’اسرائیلی حملے میں بیالیس ہلاک، درجنوں لاپتہ‘

شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے گروپ کا کہنا ہے کہ پیر کو اسرائیلی فضائی حملے میں بیالیس افراد ہلاک جبکہ ایک سو سے زیادہ لاپتہ ہیں۔

شام میں حکومت مخالف اس گروپ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب روس کے صدر ویلادیپر پیوتن اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے درمیان ماسکو میں شام کی صورتحال پر مذاکرات ہوں گے۔

واضح رہے کہ شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے دارالحکومت دمشق کے نواح میں جبلِ قاسیون نامی علاقے میں واقع ایک فوجی تحقیقی مرکز سمیت تین مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

یہی فوجی مرکز جنوری میں بھی اسرائیلی حملے کا نشانہ بنا تھا۔ اور وہاں سے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنان کی شدت پسند تنظیم حزب اللہ کو بھیجے جانے والے ہتھیاروں کو نشانہ بنایا ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے سرکاری طور پر اس حملے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

شامی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جو تین فوجی مقامات نشانہ بنے ہیں ان میں جمرایہ میں واقع عسکری تحقیقی مرکز، دمشق کے علاقے الدماس میں پیراگلائیڈنگ کی ہوائی پٹی اور میسالون میں ایک مقام شامل ہے۔

شامی وزارتِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ’اب اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ اسرائیل شام میں جاری دہشتگردی کی کارروائیوں کو شہ دینے والا، اس سے فائدہ اٹھانے والا اور بعض اوقات خود ایسی کارروائیاں کرنے والا ملک ہے۔‘

دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے دمشق میں حکام کا کہنا ہے کہ شام اسرائیلی جارحیت کا جواب دے گا اور اس کے لیے موزوں وقت کا انتخاب کیا جائے گا۔

’ہو سکتا ہے کہ جوابی کارروائی ابھی نہ کی جائے کیونکہ اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔ ہم انتظار کریں گے لیکن اس جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا۔‘

دریں اثناء روس کے دفترِ خارجہ نے روسی صدر اور امریکی وزیر خارجہ کی ملاقات سے قبل ایک بیان میں مغربی ممالک سے کہا ہے کہ شام کے بحران پر سیاست نہ کی جائے۔