شمالی کوریا کا ری ایکٹر دوبارہ چلانے کا اعلان

شمالی کوریا نے یونگ بیون میں واقع اپنے اس جوہری تنصیبات کو دوبارہ چلانے کا اعلان کیا ہے جسے دو ہزار سات میں امداد کے بدل میں جوہری عدم پھیلاؤ کے منصوبے کے تحت بند کر دیا گیا تھا۔
ایک سرکاری بیان میں شمالی کوریا کا کہا ہے کہ یہ قدم شمالی کوریا کی جوہری طاقت کے معیار اور مقدار دونوں میں اضافے کا باعث ہوگا۔
جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اگر یہ اعلان درست ہے تو شمالی کوریا کو پچھتانا پڑے گا۔
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے پر جاری کیے گئے بیان میں شمالی کوریا کے جنرل ڈپارٹمنٹ آف اٹامک انرجی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’موجودہ جوہری تنصیبات کے استعمال میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں یونگ بونگ میں یورینیم کی افزودگی کے کارخانے اور پانچ میگا واٹ کے گریفائٹ ری ایکٹر سمیت جوہری تنصیبات کو دوبارہ کام میں لایا جانا بھی شامل ہے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس فیصلے پر بغیر کسی تاخیر کے عملدرآمد کیا جائے گا۔
شمالی کوریا نے رواں برس فروری میں اپنا تیسرا جوہری تجربہ کیا ہے جس کے بعد اس پر عائد عالمی پابندیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں۔
پابندیوں میں سختی اور ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کی امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کے ردعمل میں شمالی کوریا کی جانب سے حال ہی میں سخت اقدامات اور بیانات سامنے آئے ہیں۔
حالیہ چند ہفتوں میں کمیونسٹ ریاست نے امریکہ اور جنوبی کوریا میں اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی ہیں جس کے بعد امریکی بمبار طیاروں نے جزیرہ نما کوریا پر پروازیں کی ہیں اور میزائل شکن ہتھیاروں سے لیس امریکی بحری جنگی بیڑا بھی جنوی کوریا کے قریب سمندر میں پہنچ گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمالی کوریا نے سنیچر کو کہا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ ’جنگ کی حالت‘ میں داخل ہو رہا ہے تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے شمالی کوریا میں فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کے مطابق امریکہ نے شمالی کوریا کی طرف سے بیان بازی کے بعد ’عملی اقدامات نہیں دیکھے۔‘
تاہم امریکہ کے محکمۂ دفاع کے حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ میزائل شکن ہتھیاروں سے لیس بحری جنگی بیڑے کو جنوبی کوریا سے دور جنوب مغربی کی طرف لے جایا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ ’پیانگ یانگ کی جانب سے اشتعال انگیز بیان بازی کے باوجود ہم نے اس کی فوجی نقل و حرکت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ محتاط کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔
جنوبی کوریا نے بھی پیر کو شمالی کوریا کی جارحیت کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کرنے کے عہد کا اعلان کرتے کہا تھا کہ وہ شمالی کوریا کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو بے حد سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
جنوبی کوریا کے وزراتِ دفاع کے اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے ملک کے صدر پارک گیون ہائی نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے حال ہی میں دی جانے والی ایک کے بعد ایک دھمکی کو وہ ’ بے حد سنجیدگی‘ سے لے رہے ہیں۔
اس سے قبل گزشتہ ہفتے شمالی کوریا نے ایک بیان میں ’کسی بھی اشتعال انگیز اقدام‘ کے خلاف ’سخت جوابی کارروائی‘ کا عہد کیا تھا۔







