یوکرین میں روسی قید سے سری لنکن شہری آزاد: ’ہم سوچتے تھے کہ ہم زندہ نہیں بچ پائیں گے‘

- مصنف, صوفیا بیٹیزا
- عہدہ, بی بی سی نیوز خارخیو، یوکرین
یوکرین کی جانب سے ازوم شہر کو روسی قبضے سے چھڑانے کے بعد روسی افواج کے مظالم کے نئے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
یہ الزامات عائد کرنے والوں میں سات سری لنکن باشندے بھی شامل ہیں جو کئی مہینوں تک روسی فوج کے قیدی رہے ہیں۔
دلوجان پتھتناجاکن کہتے ہیں ’ہم سوچتے تھے کہ ہم زندہ نہیں بچ پائیں گے۔‘
سری لنکن شہریوں کا یہ گروپ یوکرین کے شمال مشرقی شہر کپیانسک میں تھا جب جنگ کی ابتدا میں انھوں نے سوچا کہ انھیں یہاں سے نکل کر 75 میل دور خارخیو چلے جانا چاہیے، جو قدرے محفوظ تھا۔
خارخیو جانے کے لیے وہ پیدل نکل پڑے مگر پہلی ہی چیک پوسٹ پر روسی افواج کے ہتھے چڑھ گئے جو ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انھیں سرحد کے قریب ووچانسک کے قصبے کی ایک فیکٹری میں لے گئے۔
یہاں سے ان کی مصیبت کا آغاز ہوا جس میں انھیں جبری مشقت اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ سری لنکن شہری یوکرین میں پڑھائی اور کام کی غرض سے آئے تھے مگر اب وہ قیدی بن چکے تھے اور ان کا گزارہ اس معمولی سے کھانے پر ہوتا جو روسی انھیں دن میں ایک بار فراہم کرتے۔
انھیں دن میں صرف دو، دو منٹ کے لیے دو بار ٹوائلٹ جانے کی اجازت ملتی تھی۔ انھیں قید کے دوران کئی بار غسل کی بھی اجازت ملی لیکن وہ بھی صرف دو منٹ کے لیے ہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گروپ میں شامل افراد کی اکثریت کی عمریں بیس سال کے لگ بھگ ہیں۔ تمام لڑکوں کو ایک کمرے میں رکھا گیا۔ گروپ میں شامل واحد عورت، پچاس سال کی میری عیدت اتھاجکمار کو علیحدہ جگہ پر رکھا گیا تھا۔

میری عیدت اتھاجکمار کہتی ہیں کہ ’انھوں نے ہمیں ایک کمرے میں بند رکھا۔ انھوں نے مجھے گروپ کے دوسرے لوگوں سے ملنے نہیں دیا۔ ہمیں تین ماہ اندر ہی بند رکھا گیا۔‘
میری عیدت اتھاجکمار کا چہرہ سری لنکا میں ایک بم دھماکے کے دوران جھلس گیا تھا۔ انھیں دل کا بھی عارضہ ہے لیکن حراست کے دوران انھیں کوئی دوا نہیں ملی۔
وہ بتاتی ہیں کہ قیدِ تنہائی نے اُن کی صحت کو بُری طرح سے متاثر کیا۔ ’جب میں اکیلی تھی تو میں بہت پریشان تھی۔ وہ کہتے تھے کہ میں ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہوں اور مجھے کچھ گولیاں دیں جو میں نے نہیں کھائیں۔‘
گروپ کے دوسرے لوگوں کی قید کی یادیں بہت المناک ہیں۔ ایک مرد نے اپنے جوتے اُتار کر اپنے ناخن دکھائے جنھیں پلاس سے کھینج لیا گیا تھا۔ گروپ میں ایک اور شخص کو بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے بتایا کہ انھیں بلاوجہ مارا پیٹا جاتا تھا اور روسی فوجی نشے میں دھت ہو کر اُن پر حملہ آور ہوتے تھے۔
35 سال کے تھنیش گوجنتھارن نے بتایا کہ ’انھوں نے کئی بار مجھے اپنی بندوقوں کے ساتھ پیٹا۔ ایک فوجی نے میرے پیٹ میں مکا مارا جس سے مجھے دو دن تک درد رہا۔ اس نے مجھ سے رقم کا تقاضا کیا تھا۔‘
25 سال کے دلولکشان رابرٹ کلائیو کہتے ہیں کہ ’ہم بہت غصے میں تھے، بہت پریشان تھے۔ ہمیں جس چیز نے زندہ رکھا وہ خاندان کی یادیں تھیں۔‘
روس عام شہریوں کو نشانہ بنانے اور جنگی جرائم کے الزامات سے انکار کرتا رہا ہے لیکن سری لنکن شہریوں کی شکایت کے علاوہ روس کے زیر قبضہ علاقوں میں روسی افواج کے مظالم کی دیگر رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں۔
یوکرین ازوم کے نزدیکی جنگل میں اجتماعی قبر سے حال ہی میں ملنے والی لاشوں کا معائنہ کر رہا ہے جن پر تشدد کے آثار ملے ہیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی افواج کے قبضے سے چھڑائے گئے خارخیو کے علاقے میں دس ٹارچر چیمیرز ملے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

رواں ماہ جب یوکرین کی افواج نے روسی افواج کو علاقے سے نکلنے پر مجبور کیا تو اس سے سات سری لنکن شہریوں کی رہائی بھی ممکن ہوئی۔
سری لنکن شہریوں کا یہ گروہ ایک بار پھر پیدل خارخیو کی طرف روانہ ہوا۔ وہ اکیلے تھے اور ان کے پاس فون بھی نہیں تھے جس سے وہ اپنے خاندانوں سے رابطہ کر سکتے۔
بالآخر ان کی قسمت در آئی اور کسی نے اُن کو دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔ ایک پولیس افسر نے انھیں اپنا فون استعمال کرنے کے لیے دیا۔
40 سال کے اینکرناتھن گنیشمورتھی نے اپنی بیوی اور بیٹی کو ٹیلیفون کی سکرین پر دیکھا تو وہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے اور زار و قطار رونے لگے۔
پھر گروپ کے دوسرے لوگوں نے اپنے خاندان والوں کو کالز کیں اور اسی طرح کے جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔ گروپ میں شامل تمام افراد پولیس افسر سے گلے ملے۔
اب یہ گروپ خارخیو میں ہے جہاں ان پر طبی توجہ دی جا رہی ہے اور انھیں نئے کپڑے بھی دیے جا رہے ہیں۔ وہ ایک بحالی کے مرکز میں رہائش پذیر ہیں جہاں سوئمنگ پول اور جمنازیم کی سہولت بھی میسر ہے۔
دلوکاشان مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اب میں بہت خوش ہوں۔‘









