روس یوکرین جنگ: کیا انڈیا کا تنازعے پر غیر جانبدارانہ موقف اب دباؤ کا شکار ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, سوتک بسواس اور شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے واشنگٹن میں کاروباری شخصیات سے ایک ملاقات میں کہا کہ کواڈ گروپ کے ممالک میں سے صرف انڈیا یوکرین پر روسی حملے پر اپنا ردعمل دینے پر 'کچھ حد تک ہچکچاہٹ' کا شکار تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ کواڈ گروپ (جسے چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے خلاف ایک اتحاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے) کے باقی ممالک امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا 'پوتن کی جارحیت سے نمٹنے کے معاملے پر انتہائی سخت مؤقف' اختیار کیے ہوئے ہیں۔
انڈیا دو بار قومی سلامتی اور ایک بار جنرل اسمبلی میں روس کے خلاف امریکہ اور مغربی ممالک کی مشترکہ قراردادوں پر ووٹنگ میں نیوٹرل یا غیر جانبدار رہ چکا ہے۔ اس کا مقصد بظاہر یہ پیغام دینا ہے کہ انڈیا یوکرین کی جنگ میں اگر یوکرین کے ساتھ نہیں ہے تو وہ روس کے ساتھ بھی نہیں ہے۔
انڈیا نے جمعرات کی ووٹنگ کو کتنی اہمیت دی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ میں مامور انڈین سفارت کاروں کی مدد کے لیے انڈیا کے خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا کو خاص طور سے نیویارک بھیجا گیا تھا۔
انڈیا نے اب تک ایسی کسی قرارداد کی حمایت نہیں کی ہے جس میں یوکرین پر حملے کے لیے روس پر تنقید کی گئی ہو۔روس پر تنقید کی امریکہ اور یورپی ممالک کی قراردادوں پر انڈیا ابھی تک غیر جانبدار رہا ہے۔ اس کے موقف کو امریکہ اور یورپی ممالک روس کی بالواسطہ حمایت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یورپ کے دورے سے پہلے اس ہفتے کے اوائل میں امریکہ کے صدر جو بائڈن نے کہا تھا کہ ’انڈیا نے مشکوک پوزیشن‘ اختیار کر رکھی ہے۔
مگر انڈیا کے موقف کے بارے میں امریکہ اور یورپ میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انڈیا پر کافی دباؤ ہے کہ وہ یوکرین کے بحران میں روس کے خلاف پوزیشن لے۔
امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے ایک تبصرے میں کہا کہ انڈیا کو اپنے موقف کے سبب مشکلات کا سامنا ہے۔ ’یوکرین پر روس کا حملہ گذشتہ کئی عشروں میں بدترین جارحیت ہے۔ ان حالات میں غیر جانبدار پوزیشن اختیار کرنا ماضی کے مقابلے اب زیادہ پُرخطر سفارت کاری ہے۔ انڈیا کے تعلقات مغربی ممالک سے اب پہلے کے مقابلے زیادہ مضبوط ہیں۔‘
آزادی کے بعد سے انڈیا کی خارجہ پالیسی دنیا میں بڑی طاقتوں کی عالمی سیاست کے تناظر میں زیادہ تر غیر جانبدار رہی ہے۔ انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے مطابق ’ہم بڑے بلاکس سے دور رہیں گے، تمام ممالک کے ساتھ دوستی کریں گے اور کسی اتحاد میں شامل نہیں ہوں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی جونیئر وزیر خارجہ (انڈر سکریٹری آف سٹیٹ) وکٹوریہ نیولینڈ نے کہا تھا کہ اگر انڈیا روس پر اپنے دفاعی انحصار کے سبب غیر جانبداری کی پوزیشن لے رہا ہے تو اس کی دفاعی ضروریات مغربی ملکوں سے پوری کی جا سکتی ہیں۔
امریکہ کی سیاسی امور کی سیکرٹری خارجہ وکٹوریہ نولینڈ نے اس ہفتے دلی کا دورہ کیا اور ان کے مطابق انھوں نے انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور سینئیر حکام کے ساتھ ’طویل اور جامع گفتگو‘ کی۔
وکٹوریہ نولینڈ نے انڈیا اور روس کے درمیان تاریخی تعلق کو تسلیم کیا لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ’اب وقت بدل گیا ہے‘ اور ’انڈیا کی سوچ میں ارتقا‘ ہوا ہے۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اور یورپ، انڈیا کے مضبوط ’دفاعی اور سکیورٹی شراکت دار‘ بننے کو تیار ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ انڈیا کو روسی دفاعی سامان پر انحصار ختم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
وکٹوریہ نولینڈ نے یہ بھی کہا کہ یوکرین روس جنگ ’آمرانہ جمہوری جدوجہد‘ میں ’انتہائی اہم موڑ‘ تھا جس میں انڈیا کی حمایت کی ضرورت تھی۔
مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے اس طرح کے واضح پیغام کی 'ماضی میں مثال نہیں ملتی' لیکن انڈین ماہرین یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ان کا ملک سفارتی دباؤ کا شکار ہے۔
انڈیا کے بیشتر تجزیہ کار اور مبصر حکومت کی یوکرین پالیسی سے متفق ہیں۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی مین خارجی امور کے پروفیسر ہیپی مون جیکب کا خیال ہے کہ انڈیا پر ایسا کوئی خاص دباؤ نہیں ہے۔ ساتھ انڈیا اس تضاد کو بہت اچھی طرح سنبھال رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا اس سے زیادہ کچھ کر سکتا تھا۔‘
سابق خارجہ سکریٹری شیو شنکر مینن اس بات سے متفق ہیں کہ انڈیا نے موجودہ حالات میں جو پوزیشن لی ہے وہ قابل ستائش ہے ’لیکن اسے حق بات کہنی چاہیے تھی۔ کسی ملک پر حملے اور جارحیت کو حملہ کہنا چاہیے تھا۔ اس سے انڈیا کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوکرین کی جنگ پر انڈیا کا پُرخطر داؤ اور روسی صدر پوتن سے دوستی
انڈیا نے یہ پوزیشن بہت غور و خوض کے بعد لی ہے۔
انڈیا کے سفارتی حلقوں میں اس بات کو شدت سے محسوس کیا گیا کہ یوکرین نے نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کی کوشش میں روس کی دشمنی مول لی۔ اور روس نے جب اس پر حملہ کیا تو اس کی مدد کے لیے کوئی نہيں آیا۔
یہاں یہ احساس شدت اختیار کر گیا ہے کہ انڈیا کو کسی ٹکراؤ کی صورت میں اپنی جنگ خود لڑنی ہو گی۔ اس کی مدد کے لیے کوئی نہیں آئے گا۔روس ہی واحد ملک رہا ہے جو انڈیا کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں کھڑا رہا ہے۔
انڈیا یہ توقع کر رہا تھا کہ چین سے سرحدی ٹکراؤ میں امریکہ اور یورپی ممالک چین کے خلاف مزید سخت پوزیشن لیں گے اور انڈیا کا ساتھ دیں گے۔
انڈیا بھی دو برس قبل چین سے لداخ کے خونریز ٹکراؤ کے بعد امریکہ کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ لیکن یوکرین کی بے بسی کے بعد اس کا بھرم اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے ٹوٹتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ روس ایک بار پھر ایک قابل اعتبار دیرینہ دوست کے طور پر ابھر رہا ہے۔
سلامتی امور کے تجزیہ کار پروین ساہنی نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ چین اور انڈیا کے سرحدی تنازع میں روس کشیدگی ختم کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ ’انڈیا چین سے اپنے تنازع میں صدر ولادیمیر پوتن سے کئی بار مدد لے چکا ہے۔ روس اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔‘
یوکرین کی لڑائی روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو گی۔ لیکن انڈیا نے اس جنگ سے اپنا سبق سیکھا ہے۔
اس نے اس لڑائی میں امریکہ اور نیٹو کی بے بسی کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ انڈیا میں اب یہ احساس بہت شدت اختیار کر رہا ہے کہ ملک کو دفاعی معاملوں میں مکمل طور پر خود کفیل ہونا پڑے گا۔
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے گذشتہ روز ایک سیمنار میں کہا کہ ’انڈیا کو اپنے دفاعی ساز و سامان کے لیے کسی ایک ملک پر انحصار کرنے کے بجائے کئی ملکوں سے ہتھیار حاصل کرنے چاہیں۔‘
یہاں سفارتی حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ دنیا میں طاقت کے توازن کا محور اب بدل رہا ہے۔ یوکرین کی جنگ نے امریکہ اور نیٹو ممالک کو فی الوقت غیر معمولی طور پر متحد کر دیا ہے۔ اس کی طاقت اور دبدبے کا انحصار یوکرین کی جنگ کے نتائج سے ہو گا۔
یوکرین کی جنگ صدر پوتن کے مزید طاقتور بن کر ابھرنے یا ان کے تباہ کن زوال کا سبب بن سکتی ہے۔ انڈیا نے غیر جانبدار رہ کر بالواسطہ طور پر روس کی بھلے ہی حمایت نہ کی ہو لیکن وہ اس بحران میں واضح طور پر امریکہ اور یورپ کے ساتھ نہیں کھڑا ہے۔ انڈیا نے سفارتی سطح پر ایک پرُخطر داؤ کھیلا ہے۔
انڈیا کے سابق سیکرٹری خارجہ شیام ساران کہتے ہیں کہ انڈیا کے لیے سب سے 'خوفناک صورتحال' وہ ہو گی کہ امریکہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اسے روس سے شدید خطرہ ہے جس کی وجہ سے وہ چین کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری چاہتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’دو ٹوک الفاظ میں اس کا مطلب ہے کہ ایشیا میں چینی تسلط کو تسلیم کرتے ہوئے، اپنے یورپی حصے کی حفاظت کرنا۔‘
سابق سفارتکار انیل تریگنیت جو ماسکو میں اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں، کہتے ہیں کہ امریکی صدر کا بیان کہ انڈیا 'ہچکچاہٹ کا شکار‘ تھا، ممکنہ طور پر کوئی مذاق تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا کا مؤقف مستقل اور اصولوں کے مطابق رہا ہے۔ انڈیا یوکرین کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور مذاکرات کے لیے کھڑا رہا۔ ہمیں سٹریٹجک طور پر غیر جانبدار رہنا تھا۔ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔‘
انیل تریگنیت کہتے ہیں کہ انڈیا کو سٹریٹجک خود مختاری کی پالیسی اپنانا ہو گی اور ’سٹریٹجک اتحاد کے لیے اقوام‘ کے ایک گروپ کی شروعات کرنا ہو گی تاکہ اپنے ترقیاتی مفادات کو حاصل کیا جا سکے۔












