مصری صدر کا اغواکاروں سے مصالحت سے انکار

مصری صدر محمد مرسی نے گذشتہ ہفتے وادیِ سینا سکیورٹی فورسز کے سات اہل کاروں کے اغوا کرنے والوں سے کسی قسم کی مصالحت کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔
محمد مرسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مجرموں کے ساتھ بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘
ان کا یہ بیان بظاہر ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد آیا ہے جس میں تین پولیس اہل کار اور چار فوجیوں کو رہائی کی دہائی دیتے دکھایا گیا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ ان سات سکیورٹی فورسز کے اغواکار ان کی رہائی کے بدلے بعض سیاسی قیدیوں کی جیل سے خلاصی چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ مرسی کا یہ بیان اتوار کو مصر کے سینيئر رہنماؤں سے ملاقات کے بعد آيا ہے۔
صدر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے کہ مغوی سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کے لیے ’تمام متبادل اقدامات مذاکرات کی میز پر ہیں‘ اور یہ کہ قاہرہ کی حکومت ’بلیک میلنگ کے سامنے نہیں جھکے گی۔‘
یہ سات افراد گذشتہ ہفتے شمالی سینا میں العارش شہر کے مشرق سے اس وقت اغوا کیے گئے تھے جب وہ ایک منی بس میں سفر کر رہے تھے۔
اس سے قبل حکومت کی میڈیا نے کہا تھا کہ مقامی بدوؤں کو اس معاملے میں ثالثی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتوار کو آن لائن پر پوسٹ کیے گئے غیر مصدقہ ویڈیو میں سات افراد کی آنکھوں پر پٹی اور ان کے ہاتھ سروں پر بندھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ان میں سے ایک نے صدر مرسی سے سینا میں قید سیاسی لوگوں کی رہائی کے عوض اپنی رہائی کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ مصر کا یہ خطہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کی 2011 میں برطرفی کے بعد سے لاقانونیت کا شکار رہا ہے اور یہاں کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں مغربی ممالک کے سیاحوں اور دوسرے بیرونی لوگوں کو اغوا کیا گیا ہے۔
شمالی سینا کے اسلام پسند جنگجو ان علاقوں میں مرکزی حکومت کی کمزور گرفت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیلی سرحد کے پار بھی حملے کرتے رہتے ہیں۔
مصری بدو اپنے قبیلے کے لوگوں کی جیل سے رہائی کے لیے بھی اغوا کا سہار لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو دہشت گردی اور منشیات کی غیر قانونی تجارت کے غلط مقدموں میں ماخوذ کیا گیا ہے۔







