم دھماکوں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ضلع ہنگو کی تحصیل دوآبہ میں بس اڈے کے قریب ایک دھماکے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔
دوآبہ تھانے کے ایس ایچ او محمد رحیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بم دھماکے میں قبائلی رہنما ملک حبیب کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملک حبیب گاڑی میں سوار نہیں تھے لیکن ان کے بھائی ملک غازی مرجان اس میں سوار تھے۔
پولیس افسر کے مطابق دوآبہ کے بس اڈے کے قریب ایک موٹرسائیکل سوار نے اپنی موٹر سائیکل ملک حبیب کی گاڑی سے ٹکرا دی۔
اس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے میں ملک غازی مرجان سمیت چار افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ایس ایچ او محمد رحیم کے بقول بظاہر یہ ایک خودکش حملہ ہے لیکن اس کے بارے میں حتمی طور پر تحقیقات کے بعد ہی کچھ بتایا جا سکتا ہے۔
دریں اثناء خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے مضافاتی علاقے جمال آباد میں ایک دھماکے کے نتیجے میں پولیس کا ایک سب انسپکٹر عالمگیر شاہ اور سپاہی محمد جنید ہلاک ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پبولیس حکام کے مطابق انہیں جمال آباد میں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔
حکام کے مطابق ابھی بم ڈسپوزل سکواڈ کا عملہ دھماکہ خیز مواد کے قریب پہنچنے ہی والا تھا کہ اس دوران مواد دھماکے سے پھٹ گیا اور اس کے نتیجے میں سب انسپکٹر عالمگیر شاہ اور سپاہی محمد جنید ہلاک ہو گئے۔
واضح رہے کہ ضلع ہنگو میں شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں اور کچھ عرصہ قبل ہنگو میں ہی پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا اور اس واقعے کے بعد علاقے میں کئی روز تک کشیدگی رہی تھی۔
ضلع ہنگو کے علاقے دوآبہ میں شدت پسندوں کے حملوں میں سکیورٹی فورسز کے کئی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور اس علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے ماضی میں کارروائیاں بھی کی ہیں جن میں ہیلی کاپٹرز اور توپ خانے کا استعمال بھی کیا گیا۔







