’شمالی کوریا کے خلاف سخت کارروائی کا عہد‘

جنوبی کوریا کی صدر
،تصویر کا کیپشنشمالی نے کوریا نے سنیچر کو کہا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ ’جنگ کی حالت‘ میں داخل ہو رہا ہے

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کی جارحیت کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کرنے کے عہد کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو بے حد سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

جنوبی کوریا کے وزراتِ دفاع کے اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے ملک کے صدر پارک گیون ہائی نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے حال ہی میں دی جانے والی ایک کے بعد ایک دھمکی کو وہ ’ بے حد سنجیدگی‘ سے لے رہے ہیں۔

شمالی کوریا نے سنیچر کو کہا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ ’جنگ کی حالت‘ میں داخل ہو رہا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے شمالی کوریا نے ایک بیان میں ’کسی بھی اشتعال انگیز اقدام‘ کے خلاف ’سخت جوابی کارروائی‘ کا عہد کیا تھا۔

جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے بارے میں بات چیت کرنے کے لیے اس ہفتے ملک کی وزیر خارجہ یون بیونگ کی واشٹنگٹن میں امریکی خارجہ سیکریٹری سے ملاقات متوقع ہے۔

اس سے قبل اتوار کو امریکی حکام نے کہا تھا کہ انہوں نے شمالی کوریا کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کو بڑھانے کے عہد کے بعد جنوبی کوریا میں مزید جنگی جہاز بھیج دیے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ایف 22 جنگی طیاروں کو تعینات کرنا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کا حصہ ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملک کے اعلیٰ قیادت نے اتوار کو ایک اجلاس میں جوہری ہتھیاروں کو ’قوم کی زندگی‘ قرار دیتے ہوئے اسے مزید بڑھانے کا عہد کیا تھا۔

امریکی اہکاروں کا کہنا تھا کہ ایف 22 طیاروں کو جاپان سے جنوبی کوریا کے اوسان ہوائی آڈے پر لے جایا گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹر نے جنوبی کو ریا میں امریکی فوج کی طرف سے جاری بیان کے حولے سے بتایا تھا کہ’جنوبی کوریا کو اشتعال انگیز بیان بازی اور دھمکیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بلکہ اس سے شمالی کوریا بین الاقوامی سطح پر مزید تنہا ہو جائے گا اور خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان ہو گا۔‘

حالیہ دنوں میں شمالی کوریا کی طرف سے بیان بازی کے دوران امریکی بی 52 اور دوسرے جنگی طیاروں نے بھی ان علاقوں میں پروازیں کیں ہیں۔

شمالی کوریا فروری میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے پابندیوں اور امریکہ اور جنوبی کوریا کا مشترکہ جنگی مشقوں کی وجہ سے اشتعال میں ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا پر حملوں کی دھمکیاں دی تھیں جس کا جواب امریکہ نے علاقے میں جنگی جہازوں کی پروازیں شروع کرنے سے دیا ہے۔

گذشتہ مارچ میں امریکہ نے جنوبی کوریا میں جوہری ہتھیاروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بی 2 اور بی 52 جنگی طیارے تعینات کیے تھے۔ اس اقدام کے بعد امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوا کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ ملٹری ہاٹ لائن یا عسکری رابطہ منقطع کر دیا تھا۔بغض ماہرین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا جنوبی کوریا کے ساتھ جنگ شروع کرنے کا خطرہ نے لے گا۔

جزیرہ نما کوریا میں حالیہ تناؤ کا آغاز بارہ فروری کو شمالی کوریا کی جانب سے تیسرے جوہری تجربے کے بعد ہوا تھا اور اقوام متحدہ کی جانب سے مزید پابندیوں کے بعد شمالی کوریا کی جانب سے دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

شمالی کوریا نے اس دوران امریکہ اور جنوبی کوریا کو نشانہ بنانے کی متعدد دھمکیاں دی ہیں جن میں امریکی سرزمین پر جوہری حملے کی دھمکی بھی شامل ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس امریکی سرزمین کو کسی جوہری ہتھیار یا بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی صلاحیت نہیں ہے تاہم وہ اپنے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے ایشیا میں واقع کچھ امریکی فوجی اڈوں کو ضرور نشانہ بنا سکتا ہے۔