’افغان طالبان کا دورۂ ایران، حکام سے مذاکرات‘

افغان طالبان کے اعلامیے کے مطابق ایرانی حکام کے ساتھ دوطرفہ علاقائی امور سمیت دیگر موضوعات بات چیت کی گئی
،تصویر کا کیپشنافغان طالبان کے اعلامیے کے مطابق ایرانی حکام کے ساتھ دوطرفہ علاقائی امور سمیت دیگر موضوعات بات چیت کی گئی

افغان طالبان نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ماہ طالبان کے وفد نے ایران کے دورے پر ایرانی حکام سے ملاقات کی لیکن کابل میں ایران کے سفارت خانے نے دورے کی تردید کی ہے۔

تاہم افغان طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی کے مطابق چند روز قبل طالبان کے سیاسی کمیشن کے ایک وفد نے ایرانی حکام کی دعوت پر ایران کا دورہ کیا تھا۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نے خبر دی تھی کہ گذشتہ ماہ طالبان کے ایک وفد نے ایران کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے میں افغان طالبان نے ایرانی حکام سے ملاقات کی اور دوطرفہ اور علاقائی امور سمیت دیگر موضوعات پر بات چیت کی۔

بی بی سی کو بھیجے گئے اعلامیے میں طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی کا کہنا ہے کہ چند روز قبل طالبان کے سیاسی کمیشن کے ایک وفد نے ایرانی حکام کے ساتھ دوطرفہ علاقائی امور سمیت دیگر موضوعات پر بات چیت کی گئی۔

بی بی سی کے نامہ نگار احمد ولی مجیب کے مطابق اتوار کو کابل میں موجود ایرانی سفارت خانے نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان کی جانب سے ایسا کوئی دورہ نہیں ہوا۔

یہ خبریں اس وقت سامنے آئیں جب ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نے یہ خبر دی تھی کہ طالبان نے ایران میں عسکری اور سیاسی قیادت سے ملاقات کی ہے۔ لیکن اس خبر کے بعد طالبان اور ایرانی حکام کی جانب سے اس خبر کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی کے مطابق یہ دورہ ایرانی حکام کی دعوت پر ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان کی جانب سے یہ ایران کا پہلا دورہ نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی طالبان کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے ایران کا دورہ کیا تھا۔ طالبان وفد نے تہران میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی تھی۔‘

طالبان کے مطابق انہوں نے اس کانفرنس میں نہ صرف افغانستان میں جاری مزاحمت کے بارے میں شرکاء کے سامنے اپنا موقف رکھا بلکہ دنیا بھر میں جاری اہم موضوعات اور بدلتے حالات پر اپنا نقطۂ نظر بیان کیا۔

حالیہ دورے کے بارے میں طالبان کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس دورے میں طالبان وفد نے ایرانی حکام کے ساتھ علاقائی صورتحال کے علاوہ ایران میں موجود افغان مہاجرین کو درپیش مشکلات پر بھی بات کی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ایران میں افغان مہاجرین کو مشکلات درپیش ہیں جن کا سدباب ضروری ہے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ اس دورے کے بعد ان کا وفد ایران سے واپس لوٹ آیا ہے ۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وفد قطر کے دارالحکومت دوحہ سے گیا ہوگا جہاں اس وقت بھی طالبان کے ایک درجن سے زائد رہنما موجود ہیں۔

ایران کے اس دورے سے قبل طالبان کے رہنما جاپان اور فرانس کا دورہ کر چکے ہیں جہاں انہوں نے افغانستان کے حوالے سے کانفرنسوں میں شرکت کی تھی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق طالبان کا دورہ ایران افغانستان کے بدلتے حالات کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔

ماضی میں طالبان اور ایرانی حکومت کے مابین تعلقات انتہائی کشیدہ رہے ہیں۔ خصوصاً افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے دور میں مزار شریف میں ایرانی سفارت کاروں کی ہلاکت کے بعد اس میں مزید تلخی آگئی تھی۔

طالبان اور ایرانی حکومت کی اس قربت پر افغان وزارت خارجہ کو بھی تشویش ہے اور اس ضمن میں کابل میں موجود ایرانی سفارت خانے سے اس دورے کی تفصیلات مانگی ہیں۔