روس، یوکرین تنازع: روس نے یوکرین پر حملہ کیوں کیا اور صدر پوتن چاہتے کیا ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, پال کربی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
روس نے پڑوسی ملک یوکرین پر زمینی، سمندری اور ہوائی راستوں سے تباہ کن حملہ کرر کھا ہے اور اس کی افواج دارالحکومت کیئو کے مضافات میں پہنچ چکی ہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مہینوں تک یوکرین پر حملے کی منصوبہ بندی سے انکار کرنے کے بعد جمعرات کو یوکرین کے ڈونباس خطے میں ’خصوصی فوجی کارروائی‘ کے آغاز کا اعلان کر دیا تھا۔
روس کی جانب سے یوکرین میں فوجی کارروائی کا قدم صدر پوتن کی جانب سے ’امن بحال رکھنے کی خاطر‘ یوکرین میں باغیوں کے زیرِ اثر دو مشرقی علاقوں میں فوج بھیجنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔
اب جب یوکرین میں مرنے والوں کی تعداد میں روز اضافہ ہو رہا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے یورپ کے امن کو تباہ کر دیا ہے اور یوکرین میں جاری جنگ یورپ کے سکیورٹی ڈھانچے کو تار تار کر سکتی ہے۔
روس نے حملہ کیوں کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روسی صدر نے 24 فرروی کی اپنی تقریر میں کہا تھا کہ یوکرین کی جانب سے آنے والے مسلسل خطرات کی وجہ سے روس اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرتا۔
روسی حملے کے پہلے مرحلے میں ہوائی اڈوں اور فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے اور کرائمیا اور بیلاروس سے فوجی ٹینک یوکرین میں داخل ہوچکے ہیں۔
ولادی میر پوتن کے متعدد دلائل غیر منطقی اور غلط ہیں۔ صدر پوتن کا دعویٰ تھا کہ یوکرین میں فوج بھیجنے کا مقصد یوکرین میں نازی نظریے کے تحت جاری قتل عام کو روکنا ہے۔
یوکرین میں کوئی قتل عام نہیں ہو رہا ہے اور وہ ایک جمہوری ملک ہے جس کا صدر ایک یہودی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر ولادی میرزیلنکسی نے کہا کہ وہ نازی کیسے ہو سکتے ہیں۔ البتہ یوکرینی صدر نے روس کے یوکرین کےحملے کو نازی جرمنی سے موازنہ کیا ہے۔ یوکرین کے رابی نے بھی صدر پوتن کے الزامات کو رد کیا۔
یوکرین کے کتنے حصے روس کے قبضے میں ہیں؟

روس ایک عرصے سے یوکرین کی یورپی تنظیموں جیسا کہ نیٹو اور یورپی یونین سے قربتوں کا مخالف رہا ہے۔ روسی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین مغربی ممالک کی ’کٹھ پتلی‘ ہے اور یہ خطہ کبھی بھی ایک باقاعدہ ریاست نہیں تھا۔
انھوں نے مغربی ممالک اور یوکرین سے ضمانت طلب کی ہے کہ یوکرین 30 ممالک کے اتحاد نیٹو کا حصہ نہیں بنے گا اور ایک غیرجانبدار ریاست کے طور پر رہے گا۔
سابق سوویت ریاست ہونے کے ناطے یوکرین کے روس سے گہرے ثقافتی اور سماجی روابط ہیں اور وہاں روسی زبان عام بولی اور سمجھی جاتی ہے تاہم 2014 میں روس کے حملے کے بعد سے یہ تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔
روس نے 2014 میں یوکرین پر اس وقت حملہ کیا تھا جب وہاں کے روس نواز صدر کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا تھا۔ مشرقی یوکرین میں اس کے بعد سے جاری تنازعے میں اب تک 14 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جب سنہ 2014 میں روس نے یوکرین میں دراندازی کی تھی تو روس کے حمایت یافتہ باغیوں نے مشرقی یوکرین میں بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور اس وقت سے وہ یوکرینی فوج سے برسرِپیکار ہیں۔
اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ جسے ’منسک امن معاہدہ‘ کہا جاتا ہے طے پایا لیکن یہ تنازع جاری رہا اور اب صدر پوتن نے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیرِ قبضہ دو خطوں کو بطور آزاد علاقے تسلیم کرنے کے بعد وہاں روسی دستے بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
روس کہاں تک جائے گا؟
اب یہ تو واضح ہے کہ روس یوکرین کی جمہوری حکومت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
یوکرینی صدر زیلینکسی نے کہا ہے کہ انھیں خبردار کیا گیا ہے کہ ’دشمن‘ نے انھیں اپنا پہلا ہدف اور ان کے خاندان کو دوسرے ہدف مقرر کیا ہے۔
دو ہزار چودہ کے بعد ماسکو سے ایسے جھوٹے بیانیے تیار کیے جا رہے ہیں کہ فاشسٹوں نے یوکرین پر قبضہ کرلیا ہے اور صدر پوتن ایسے لوگوں کو عدالت کے سامنے لانے کی بھی باتیں کی ہیں۔
روس کے یوکرین کے حوالے کیا عزائم ہیں اس کا تو کسی کو علم نہیں لیکن یوکرینی آبادی کی جانب سے اسے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔
رواں برس جنوری میں برطانیہ نے ماسکو پر الزام کیا تھا کہ وہ یوکرین میں ایک کٹھ پتلی حکومت لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس نے اس بیان کو لغو کہہ کر رد کر دیا تھا۔
انٹیلیجنس کی ایک غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق روس یوکرین کو دو حصوں میں بانٹنا چاہتا ہے۔ یوکرین پر حملے سے پہلے روس کی ساری توجہ مشرقی ریاستوں، لوہانسیک اور ڈونیسک پر موکوز تھی جنہیں صدر پوتن نے آزاد ریاستیں تسلیم کر لیا ہے۔
لوہانسک اور ڈونیسک کی ریاستوں کو آزاد ریاستیں تسلیم کرنے کا مقصد دنیا کو یہ بتانا تھا کہ وہ یوکرین کا حصہ نہیں ہیں۔ صدر پوتن نے اب یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ وہ باغیوں کی جانب سے یوکرین کے مزید خطے پر ان کے دعوے کو تسلیم کرتے ہیں۔
روس نے جن ریاستوں کو آزاد ریاستیں تسلیم کر لیا ہے وہ یوہانسیک اور ڈونیسک کے ایک تہائی حصے پر قابض ہیں لیکن کا دعویٰ ان دونوں خطوں کے مکمل علاقے پر ہے۔
یہ بھی پڑھیے
یوکرین پر حملہ یورپ کے لیے کتنا خطرناک ہے؟
یہ وقت یوکرین اور یورپ کے لیے بہت خطرناک ہے جب دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک بڑی طاقت نے اپنے پڑوسی ہمسائے پر حملہ کر رکھا ہے۔
اس جنگ میں جسے جرمنی نے 'پوتن کی جنگ' کہا ہے، سینکڑوں کی تعداد میں فوجی اور عام شہری مارے جا چکے ہیں۔
یوکرین پر روسی حملہ 1940 کے بعد سے تاریک ترین لمحہ ہے۔
فرانس کے صدر ایمنیویل میکراں نے یوکرین پر حملے کو تاریخ کا ’فیصلہ کن موڑ‘ قرار دیا جب کہ جرمنی کے چانسلر اولف شولز نے کہا ہے کہ پوتن روسی سلطنت قائم کرنا چاہتا ہے۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین مہذب دنیا اور روس کے درمیان آہنی دیوار کو بنانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
روس کی عوام اس جنگ کے لیے تیار نہیں تھی۔ روس کے ایوان بالا جو حقیقت میں ایک کٹھ پتلی ادارہ ہے، اس نے اس جنگ کی منظوری دی ہے۔
روس کے یوکرین پر حملے کے پولینڈ، ہنگری، رومانیہ ، مالڈوا اور سلاوکیہ پر براہ راست اثرات ہوں گے جہاں مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پہنچ رہی ہے۔
یورپی یونین کے مطابق سات ملین لوگ بے گھر ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA/Russian Defence Ministry
مغربی ممالک یوکرین کی خاطر کہاں تک جا سکتے ہیں؟
نیٹو نے یہ واضح کیا کہ وہ یوکرین میں اپنی فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ ابھی تک یورپی ممالک نے یوکرین کو اسلحہ اور فیلڈ ہسپتال مہیا کیے ہیں۔ یورپی یونین نے اپنی تاریخ میں پہلی بار ہتھیاروں کو خرید کر یوکرین کو مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مغربی ممالک نے روس کے فوجی کشی جیسے اقدامات کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا ہے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے یوکرین کی علاقائی خودمختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔
نیٹو نے یہ واضح کیا کہ وہ یوکرین میں اپنی فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔
البتہ نے کئی ہزار فوجیوں کو پولینڈ اور بالٹک ریاستوں میں تعینات کیا ہے اور اس نے پہلی بار رپیڈ ایکشن فورس کو بھی متحرک کر دیا ہے۔
نیٹو اس کو مانے گا نہیں لیکن کچھ فوجی دستے بلغاریہ، رومانیہ، ہنگری اور سلواکیہ میں تعینات کیے جا سکتے ہیں۔

اس وقت مغرب روس کی معیشت ، مالی ادارے اور افراد کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یورپی یونین، امریکہ، برطانیہ، جاپان اور کینیڈا روسی بینکوں کو ادائیگیوں کے عالمی نظام سوئفٹ سے علیحدہ کر رہے ہیں۔
یورپی یونین، برطانیہ اور کینیڈآ نے روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین نے صدر پوتن، اور وزیر خارجہ سرگئی لوروف پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یورپی یونین روس کے 351 ممبران پارلیمنٹ پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔
جرمنی نے روس کی نارڈ سٹریم 2 گیس پائپ لائن کی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے۔ بارہ ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے منصوبے میں روس اور یورپی کمینیوں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
یورپ میں روس کے سرکاری میڈیا سپٹنک اور رشیا ٹوڈے کی نشریات کو بند کیا جا رہا ہے۔
یورپی چیمپئنز لیگ جس کا فائنل روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں کھیلا جانا تھا، اسے منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اسی طری سوچی میں رشیئن گرینڈ پر کا بھی انعقاد نہیں ہو سکے گا۔
روسی صدر پوتن کیا چاہتے ہیں؟

صدر پوتن نے مغرب کو خبردار کیا ہے کہ وہ یوکرین پر روس کی ’سرخ لکیریں‘ (ریڈ لائنز) عبور نہ کرے۔ تو وہ سرخ لکیریں کیا ہیں؟
ان میں سے ایک نیٹو کی مشرق میں مزید توسیع ہے، جس میں یوکرین اور جارجیا کے ممالک شامل ہیں۔
روس یہ بھی چاہتا ہے کہ نیٹو مشرقی یورپ میں فوجی سرگرمیاں ترک کر دے، جس کا مطلب یہ ہو گا کہ پولینڈ اور ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوینیا سے اپنے لڑاکا دستوں کو نکالنا، اور پولینڈ اور رومانیہ جیسے ممالک میں میزائل نہ لگانا شامل ہیں۔
مختصراً روس یہ چاہتا ہے کہ نیٹو اپنی سنہ 1997 سے پہلے کی سرحدوں پر واپس آ جائے۔ صدر پوتن کا کہنا ہے کہ روس کا مقصد خونریزی سے بچنا اور سفارتی راستہ تلاش کرنا ہے، لیکن اس قسم کا مطالبہ ناکام ہونے کا امکان کافی زیادہ ہے۔
روس پہلے ہی یوکرین کی طرف سے مشرقی یوکرین میں روسی حمایت یافتہ افواج کے خلاف ترک ڈرونز کی تعیناتی اور بحیرہ اسود میں مغربی فوجی مشقوں سے پریشان ہے۔ صدر پوتن کی نظر میں یوکرین کے لیے امریکی فوجی مدد ’ہمارے گھر کی دہلیز پر‘ مداخلت ہے۔
جولائی 2021 میں، روسی صدر نے کریملن کی ویب سائٹ پر ایک مضمون شائع کیا، جس میں روسیوں اور یوکرینیوں کو ’ایک قوم‘ کہا اور یوکرین کے موجودہ رہنماؤں پر ’روس مخالف منصوبہ‘ چلانے کا لیبل لگایا۔
روس اس بات پر بھی مایوس ہے کہ 2015 کا منسک امن معاہدہ جس کا مقصد مشرقی یوکرین میں تنازع کو روکنا تھا، پورا ہونے سے بہت دور ہے۔ علیحدگی پسند علاقوں میں انتخابات کے لیے آزادانہ طور پر نگرانی کرنے والے اہلکاروں کا ابھی تک کوئی انتظام نہیں ہوا۔ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ اس دیرینہ تنازع کی وجہ ہے۔
نیٹو کا یوکرین پر کیا مؤقف ہے؟
نیٹو کا مغربی فوجی اتحاد کہنے کو دفاعی ہے اور اس کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی فوجی امداد خالصتاً اِن خطوط پر ہے۔
برطانیہ یوکرین کی بحیرہ اسود پر اوچاکیو اور بحیرہ ازوف پر برڈیانسک میں دو بحری اڈے بنانے میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکہ کے ٹینک شکن جیولن میزائل بھی یوکرین بھیجے گئے ہیں اور امریکی کوسٹ گارڈ کی دو کشتیاں بھی یوکرین کی بحریہ کو دی گئی ہیں۔
جب کہ روس بضد ہے کہ وہ یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دے گا، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اس اتحاد کی طرف سے واضح ٹائم لائن کی تلاش میں ہیں۔
اسٹولٹن برگ نے کہا کہ ’یہ یوکرین اور 30 [نیٹو] اتحادیوں پر منحصر ہے کہ یوکرین کب اتحاد میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ روس کو ’اس عمل میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔‘
یوکرین کے صدر چاہتے ہیں کہ ان کے ملک کی نیٹو میں شمولیت کی ٹائم لائن ہونی چاہیے۔ البتہ روس کے چانسلر اولف شولز واضح کر چکے ہیں کہ یوکرین کا ایک لمبے عرصے تک نیٹو اتحاد کا حصہ بنانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
نیٹو اتحاد کا حصہ بننے والےممالک کا اتحاد کو چھوڑنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کیا اس معاملے کا کوئی سفارتی حل ممکن ہے؟
بظاہر اس کشیدگی کا وقتی طور پر سفارتی حل ممکن نہیں رہا۔ فرانس اور امریکہ نے روس کے وزیر خارجہ سے اپنے طے شدہ مذاکرات منسوخ کر دیے ہیں۔ تاہم فرانس اور جرمنی نے یہ واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے امکانات اب بھی کھلے ہیں۔
روس کا اصرار ہے کہ یوکرین اپنے آپ کو ہتھیاروں سے پاک کرے۔ یوکرین کبھی اس مطالبے کو تسلیم نہیں کرے گا۔
اور کوئی ممکنہ معاہدہ اب جنگ اور ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق ہو گا۔
امریکہ نے کم اور درمیانے درجے تک کے فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کو کم کرنے سے متعلق مذاکرات شروع کیے ہیں۔ اس معاہدے میں بین البراعظمی میزائلوں پر نئے معاہدے سے متعلق مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔
ماسکو ان میزائلوں کے باہمی معائنے سے متعلق مجوزہ ’ٹرانپرنسی میکانزم‘ سے متعلق مثبت رویے کا اظہار کرتا آیا ہے۔














