افغانستان نے طالبان سے مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی

دوحہ میں طالبان کے اسی دفتر پر لگے پرچم اور تختی کے حوالے سے اختلافات کا جنم ہوا
،تصویر کا کیپشندوحہ میں طالبان کے اسی دفتر پر لگے پرچم اور تختی کے حوالے سے اختلافات کا جنم ہوا

افغان حکام نے کہا ہے کہ قطر میں طالبان کے دفتر سے جھنڈا اتارنے اور نام کی تختی ہٹانا کافی نہیں ہے۔ افغان امن کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دفتر صرف امن مذاکرات کے لیے ہے اور وہ طالبان کی بیانات سے ناخوش ہیں۔

افغانستان کی امن کونسل کے رکن محمد اسمٰعیل قیسیمار نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ وہ طالبان انتظامیہ ہے جو ہم نہیں چاہتے۔‘

اس سے قبل امریکی وزیرِخارجہ جان کیری نے افغان صدر حامد کرزئی کو فون کر کے کشیدگی دور کرنے کی کوشش کی تھی۔

انھوں نے افغان صدر کو بتایا کہ قطر میں طالبان کی جانب سے جھنڈا اتارا جا چکا ہے اور نام کی تختی پر اب بیوریو برائے امن مذاکرات لکھا جائے گا۔

قیسیمار نے کہا کہ مذاکرات کاروں کو طالبان کے اس بیان پر اعتراض ہے جو انھوں نے دفتر کھولنے کے بعد دیا تھا۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ بیرونی اداروں، مثلاً اقوامِ متحدہ سے بھی رابطہ کریں گے۔

قیسیمار کا کہنا تھا کہ دوحہ میں طالبان کے دفتر کا اجرا اس طرح ہوا جیسے وہ ان کا خارجی امور کا دفتر ہو اور بیرونی دنیا سے رابطے کے لیے اس کا قیام کیا گيا ہے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا موقف ہے کہ ان کی حکومت اس وقت تک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل نہیں ہوگی جب تک بات چیت کا عمل ’افغان قیادت‘ میں نہیں ہوتا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قطر میں طالبان کے دفتر کا مطلب یہ ہے کہ اب طالبان محض لڑاکا فوج ہی نہیں بلکہ سیاسی قوت بھی ہیں۔

اس سے قبل آنی والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ افغان صدر حامد کرزئی اور امریکہ کے درمیان اختلافات کے سبب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں توقع کے مطابق امریکہ اور طالبان کے درمیان جمعرات کو ہونے والی بات چيت موخر کر دی گئی ہے۔

دوسری طرف امریکی یقین دہانیوں کے باوجود افغان صدر حامد کرزائی کے مذاکرات کار اس بات چيت میں حصہ نہ لینے کے فیصلے پر قائم ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارہ روئٹرز کے مطابق دوحہ کے مذاکرات میں شامل اسے اہم ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ جمعرات کو بات چيت نہیں ہو پائے گی۔

اس سے قبل امریکہ نے دوحہ میں طالبان کے ساتھ برہ راست مذاکرات جلد ہونے کی بات کہی تھی جس کے مطابق پہلی ملاقات جمعرات کو ہونا طے تھی۔

افغان صدر امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات سے خوش نہیں ہیں
،تصویر کا کیپشنافغان صدر امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات سے خوش نہیں ہیں

دیر رات گئے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے افغان صدر حامد کرزئی سے فون پر بات چيت کی تھی اور قطر میں طالبان کے دفتر کے حوالے سے ان کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی تھی۔

لیکن جمعرات کی صبح افغان کے مذاکرات کاروں نے کہا کہ وہ بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے۔

ادھر قطر کی وزارت خارجہ نے بھی اس حوالے سے ایک بیان جاری کر کے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ دوحہ میں طالبان کے دفتر کا نام ’پولیٹیکل بیورو فار طالبان ان دوحہ‘ ہے نہ کہ ’پولیٹیکل بیورو آف اسلامی امارت آف افغانستان۔‘

اس سے قبل افغان صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گيا تھا کہ افغان مذاکرات کار اس وقت تک قطر بات چیت سے دور رہیں گے جب تک ’غیر ملکی طاقتیں‘ اس کی اجازت نہیں دیتی کہ یہ عمل افغان عوام چلائیں۔

’جب تک امن مذاکرات کا عمل افغانستان کے ہاتھ میں نہیں آتا، اعلیٰ مذاکرات کونسل قطر میں طالبان سے مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گی۔‘