غزہ سے آکسفرڈ تک

انیس سالہ روان یاغی شکل سے کتابی کیڑا نظر آتی ہیں۔ میرے اس تاثر کو اس وقت مزید تقویت ملی جب وہ غزہ میں مجھ سے ملنے کے لیے آئیں تو ان کی بغل میں جوزف ہیلر کا ناول ’کیچ 22‘دبا ہوا تھا۔
یہ ناول جنگ کی تباہ کاریوں پر طنز کا شاہکار ہے۔ اسے جنگ زدہ مشرقِ وسطیٰ میں زندگی گزارنے والے کسی فرد کی غیرمناسب پسند قرار نہیں دیا جاسکتا۔
لیکن غزہ کے دوسرے باسیوں کی نسبت روان کی زندگی ایک مختلف نہج اختیار کرنے والی ہے۔
روان غزہ کی اسلامک یونیورسٹی میں ادب کی طالبہ ہیں۔ انھوں نے آکسفرڈ یونیورسٹی میں لسانیات اوراطالوی ادب پڑھنے کے لیے سکالرشپ جیتا ہے۔ اب وہ غزہ کے میناروں سے آگے اپنے ’خوابوں آگیں گنبدوں والے شہر‘ کی جانب دیکھ رہی ہے۔
سکالر شپ ملنے پر انھوں نے مسکراتے کہا ’میں بہت خوش ہوں اور مجھ سے صبر نہیں ہو رہا۔ اب سب کچھ مختلف ہو گا لیکن مزا آئے گا۔‘
بہت کم طلبہ کو یہ غیر معمولی سکالر شپ ملتا ہے، لیکن روان کو ملنے والے سکالر شپ میں مزید غیر معمولی بات یہ ہے کہ آکسفرڈ کے جیزز کالج کے تمام طلبہ وطالبات روان کے تعلیمی اخراجات میں حصہ ڈالیں گے۔
حال ہی میں کالج میں جونئیر ممبر شپ سکالرشپ قائم کیا گیا ہے۔ اس میں طالب علموں کی کثیر تعداد نے روان کی فیس کے لیے تقریباً چار پاؤنڈ دینے پر رضامندی دی ہے۔
یہ خصوصی سکالر شپ آکسفرڈ کی گریجویٹ ایملی ڈرائفس کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایملی کا کہنا ہے کہ اب تک غزہ کے شہریوں کو برطانیہ کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کا بہت کم موقع ملا ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ جیزز کالج میں طالب علموں کی جانب سے آغاز ہی سے ووٹ کی صورت میں بہت اچھا ردعمل ملا۔ سب وہ جانتے ہیں کہ ان کے اس تھوڑے سے حصے کا بہت فائدہ ہو گا۔
روان کو داخلہ لینے کے لیے اب بھی سخت مقابلے سے گزرنا پڑے گا، تاہم وہ جانتی ہیں کہ جیزز کالج کے طلبہ نے اسے ایک غیر معمولی موقع دیا ہے۔

طلبہ کی معاونت سے روان کے سال بھر کے رہائشی اخراجات کے لیے 6300 پاؤنڈ اکٹھے کیے جائیں گے۔ تاہم یہ رقم چار سالہ کورس کی کل فیس 30 ہزار پاؤنڈ کے مقابلے پر آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے روان کی ٹیوشن فیس کا 60 فیصد حصہ معاف کرنے کی رضامندی دی ہے۔ باقی فیس دنیا بھر میں فلسطینی مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے تین امدادی ادارے ادا کریں گے۔ ان میں ہانی قدومی سکالرشپ فاؤنڈیشن، دی اے ایم قطان فاؤنڈیشن اورہوپنگ فاؤنڈیشن شامل ہیں۔
غزہ میں تعلیم کو خاصں اہمیت دی جاتی ہے۔ 17 لاکھ افراد کی آبادی والے اس شہر میں کم ازکم سات یونیورسٹیاں ہیں۔ لیکن روان کا خیال ہے کہ آکسفرڈ میں تعلیم کا تجربہ مختلف ہوگا۔
’تعلیمی نظام مکمل طور پر مختلف ہے اور میں جہاں جا رہی ہوں وہاں میرے لیے غزہ کے برعکس الگ الگ اساتذہ ہوں گے جب کہ یہاں سینکڑوں طالب علموں کے لیے ایک استاد ہوتا ہے۔‘
غزہ کی اسلامک یونیورسٹی میں طلبہ اور طالبات کو الگ الگ تعلیم دی جاتی ہے۔ تاہم روان کہتی ہیں کہ مخلوط تعلیمی نظام ان کے لیے کسی مسئلے کا باعث نہیں ہوگا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہاں کی تہذیب و تمدن مختلف ہیں مگر میں اس کے لیے تیار ہوں۔ البتہ مجھے اپنا گھر بہت یاد آیا کرے گا۔
روان اپنی زندگی میں صرف ایک بار فلسطین کی حدود سے باہر کا سفر کیا تھا جب وہ ایک تعلیمی دورے پر امریکہ گئی تھیں۔
حماس کے ساتھ کشیدگی کے باعث اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اسرائیلی حکومت فلسطینی طلبہ کو پڑھائی کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دیتی۔ توقع ہے کہ روان مصر کے راستے آکسفرڈ پہنچیں گی۔
فی الحال روان انگریزی ادب کی ڈگری مکمل کر رہی ہیں۔ ان کی پسندیدہ کتاب ’مارننگ ان جینن‘ ہے جو فلسطینی نژاد امریکی مصنف سوزین ابوالہوا نے لکھی ہے۔ یہ ناول فلسطینی خاندانوں کی ان تین نسلوں کی کہانی پر مبنی ہے جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے مہاجرین کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔
روان ہیری پوٹر کی مصنف جے کے راؤلنگ کی بھی مداح ہیں۔ وہ کہتی ہیں ہیری پوٹر کتابوں کا تحریری انداز بہت پراسرار ہے اور ان کی کہانیوں میں موجود چھوٹی چھوٹی چیزیں متوجہ کرتی ہیں۔
اس سکالرشپ کو یقینی بنانے والی ایمی ڈرائفس پر امید ہیں کہ فلسطین سے آنے والی روان کا پرجوش استقبال ہوگا اور وہ وہاں بہت اچھا وقت گزاریں گی۔ وہ کہتی ہیں کہ بہت سے لوگ روان سے ملنے کے لیے بے چین ہیں۔
روان اس تاثر کو رد کرتی ہیں کہ غزہ میں ہر وقت جنگ اور سیاست کی باتیں ہوتی ہیں اور لوگ مضطرب اور پریشان رہتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں، ’یہاں ہر وقت جنگ کی بات نہیں ہوتی، خاندانوں ،دوستوں اور محبت کے بارے میں بھی بات کی جاتی ہے، صرف اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کی بات نھیں کی جاتی۔‘
روان سے پوچھا گیا کہ وہ چار سالہ تعلیم مکمل کرکے غزہ واپس لوٹیں گی یا نہیں تو انھوں نے کہا، ’غزہ میں بدصورتی ضرور ہے لیکن آپ اسے چھوڑ نہیں سکتے اس سے منھ نہیں موڑ سکتے۔‘
’میں نے ابھی تک نہیں سوچا کہ میں یونیورسٹی کے ختم ہونے کے بعد کیا کروں گی مگر میں یہاں واپس آؤں گی۔ اگرچہ یہاں رہنا مشکل نظر آتا ہے لیکن پر بھی یہ دلچسپ اور دلیرانہ ہے۔‘







