شام: فوجی کا ’دل کھانے‘ پر غم و غصہ

حمص
،تصویر کا کیپشنشام میں دو سال سے زیادہ عرصے سے مسلح بغاوت جاری ہے

ایک ویڈیو میں شام کے ایک باغی کو ایک مردہ فوجی کا دل نکال کر اسے کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کی عالمی پیمانے پر سخت مذمت کی جا رہی ہے۔

حقوق انسانی کے امریکی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے باغی کی شناخت ابو صقر کے طور پر کی ہے جو حمص شہر کا معروف باغی ہے۔

اس کے ساتھ ہیومن رائٹس واچ نے اس کے اس عمل کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔

شام کی اہم حزب اختلاف کے اتحاد نے کہا ہے کہ اس پر عدالتی کارروائی کی جائے گی۔

ویڈیو میں بظاہر یہ دکھایا گیا ہے کہ باغی اس کا دل کاٹ کر نکال رہا ہے۔ بہر حال اس ویڈیو کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

فوجی کی نعش کے پاس کھڑے ہو کر اس شخص نے صدر بشار الاسد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’اے کتے بشارکے فوجیو! بخدا ہم تمہارے دل اور جگر کھائیں گے۔‘

ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ ابو صقر آزاد گروپ عمر الفاروق بریگیڈ کا رہنما ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے پیٹر بوکارٹ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا: ’دشمن کی نعش کی بے حرمتی کرنا اس کے عضو کو کاٹنا جنگی جرائم میں شامل ہے لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ ہے فرقہ وارانہ بیان بازی اور تشدد جو وہاں تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔‘

ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو جاننا چاہیے کہ انہیں اس کی سزا ملے گی اور یہ کہ اس کے لیے کوئی معافی نہیں ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی ابو صقر کو لبنان کے شیعہ علاقے میں فائرنگ کرتے اور شامی فوج کے ہمراہ لڑنے والے حزب اللہ کے چھاپہ مار جنگجوؤں کی نعش کے ساتھ فلمایا جا چکا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مارچ 2011 میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت میں اب تک 70 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ شام کے سلسلے میں برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی آبزرویٹری کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 80،000سے زیادہ ہے۔

شام
،تصویر کا کیپشنشام میں بشار الاسد کے حکومت کے خلاف جاری جنگ میں دس لاکھ افراد وطن جان کے حفاظت کے لیے ترک وطن کر چکے ہیں

بہت سے شامی باشندے جنگ سے بچنے کے لیے ترکِ وطن کر چکے ہیں اور اب تک 10 لاکھ سے زیادہ افراد بطور پناہ گزین رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں جن میں سے کم از کم تین لاکھ شامی باشندے ترکی میں پناہ گزین ہیں۔

دریں اثنا روسی صدر ولادی میر پوتن اور اسرائيلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان سوچی کے بلیک سی ریسورٹ میں ہونے والی بات چیت کے دوران شامی جنگ اہم موضوع رہے گی۔

روس شام میں اسرائیلی فضائی حملے کے بارے میں تشویش رکھتا ہے جبکہ اسرائیل روس کے ذریعے دمشق کو دیئے جانے والے ہتھیاروں سے ناخوش ہے۔

سوموار کو صدر براک اوباما اور برطانوی وزیر اعظم کیمرون نے امید ظاہر کی ہے کہ روس شامی صدر بشار الاسد کو صدرات کا عہد چھوڑنے کے لیے راضی کرے گا۔