شام کو ہتھیار فراہم کرنے پر امریکہ کی تنقید

امریکہ نے روس کی جانب سے شام کو میزائل فراہم کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’بدقسمت فیصلہ‘ قرار دیا ہے۔

امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس نے شام کو اینٹی شپ میزائل بھجوائے ہیں۔

امریکی اخبار ’دی نیویارک ٹائمز‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ مستقبل میں اگر شام میں غیر ملکی فوجی مداخلت ہوتی ہے تو اس صورت میں وہ ان میزائلوں کا استعمال کر سکتا ہے۔

اس رپورٹ کی تصدیق کیے بغیر، روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروو نے کہا ہے کہ شام کو ہتھیاروں کی فراہمی میں کسی بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

یہ ساری خبریں اس وقت آ رہیں ہیں جب شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کیے جانے کی خبروں کے مبینہ ثبوت ملے ہیں جسے امریکی صدر اوباما نے ’خطرے کی گھنٹی‘ قرار دیا ہے۔

روس، شام کے چند ساتھی ممالک میں سے ایک ہے، ساتھ ہی وہ شام کو ہتھیار فراہم کرنے والا ایک اہم ملک بھی ہے اور گزشتہ چند سالوں میں روس نے اربوں ڈالر کے ہزاروں ٹینک، لڑاکا جہاز، ہیلی کاپٹر اور حفاظتی نظام شام کو فروخت کیے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں روس نے شام کو جدید میزائل اور اعلی درجے کا ریڈار کا نظام فروخت کیا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے کہا ’انہیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ میڈیا اسے اتنا سنسنی خیز بنانے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟‘۔

انہوں نے کہا ’ہم نے کچھ بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، ہم نے کسی بھی بین الاقوامی معاہدے یا اپنے ملک کے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ ہم نے معاہدہ کے تحت ہی شام کو ہتھیاروں کی فراہمی کی ہے‘۔

اسی دوران شام کے تنازع کو حل کرنے کے حوالے سے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے کانفرنس کی منصوبہ بندی پر بحث کرنے کے لیے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروو سے ملاقات کی ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بان گی مون نے کہا ہے کہ کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے بات چیت جاری ہے تاہم سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ صبر کا دامن نہ چھوڑا جائے۔

ادھر اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے جمعہ کو کہا ہے کہ 15 لاکھ سے زیادہ شامی پناہ گزینوں کو رجسٹرڈ کیا جا چکا ہے۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق شامی پناہ گزین بھاگ کر اردن اور لبنان میں پناہ لے چکے ہیں تاہم ان کی صحیح تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق شام کے تنازع میں اب تک 80,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔