ہنگو: فائرنگ میں تحریک انصاف کے رہنما ہلاک

 فرید خان نے گیارہ مئی کے عام انتخاب میں پہلی مرتبہ حصہ لے کر سیاست کے میدان میں بھی قدم رکھا تھا
،تصویر کا کیپشن فرید خان نے گیارہ مئی کے عام انتخاب میں پہلی مرتبہ حصہ لے کر سیاست کے میدان میں بھی قدم رکھا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے تحریک انصاف کے رہنما اور ممبر صوبائی اسمبلی فرید خان ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس واقعے کے بعد ہنگو شہر میں مشتعل افراد کی توڑ پھوڑ کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ہنگو کے محلہ سنگیر میں فرید خان ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔

فائرنگ کے نتیجے میں فرید خان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے ایک بھائی اور ایک راہگیر بچی اس واقعے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

فائرنگ سے گاڑی میں سوار فرید خان کے ایک ڈرائیور بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

فرید خان کے حامیوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا ہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری نے ہنگو ہسپتال کو گھیرے میں لے لیا اور ہنگاموں کی وجہ سے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

ہنگو پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہو سکی اور اب تک یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ اس حملے میں کون لوگ ملوث ہیں۔

فرید خان نے گیارہ مئی کے عام انتخاب میں پہلی مرتبہ حصہ لے کر سیاست کے میدان میں بھی قدم رکھا تھا۔

آزاد حیثیت میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد میں تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔

فرید خان نے ہنگو سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے مضبوط ترین امیدوار عتیق الرحمان کو شکست دی جو اس سے پہلے دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔

فرید خان بچپن سے علاقے میں فلاحی کاموں میں دلچسپی لیتے رہے جس کی وجہ سے ان کا عوام سے ایک مضبوط رابط قائم رہا اور بعد میں وہ اسی بنیاد پر ضلع میں ایک رہنما کے طور پر بھی سامنے آئے۔ وہ لوگوں کے مسائل بغیر کسی مالی فائدے کے حل کرنے کے حوالے سے پورے علاقے میں شہرت رکھتے تھے۔

صوبائی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب وہ ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں کاغذات نامزدگی داخل کرانے گئے تو اس وقت ان کے جیب میں صرف سو روپے تھے جو اس وقت ان کا کل اثاثہ تھا۔

ان کے مطابق انتخابی مہم کے زیادہ تر اخراجات بھی ان کے دوستوں اور رشتہ دار نے برداشت کیے۔