افغانستان: کار بم دھماکے میں پانچ امریکی ہلاک

حملے ایک سکول اور ہسپتال کے سامنے ہوا جب ایک امریکی کارواں اور صوبے کے گورنر کا کارواں اس جگہ سے گزر رہا تھا۔
،تصویر کا کیپشنحملے ایک سکول اور ہسپتال کے سامنے ہوا جب ایک امریکی کارواں اور صوبے کے گورنر کا کارواں اس جگہ سے گزر رہا تھا۔

افغانستان کے صوبہ زابل میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ امریکی ہلاک ہو گئے ہیں جن میں تین فوجی اور دو سویلین اہلکار شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایک افغان ڈاکٹر بھی اسی دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔

نیٹو کی سرکردگی میں کام کرنے والی عالمی سکیورٹی فورس جسے ایساف کہا جاتا ہے کہ مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک کار اس دھماکے میں استعمال کی گئی۔

اسی طرح افغانستان کے مشرقی حصے میں اطلاعات کے مطابق ایک اور امریکی سویلین ایک حملے میں ہلاک ہو گئے۔

یاد رہے کہ نیٹو ان دنوں سکیورٹی کے معاملات افغان سکیورٹی حکام کے حوالے کر رہے ہیں اور بعض علاقے پہلے ہی افغان حکام کے حوالے کیے جا چکے ہیں مگر اس کے باوجود ایک لاکھ فوجی اب بھی ایساف کے تحت کام کر رہے ہیں جن کا دو ہزار چودہ میں انخلاء شروع ہو گا۔

زابل میں ایک خودکش حملہ آور نے صوبے کے گورنر کا لیجانے والے کاروان پر حملہ کیا جس کے قریب سے ایک امریکی فوجیوں کا کارواں بھی جا رہا تھا جو اس حملے کا نشانہ بنا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ دونوں کارواں صوبائی دارالحکومت قلات میں ایک ہی وقت میں ایک جگہ سے گزرے جو کہ سکول اور ہسپتال کے قریب واقع تھی مگر یہ اکٹھے نہیں تھے۔

زابل کے گورنر کے محمد اشرف ناصری کا کہنا ہے کہ ان کی گاڑی اس حملے کا نشانہ تھی۔
،تصویر کا کیپشنزابل کے گورنر کے محمد اشرف ناصری کا کہنا ہے کہ ان کی گاڑی اس حملے کا نشانہ تھی۔

زابل صوبہ قندہار صوبے کے قریب واقع ہے جس کی سرحد پاکستان کے ساتھ ملتی ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار نے کابل سے بتایا کہ صوبے کے گورنر محمد اشرف ناصری کا کہنا ہے کہ ان کی گاڑی اس حملے کا نشانہ تھی۔

اس کے علاوہ کئی افغان اور امریکی اس حملے میں زخمی ہوئے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے وزارتِ خارجہ کی ایک اہلکار کو خراج تحسین پیش کیا جو اس حملے میں ہلاک ہو گئیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہلاک ہونے والی اہلکار سے مل چکے ہیں کیونکہ انہیں دورۂ افغانستان کے دوران ان کی معاونت کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ ایک ایسی افسر تھیں جیسا کہ ایک وزارتِ خارجہ کی افسر کو ہونا چاہیے جو کہ سمجھدار، ذہین، قابل، کام کرنے کی لگن رکھنے والی تھیں اور اپنے کام، اپنے ملک اور افغانستان میں تبدیلی کے لیے بہت حد تک کوشاں تھیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’انہوں نے اپنی زندگی نوجوان افغانوں کو بہتر مستقبل کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوششیں کرتے ہوئے دی‘۔

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ وزارتِ خارجہ کے چار اور اہلکار زخمیوں میں شامل ہیں جن میں سے ایک کی حالت ابھی بھی خطرے میں ہے۔

مشرقی افغانستان میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں ابھی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ان ہلاکتوں کے بعد اب تک افغانستان میں ہلاک ہونے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد تیس ہو گئی ہے جن میں بائیس امریکی اور تین برطانوی فوجی شامل ہیں۔