’جنوبی کوریا کے کارکنوں کے داخلے پر پابندی‘

کیسونگ صنعتی زون کو شمالی و جنوبی کوریا کے باہمی تعلقات میں کلیدی پیمانے کی حیثیت حاصل ہے
،تصویر کا کیپشنکیسونگ صنعتی زون کو شمالی و جنوبی کوریا کے باہمی تعلقات میں کلیدی پیمانے کی حیثیت حاصل ہے

شمالی کوریا نے ایک مشترکہ صنعتی زون میں جنوبی کوریا کے کارکنوں کو داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور اس فیصلے کو دونوں ممالک کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید خرابی کی نشانی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک شمالی کوریا کے ساتھ جنگ کی صورت میں اپنا اور اپنے اتحادی جنوبی کوریا کا دفاع کرے گا۔

جنوبی کوریا کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ کیسونگ میں واقع کارخانوں میں موجود کارکنوں کو تو واپس جانے کی اجازت دی گئی ہے لیکن انہیں جنوبی کوریا سے واپس نہیں آنے دیا جا رہا۔

کیسونگ صنعتی زون کو شمالی و جنوبی کوریا کے باہمی تعلقات میں کلیدی پیمانے کی حیثیت حاصل ہے۔

اس زون میں سو سے زائد کارخانے ہیں جن میں پچاس ہزار سے زائد شمالی کوریائی اور سینکڑوں جنوبی کوریائی باشندے کام کرتے ہیں جو روزانہ شمالی کوریا کے حکام کی اجازت سے علاقے میں داخل ہوتے ہیں۔

جنوبی کوریا کی حکومت کے ایک ترجمان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جنوبی کوریا کی حکومت کو داخلے پر پابندی پر افسوس ہے اور وہ اس پابندی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے۔‘

شمالی کوریا کے حکام کی جانب سے جنوبی کوریائی کارکنوں کی آمد پر پابندی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ مارچ دو ہزار نو میں امریکہ اور جنوبی کوریا کی سالانہ فوجی مشقوں کے موقع پر بھی کچھ عرصے کے لیے ایسی پابندی لگائی گئی تھی۔

دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جنوبی کوریائی وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی قیادت کے حالیہ اقدامات ’ناقابل قبول‘ ہیں۔

امریکی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ میزائل کے خلاف دفاعی نظام کی دو بیٹریاں پہلے ہی علاقے میں نصب کی جا چکی ہیں جو کسی بھی میزائل حملے کے جواب میں کارروائی کریں گی۔

شمالی کوریا نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ یورینیم کی افزودگی سمیت ینگ بیون کے جوہری پلانٹ کی تمام سرگرمیاں بحال کر رہا ہے جو اکتوبر 2007 میں چھ رکنی مذاکرات کے تحت روک دی گئی تھیں‘

شمالی کوریا کی قیادت کے حالیہ اقدامات ناقابل قبول ہیں: امریکی وزیر خارجہ
،تصویر کا کیپشنشمالی کوریا کی قیادت کے حالیہ اقدامات ناقابل قبول ہیں: امریکی وزیر خارجہ

شمالی کوریا کا ینگ بیون جوہری پلانٹ جوہری بموں کے لیے پلوٹونیم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جوہری پلانٹ کو دوبارہ چلانے سے بجلی کی قلت کے مسائل حل ہوں گے اور جوہری طاقت میں اضافہ ہو گا۔

اِس اعلان پر نہ صرف اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بلکہ جاپان، چین اور ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کی طرف سے بھی فوری ردعمل سامنے آیا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے کہا کہ شمالی کوریا کا ’بحران ضرورت سے زیادہ آگے بڑھ گیا ہے اور شمالی کوریا دوسرے ملکوں کے ساتھ تصادم کے راستے پر چل رہا ہے جو جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے ینگ بیون کے جوہری پلانٹ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کا مطلب ہے کہ اسے جوہری طاقت بننے سے باز رکھنے کی تمام تر سفارتی کوششیں خاک میں ملک گئی ہیں۔ البتہ، جوہری پلانٹ کی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے جو تکنیکی اقدامات چاہیئیں اُن میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔