سعودی عرب میں سبزی فروش کی خود سوزی

سعودی عرب اب تک عرب انقلاب سے مجموعی طور پر محفوظ ہیں
،تصویر کا کیپشنسعودی عرب اب تک عرب انقلاب سے مجموعی طور پر محفوظ ہیں

سعودی عرب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایک شخص نے حکام کے رویے کے خلاف احتجاجاً خود سوزی کر لی ہے۔

بی بی سی کو اس واقعے کی اطلاع ملی ہے اور یہ دو سال پہلے تیونس میں شروع ہونے والے عرب انقلاب کی یاد تازہ کرتا ہے۔

خود سوزی کا واقعہ بدھ کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پیش آیا۔

ایک سبزی فروش شخص محمد علی جابری الحوریسی نے خود کو آگ لگا لی اور بعد میں ہسپتال میں ان کی موت واقع ہو گئی۔

محمد علی جابری الحوریسی ان درجنوں افراد میں شامل تھے جنہیں سعودی شہریت سے محروم کر دیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کے سرچ آپریشن کے دوران وہ اپنے شناختی دستاویز مہیا نہیں کر سکے تھے اور اس کے بعد انھوں نے خود سوزی کر لی۔اطلاعات کے مطابق محمد علی جابری الحوریسی کے اہلخانہ ہسپتال سے میت وصول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

جمعرات کو ایک سو کے قریب مظاہرین نے مقامی پولیس کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

خیال رہے کہ تیونس میں دو سال قبل بھی اسی طرح ایک نوجوان سبزی فروش محمد بوعزیزی نے خود سوزی کی تھی جس کے بعد عرب انقلاب شروع ہو گیا تھا۔

قدامت پسند سعودی عرب میں خود سوزی کے واقعات نا ہونے کے برابر ہیں۔ دو سال پہلے ایک ساٹھ سالہ شخص نے خود سوزی کی تھی۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس شخص نے سعودی شہریت حاصل کرنے میں مشکلات کے بعد یہ قدم اٹھایا تھا۔

سعودی عرب عرب انقلاب سے مجموعی طور پر اب تک محفوظ ہے لیکن اس کے شیعہ اکثریتی مشرقی صوبے میں کم شدت کے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔