یوکرین روس جنگ: جنسی کاروبار میں ملوث گروہ کس طرح یوکرینی پناہ گزینوں کو نشانہ بنا رہے ہیں؟

Refugee on Polish-Ukrainian border
،تصویر کا کیپشنپناہ گزینوں کو اجنبیوں پر بھروسہ کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے
    • مصنف, کیٹیا ایڈلر
    • عہدہ, بی بی سی یورپ ایڈیٹر

یوکرین پر روسی یلغار کو پانچ ہفتے ہوگئے ہیں، ذرا ایک لمحے کو تصور کیجیے وہاں زندگی کیسی ہوگی۔ بم، خونریزی، صدمہ۔ بچوں کے لیے سکول نہیں، والدین کے علاج معالجے کی سہولت نہیں، ملک کے بیشتر حصے میں لوگوں کے سروں پر چھت نہیں۔ کیا آپ فرار کا راستہ اختیار کریں گے؟ اقوام متحدہ کے مطابق دس ملین لوگوں نے یہ ہی کیا ہے۔

بہت سے لوگ یوکرین کے دوسرے محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں میں چلے گئے ہیں۔ مگر ساڑھے تین ملین سے زیادہ لوگ سرحد پار جا چکے ہیں۔

ان میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، کیوںکہ 60 برس سے کم عمر کے مردوں کو یوکرین کی حکومت نے پابند کیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں رہیں اور ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

بے گھر اور اپنی منزل سے بے خبر پناہ گزینوں کے پاس اجنبی افراد پر بھروسہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

جنگ کی افراتفری سے تو وہ نکل آئے ہیں، مگر سچ تو یہ کہ وہ یوکرین سے نکل کر بھی پوری طرح محفوظ نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گوتریس نے ٹوئٹر پر خبردار کرتے ہوئے کہا: ’شکاریوں اور انسانی سمگلروں کے لیے یوکرین کی جنگ سانحہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک موقع ہے۔۔ اور خواتین اور بچے نشانے پر ہیں۔‘

انسانی سمگلروں کے گروہ حالتِ امن میں یوکرین اور پڑوسی ممالک میں بہت سرگرم رہے ہیں۔ جنگ زدہ فضا ان کا کاروبار چمکانے کے لیے مزید سازگار ہے۔

کیرولانا ویئرزبِنسکا نے، جو ہومو فوبر نامی حقوق انسانی کی ایک تنظیم سے وابستہ ہیں، مجھے بتایا کہ بچوں کے بارے میں بہت زیادہ تشویش پائی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بہت سے بچے یوکرین سے بغیر کسی رشتہ دار کے نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ان کی رجسٹریشن کا باقاعدہ نظام موجود نہ ہونے کی وجہ سے اب ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔

Woman and child
،تصویر کا کیپشنخواتین بچوں کے ساتھ سرحدی علاقوں میں پہنچ رہی ہیں

پولینڈ اور یوکرین کے بارڈر پر قائم ایک ٹرین سٹیشن پر ہم نے دیکھا کہ رضاکار پناہ گزینوں کو کھانے پینے کی اشیا فراہم کر رہے ہیں۔ بظاہر سب ٹھیک نظر آتا ہے، مگر ہے نہیں۔

ہماری ملاقات مارگریٹا ہسمانوف سے ہوئی جو ایک یوکرینی پناہ گزین ہیں۔ ان کی عمر 20 برس سے کچھ زیادہ ہے۔ وہ دو ہفتے پہلے ہی سرحد پر پہنچی ہیں۔ دوسرے پناہ گزینوں کو غلط ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے انھوں نے یہیں پر رکنے کا فیصلہ کیا۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا انھیں یہاں پر کوئی خطرہ محسوس ہوا تھا۔ انھوں نے کہا، ’ہاں، یہی وجہ ہے کہ میں دوسروں کے لیے فکر مند ہوں۔

’عورتیں اور بچے خوفناک جنگ سے بچنے کے لیے یہاں پہنچے ہیں۔ وہ پولِش یا انگریزی نہیں بول سکتے۔ انھیں نہیں معلوم کہ کیا ہو رہا ہے، بس جو دوسروں سے سنتے ہیں اسے مان لیتے ہیں۔ اس سٹیشن پر کوئی بھی آ سکتا ہے۔ میں نے جب پہلے دن میں رضا کارانہ طور پر کام شروع کیا تو مجھے اٹلی کے تین آدمی نظر آئے۔ وہ جنسی کاروبار کے لیے خوبصورت عورتوں کی تلاش میں تھے۔

’میں نے پولیس کو فون کیا اور میرا خدشہ درست ثابت ہوا۔ میرا خوف بے جا نہیں تھا۔ صورتحال بہت بھیانک ہے۔‘

Margherita Husmanov
،تصویر کا کیپشنمارگریٹا ہسمانوف پناہ گزیں سے رضا کار بن گئیں

مارگریٹا کا کہنا ہے کہ مقامی حکام اب زیادہ منظم ہو گئے ہیں۔ سٹیشن پر پولیس باقاعدگی سے گشت کرنے لگی ہے۔ دلکش مقامات کی تختیاں لیے کھڑے افراد جو ابتدائی دنوں میں اس سٹیشن پر موجود تھے اب غائب ہو چکے ہیں۔

مگر ہمیں پتہ چلا ہے کہ دوسرے بد نیت افراد رضاکاروں کا روپ دھار کر منڈلانے لگے ہیں۔

ایلنا موسکویٹینا نے آگہی میں اضافے کے لیے فیس بک کا سہارا لیا۔ اب وہ ڈنمارک میں ہیں۔ ہم نے ان سے بذریعہ سکائپ بات کی۔ ان کا تجربہ خوفناک ہے۔

وہ اپنے بچوں کو لے کر رومانیہ پہنچیں۔ وہ سرحد سے دور جانے کے لیے کسی سے لفٹ کی کوشش میں تھیں۔

کچھ جعلی رضاکاروں نے ان سے ان کا پتہ پوچھا۔

بعد میں اسی دن وہ عورتوں سے بھری ہوئی ایک بڑی گاڑی کے ساتھ ان کے ٹھکانے پر پہنچے اور جارحانہ انداز میں ان سے کہا کہ سؤٹزرلینڈ بہترین جگہ ہے اور وہ انھیں وہاں پہنچا دیں گے۔

ایلنا نے مجھے بتایا کہ ان لوگوں نے انھیں اور ان کی بیٹی کو ’ٹٹولتی نظروں’ سے دیکھا۔ ان کی بیٹی خوفزہ ہوگئی۔

جب ایلنا نے ان سے شناختی کارڈ دکھانے کو کہا تو وہ برہم ہوگئے اور کہا کہ وہ ان کے سوا کسی دوسرے کے ساتھ سفر نہیں کریں گی۔

انھوں نے ان لوگوں سے وعدہ کر لیا مگر وہ لوگ جیسے ہی وہاں سے گئے تو ایلنا اپنے بچوں کو وہاں سے لے کر بھاگ نکلیں۔

Elżbieta Jarmulska
،تصویر کا کیپشنایلزبیتا جرمُلسکا یوکرینی ریفیوجیز کو بحفاظت منزل تک پہنچنے میں مدد دیتی ہیں

ایلزبتا جرمُلسکا ایک پولِش بزنس وومن ہیں۔ انھوں نے یوکرینی پناہ گزینوں کی حفاظت کے لیے ’وومن ٹیک دا وھیل انیشی ایٹیو‘ نامی تنظیم بنائی ہے۔

ان کا کہنا کہ، ’ان عورتوں نے پہلے ہی اتنے ستم جھیلے ہیں، جنگ زدہ ماحول میں انھیں پیدل یا گاڑیوں میں سفر کرنا پڑا ہے، اور اب انھیں خوف اور استحصال کا خطرہ ہے۔ میں بتا نہیں سکتی کہ وہ کس کیفیت سے گزر رہی ہیں۔‘

انھوں نے اب تک 650 پولِش خواتین کو بھرتی کیا ہے جو یوکرین اور پولینڈ کے درمیان پناہ گزیوں کو سفری سہولت پہنچانے میں مصروف ہیں۔

خاتون ڈرائیور کے ساتھ ایسی ہی ایک گاڑی میں نادیہ پولینڈ پہنچیں۔ وہ یوکرین میں خرکیف کی رہنے والی ہیں۔

انھوں نے سمگلروں اور پناہ گزینوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کے بارے میں ریڈیو پر اسی وقت سن رکھا تھا جب وہ یوکرین میں تھیں۔ لیکن پھر بھی انھوں نے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے گھر پر گولے برسائے جا رہے تھے۔ جنگ سے نقصان کا فوری خطرہ تھا۔

Nadia and her children
،تصویر کا کیپشننادیہ اور ان کے بچے لفٹ ملنے پر شکر گزار ہیں

اور یہ ہی وہ سب باتیں جو ان کے لیے خطرات کو بڑھا دیتی ہیں۔

پولِش یوکرینین بارڈ پر ایک رضاکار نے مجھے بتایا کہ جب آپ بے آسرا ہو جائیں، کوئی دوست نہ ہو، اور آپ کو پیسے کی ضرورت ہو تو وہ کچھ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کا آپ نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔

اس خاتون رضاکار کو نوجوانی ہی میں سیکس ورکر بننا پڑا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ اب وہ رضاکار بن کر یوکرینی پناہ گزینوں کی مدد کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’میں ان کی حفاظت کرنا چاہتی ہوں۔ انھیں خبردار کرنا چاہتی ہوں۔‘ انھوں نے مجھے کہا کہ میں ان کا نام ظاہر نہ کروں کیوںکہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے بچوں کو ان کے ماضی کے بارے میں پتہ چلے۔

یوکرین پر حملے کو پانچ ہفتے ہو گئے ہیں، مگر یورپ میں یوکرینی پناہ گزینوں کی مدد کرنے والوں کی جانچ پڑتا کا عمل غلطیوں سے پاک نہیں ہے۔

صرف منظم جرائم (جن میں سیکس، اعضا کی سمگلنگ اور جبری مشقت شامل ہیں) ہی کا خطرہ نہیں ہے بلکہ انفرادی طور پر بھی لوگ پناہ گزینوں کو مختلف طرح کے جھانسے دیتے ہیں۔

Refugee on Polish-Ukrainian border
،تصویر کا کیپشنتمام پناگزینوں کو ناجائز فائدہ اٹھائے جانے کا خطرہ زیادہ ہے

پولینڈ، جرمنی اور برطانیہ میں لوگوں نے پناہ گزینوں کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے ہیں، زیادہ تر کی نیت اچھی ہے۔ مگر افسوس کہ سب ایک جیسے نہیں ہیں۔

ہمیں فیس بک پر ایک یوکرینی خاتون کی پوسٹ ملی جو جرمنی کے ایک قصبے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

جس شخص نے انھیں پناہ دی اس نے ان کے کاغذات ضبط کر لیے اور انھیں بلا معاوضہ اپنے گھر کی صفائی کرنے پر مجبور کیا۔ بعد میں انھوں نے جنسی طور پر استحصال کی کوشش بھی کی۔ جب عورت نے انکار کیا تو انھیں گھر سے نکال دیا گیا۔

اِرینا ڈیوڈ اولسِک وارسا میں سمگلنگ کے خلاف ایک غیر سرکاری تنظیم ’لا سٹریڈا‘ کی سربراہ ہیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ایسی باتیں نئی نہیں ہیں۔ ایسا ہوتا ہے، جنگ ہو یا نہ ہو۔ مگر جنگ کے نتیجے میں ایسے واقعات بڑھ جاتے ہیں کیونکہ ایک دم سے بہت سی عورتوں اور بچوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کے بارے میں تشویش زیادہ پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نوجوانوں کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں۔ وہ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ وہ قبولیت اور شناخت چاہتے ہیں۔

’اور جب وہ گھر سے دور ہوں، دوستوں سے دور ہوں تو انھیں جھانسے میں لانا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔

’لڑکیاں بڑی عمر کے مردوں کی توجہ کو شاید پسند کریں۔ یا ان کا تعارف اپنی عمر کی ایسی لڑکیوں سے ہو جو اچھا لباس پہنتی ہوں اور پارٹیوں میں جاتی ہوں۔

’اس کی شروعات ایسے ہی ہوتی ہے۔ یاد رکھیں کہ دلال، سمگلر اور استحصال کرنے والے صرف مرد ہی نہیں ہوتے۔‘

Leaflet given to refugees
،تصویر کا کیپشنلیف لٹ یعنی پرچے تقسیم کرکے ریفیوجیز کو مدد کی پیش کش کی جاتی ہے

جنگ کے دنوں میں یوکرینی خواتین کو مشکلات سے نکلنے میں مدد دینے کے لیے آن لائن آفرز میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

اِرینا نے بتایا کہ ان کی تنظیم کئی ایسے کئی کیسز پر کام کر رہی ہے جن میں یوکرینی لڑکیوں کو میکسیکو، ترکی اور یو اے ای جانے کے لیے ہوائی جہاز کے مفت ٹکٹ فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے، حالانکہ یہ لڑکیاں ان مردوں کو جانتی تک نہیں۔

اِرینا کہتی ہیں، ’میرے ساتھ کام کرنے والی رضاکار ایک 19 برس کی لڑکی کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ وہ ایک مرد کے گھر میں رہنے والی اپنی سہیلی کے پاس نہ جائیں۔

’انھیں معلوم ہے کہ ان کی سہیلی کو مارا پیٹا گیا ہے۔ مگر وہ مرد ان سے موبائل پر چکنی چُپڑی باتیں کرتا ہے، تحفوں کی پیشکش کرتا ہے۔

’اگر وہ جانے پر بضد ہوتی ہیں تو ہم ان سے التجا کرتے ہیں کہ وہ مقامی حکام کے پاس اپنا اندراج کر والیں۔ اگر وہ نہیں کرواتیں تو ہمارا نمبر ان کے پاس ہوتا ہے۔

’میں امید کرتی ہوں کہ ضرورت پڑنے پر وہ ہمیں کال کریں گی۔‘ یورپ بھر میں حکومتوں نے یوکرین سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ حقوق انسانی کی تنظمیں چاہتی ہیں کہ یہ حکومتیں اپنی جان بچا کر بھاگنے والوں کا زیادہ خیال رکھیں۔ انھیں تحفظ کی ضرورت ہے۔