مصر: حسنی مبارک کو جیل منتقل کرنے کا حکم

حسنی مبارک مصر کے تیس سال تک صدر رہے
،تصویر کا کیپشنحسنی مبارک مصر کے تیس سال تک صدر رہے

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو فوجی ہسپتال سے دوبارہ جیل میں منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

قاہرہ میں اپیل عدالت نے معزول صدر حسنی مبارک کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت گیارہ مئی سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ سماعت گزشتہ ہفتے شروع ہونا تھی تاہم جج کے اس مقدمے سے علیحدہ ہونے کے اعلان کی وجہ سے سماعت ملتوی کرنا پڑی تھی۔

حسنی مبارک کو گزشتہ سال 2011 میں ان کی حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے والے افراد کی ہلاکتوں کی سازش کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

انہیں اس جرم میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی تاہم انہوں نے اس کے خلاف اپیل کی تھی جو منظور ہوئی اور مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا گیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عدالتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کیس کی سماعت جج محمود الراشدی کی سربراہی میں ہو گی۔

سابق صدر حسنی مبارک، ان کے دو بیٹوں اور ایک کاروباری شخصیت حسین سلیم کو کرپشن کے الزامات میں بھی عدالتی کارروائی کا سامنا ہو گا۔

مصر کی اپیل کورٹ نے مارچ کے اوائل میں سابق صدر حسنی مبارک پر تیرہ اپریل سے دوبارہ مقدمہ چلانے حکم دیا تھا۔