یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب

یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کینیڈا کی یوکرین کے لیے 25 ملین کینیڈین ڈالر امداد

    UKRAINE

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کینیڈا کی وفاقی حکومت نے یوکرین کو غیر مہلک فوجی ہتھیاروں پر مبنی 25 ملین کینیڈین ڈالر کی اضافی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

    اس میں ہیلمنٹ، جسم کی حفاظت کا سامان، گیس ماسک اور رات کو دیکھنے کی صلاحیت کے حامل آلات شامل ہیں۔

    اس میں ابتدا میں سات ملین کینڈین ڈالر کی مالیت کے ہتھیار فراہم کیے جائیں گے۔

    اتوار کو وزیر دفاع انیتا آنند نے اس امداد کا اعلان کیا اور کہا کہ یوکرین میں فوجی مشن پر اپنے فوجی دستے بھجوانے کی کینیڈا اور نیٹو کی جانب سے پیشکش نہیں کی گئی۔

    گذشتہ ہفتے وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ملک کے 3400 فوجی نیٹو کی جانب سے اپنے اتحاد کے اندر موجود علاقوں کا دفاع کرنے کے لیے نیٹورسپانس میں شامل ہونے کو تیار ہیں۔

    خیال رہے کہ یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے۔

    اتوار کو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کینیڈا میں بھی یوکرین کی حمایت میں مظاہرے ہوئے۔

    خود یوکرین اور روس کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ یوکرینی باشندے کینیڈا میں آباد ہیں۔ یہ تعداد تقریباً 13 لاکھ بتائی جاتی ہے۔

  2. اتوار یوکرین کی فوج کے لیے ’مشکل وقت‘

    یوکرین کی فوج نے اتوار کو ہونے والی جنگ کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اتوار کا دن فوجوں کے لیے مشکل تھا۔

    یوکرینی فوج کے جنرل سٹاف نے فیس بک پر اتوار کو ’مشکل وقت‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ روس کے فوجی دستوں کے تقریباً ہر سمت سے حملے جاری رہے۔

    تازہ ترین رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ روسی دستوں نے ملک کی جنوبی بندرگاہ پر قبضہ کر لیا ہے لیکن اس سے قبل یوکرین نے کہا تھا کہ اس نے پلٹ کر ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکییو پر حملہ کیا ہے۔

  3. اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب

    UN

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے روس کے یوکرین پر حملے پر بات چیت کرنے کے لیے ایک غیر معمولی اقدام میں جنرل اسمبلی کا خصوصی ہنگامی اجلاس طلب کرنے کے لیے ووٹنگ کی ہے۔

    یہ اجلاس پیر کو بلوایا گیا ہے جس میں 193 ممبر مماالک کو روسی حملے پر اپنے رائے دینے کی اجازت دی جائے گی۔

    روس نے اس اجلاس کی مخالفت کی تھی لیکن اقوام متحدہ کی ایک خاص قرارداد کے تحت وہ اسے ویٹو نہیں کر سکتا تھا۔

    اقوام متحدہ کی اس قرارداد جسے ’یونائٹنگ فار پیس‘ یعنی امن کے لیے کھٹا ہونے کا نام دیا گیا ہے کے مطابق وہ سکیورٹی کونسل کے ممبر ممالک کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر اس کے پانچ مستقل ممبران (روس، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور چین) امن کو کیسے قائم کیا جائے اس پر متفق نہ ہو سکیں تو وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلوائیں۔

  4. فرانس کی اپنے شہریوں کو روس سے نکلنے کی تجویز

    RUSSIA

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنروس کے مختلف شہریوں میں یوکرین پر حملے کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی ایک جھلک

    فرانس نے اس وقت روس میں موجود اپنے شہریوں کو سختی سے تاکید کی ہے کہ وہ بلا کسی تاخیر کے روس سے نکل جائیں۔

    فرانس نے اپنے شہریوں کو یہ تجویز یورپی یونین کی جانب سے اپنی فضائی حدود کو روس کے لیے مکمل طور پر بند کرنے کے اعلان کے بعد دی ہے۔

    فرانس کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپ اور روس کے درمیان فضائی سفر کی بڑھتی ہوئی پابندیوں کی وجہ سے یہ سختی سے تجویز کیا جاتا ہے کہ روس میں موجود فرانسیسی شہری (سیاح، طالبعلم، پروفیشنلز، وزٹرز) بنا کسی تاخیر کے اس وقت موجود فضائی رابطوں کو استعمال کریں اور روس سے نکل آئیں۔

    وزارت کی جانب سے اپنے شہریوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنے روس کے دوروں کو منسوخ کر دیں۔

  5. بریکنگ, یوکرینی مہاجرین کو تین سال تک اپنے ہاں رہنے کی اجازت دیں گے: یورپی یونین کا اتفاقِ رائے

    یورپی یونین نے متفقہ طور پر اس بات کی رضامندی دی ہے کہ تمام ممبر ممالک یوکرین کے مہاجرین کو تین سال تک اپنے ہاں رہنے کی اجازت دیں گے۔

    یورپ کے لیے بی بی سی کی ایڈیٹر کیٹیا ایڈلر کے مطابق جرمن وزارت داخلہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ممبر ممالک کی جانب سے یوکرینی مہاجرین کو یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ پہلے پناہ کے لیے درخواست دیں۔

  6. ترکی کا اشارہ کہ بحیرہ اسود تک روس کی رسائی روک سکتا ہے

    روس، ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنرواں ماہ کے آغاز کی ایک تصویر جس میں روسی بیڑہ آبنائے فاسفورس سے گزر رہا ہے

    ترکی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس بین الاقوامی معاہدے کی شرائط کو لاگو کرے گا جن کے ذریعے روسی بحریہ کی بحیرہ اسود میں رسائی کو بند کر سکتا ہے۔

    خیال رہے کہ سنہ 1936 کے مونٹریکس کنونشن کے تحت ترکی کو دو آبنائے پر کنٹرول حاصل ہے جو بحیرہ اسود کو بحیرہ روم سے ملاتے ہیں۔ بحیرہ اسود یوکرین کے جنوبی ساحل کی جانب ہے۔

    اس کنونشن میں امن کے دنوں میں بحیرہ اسود سے منسلک ممالک کے بحری جہازوں کو یہاں سے آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہوتی ہے جیسے کہ روس۔ لیکن یہ کنونشن ترکی کو اخیتار دیتا ہے کہ وہ جنگ کے دنوں میں ان بحری راستوں کو تمام بیرونی جنگی جہازوں کے لیے بند کر دے یا ایسی صورت میں بھی ترکی ان راستوں کو بند کر سکتا ہے جب وہ خود خطرے میں ہو۔

    ترکی کے وزیر خارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یوکرین میں صورتحال جنگ میں بدل چکی ہے، ہم شفافیت سے مونٹریکس کنونشن کی دفعات کا اطلاق کریں گے۔

    ترکی جو کہ نیٹو کا اتحادی ہے لیکن یہ سیاحت اور توانائی کے لیے روس پر بھی انحصار کرتا ہے اور اس نے اس سے پہلے تو روسی حملے کو ناقابل قبول قرار دیا تھا لیکن اس صورتحال کو جنگ قرار دینے سے اجتناب کیا تھا۔

  7. کیئو روسی فوج کے گھیرے میں، انخلا کے راستے بند کیے جا رہے ہیں

    ukraine

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کیئو کے میئر نے کہا ہے کہ یہ علاقہ مکمل طور پر روسی فوج کے گھیرے میں ہے اور انھوں نے شہر سے نکلنے کے راستے بند کیے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اب شہر روسی فوجیوں کے گھیرے میں ہے۔

    میئر ویٹالی کلٹسکو سے پوچھا گیا کہ کیا روسی فوج کی جانب سے وفاق پر قبضے کی صورت میں شہریوں کے انخلا کا کوئی منصوبہ تھا؟

    اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم وہ نہیں کر سکتے کیونکہ تمام راستے بند ہیں، اس وقت ہم گھیرے میں ہیں۔

    فضائی حملوں کی آوازوں سے شہر گونج رہا ہے اور یہاں کے مکین کو ایک اور رات انھیں خدشات میں گزارنی ہو گی۔

  8. سویڈن کا یوکرین کو اسلحہ اور امداد بھیجنے کا اعلان

    سویڈن نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو فوجی سازوسامان اور امداد بھیجے گا۔

    یہ اعلان کرتے ہوئے سویڈن کی وزیراعظم میگڈالینا اینڈرسن نے کہا کہ سنہ 1939 میں فن لینڈ پر سوویت حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا جب سویڈن تنازعے میں گھرے کسی ملک کو ہتھیار بھیج رہا ہے۔

    وزیراعظم میگڈالینا نے کہا کہ ’میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ہم یوکرین کو روسی حملے کے خلاف دفاع میں مدد کر کے اپنی طرف سے بہترین سکیورٹی مدد کر سکتے ہیں۔‘

  9. روس، یوکرین کشیدگی: کیا یہ ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہے؟

    اگر موازنہ کیا جائے تو پرانی سرد جنگ کے دوران کے سال بہت آسان تھے اور دنیا کے بہت سے حصوں پر حکمرانی کے اصول کافی واضح تھے۔

    اگر ایک ملک دوسرے بلاک کے ملک پر حملہ کرتا تو مشترکہ تباہی کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا۔ لہٰذا ایسا کبھی نہیں ہوا حالانکہ ایک سے زیادہ مرتبہ جنگ بہت حد تک قریب آ چکی تھی۔

    یوکرین، روس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  10. بریکنگ, روس کا پہلی بار یوکرین میں اپنے جانی نقصان کا اعتراف

    russia

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    روس کی وزارت دفاع نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ یوکرین میں اس کا جانی نقصان بھی ہوا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

    روس کی خبر رساں ایجنسی ’تاس‘ کے مطابق ماسکو میں وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ’خصوصی فوجی آپریشن کے دوران روسی فوج میں اموات کے ساتھ ساتھ فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔‘

  11. کیا موجودہ صورتحال ایک اور کیوبا میزائل بحران جیسی ہے؟, تجزیہ: گورڈن کوریرا، بی بی سی سکیورٹی نامہ نگار

    کیوبا

    روس کی جانب سے جوہری فورسز کو ’خصوصی الرٹ‘ پر رکھنے کا اعلان سنہ 1962 کے کیوبا میزائل بحران کی خوفناک یادیں تازہ کر دیتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ماسکو اور واشنگٹن ایک جوہری جنگ کے انتہائی قریب آ گئے تھے۔

    اس واقعے کے دوران دونوں ممالک کمال سفارت کاری، برنک مین شپ کے اصول پر عمل کرنے اور نتائج کے ڈر کے باعث پیچھے ہٹ گئے تھے۔

    تاہم تاریخی واقعات سے مماثلتیں ڈھونڈتے وقت یہ یاد رکھنا چاہیے کہ حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں ہمیں جوہری جنگ کا ویسا خطرہ یا بحران نہیں ہے۔

    تو پھر یہ صورتحال کتنی خطرناک ہے؟

    عام طور پر بحرانوں کے دوران سب سے بڑا خطرہ غلط اندازے لگانے کا ہوتا ہے۔

    شاید یوکرین کے بارے میں پوتن نے بھی غلط اندازے لگا لیے تھے۔ انھیں شاید اندازہ نہیں تھا کہ یوکرین میں انھیں کتنی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور بین الاقوامی طور پر بھی مغربی اتحاد انھیں کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے، یہ پوتن کی سوچ سے زیادہ مضبوط اتحاد تابت ہوا۔

    شاید یہی وجہ تھی کہ انھوں نے نئی آپشنز کی بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ اس میں زمینی فوج کے حملے میں شدت اور بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کا فیصلہ شامل ہو سکتا ہے۔

    پوتن کی جانب سے جوہری الرٹ کا اعلان ایک خاصا عوامی اشارہ اور وارننگ ہے۔ ان کا منصوبہ دراصل نیٹو کو ڈرانے کی کوشش کرنا ہے تاکہ وہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ ماسکو کس حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔

    وہ اس حوالے سے ابہام پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ایسا کیا کریں گے جو حد پار کرنے کے مترادف ہو گا اور وہ اس کے ردِعمل میں کیا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    تاہم یہ ہتھیاروں کے اصل میں استعمال کرنے جیسا نہیں ہے۔ پوتن کو معلوم ہے کہ ان کے اور روس کے لیے اس کے مضمرات بدترین ہوں گے۔

    لیکن اگر یہ درست بھی ہے کہ وہ ہتھیار استعمال کرنا چاہیں گے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کا ردِ عمل سخت نہیں ہو گا۔ اب تک مغربی ممالک کی جانب سے ردِ عمل میں سخت زبان استعمال نہیں کی گئی۔

    تاہم اس حوالے سے ڈر یہی ہو گا کہ اگر مزید غلط اندازے لگائے گئے تو بحران میں اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ انتہائی خطرناک موڑ پر جا سکتا ہے اور شاید اس کے بہت قریب جو کیوبا میں ہوا تھا۔

  12. بریکنگ, بیلا روس سے داغے گئے میزائل ایئرپورٹ سے ٹکرائے، یوکرینی حکام

    اب سے کچھ دیر ہہلے ہم نے آپ کو خبر دی تھی کہ یوکرین کے وزیر داخلہ کے ایک مشیر کے مطابق آج بیلا روس سے یوکرین میں میزائل داغے گئے ہیں۔

    اب اس حوالے سے تازہ ترین اطلاع یہ آئی ہے کہ یہ میزائل زیتومر شہر کے ایئرپورٹ سے ٹکرائے ہیں۔

    ٹیلی گرام پر اپنی پوسٹ میں انٹون ہراشینکو نے کہا ہے کہ روس اور بیلاروس کے فاشسٹس نے زیتومر ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا ہے۔

    زیتومر

    ،تصویر کا ذریعہZhitomir.info

  13. بریکنگ, یورپی یونین: ’یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں‘

    یورپی یونین

    یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    یورپی یونین کی صدر ارسولہ وان لیین نے ایک پریس کانفرس کے دوران کہا کہ یہ ایک منفرد تاریخی لمحہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار یہ بلاگ ’ہتھیاروں کی خریداری میں مالی مدد کرے گا اور انھیں حملے کا شکار ملک میں بھیجے گا۔‘

    اس موقع پر انھوں نے روس اور بیلا روس کے خلاف مزید پابندیوں کا اعلان بھی کیا۔ ان میں روس پر یورپی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی بھی شامل ہے۔

  14. بیلا روس سے یوکرین میں میزائل داغے گئے ہیں

    یوکرین کے وزیر داخلہ کے مشیر کے مطابق آج بیلا روس سے یوکرین میں میزائل داغے گئے ہیں۔

    یہ میزائل یوکرین کے صدر دلادیمیر زیلنسکی کے دفتر سے اس اعلان کے بعد داغے گئے، جس میں کہا گیا تھا کہ یوکرینی اور روسی حکام بیلاروس کی سرحد پر ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔

    انٹون ہراشینکو نے فیس بک پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: ’بیلا روس کے شہر میزر سے یوکرین میں میزائل داغے گئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس سے کہیں اموات ہوئی ہیں۔ تو ہمارے پاس اس قسم کی جنگ بندی ہے۔‘

  15. کن ممالک کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں؟

    اس وقت دنیا میں پانچ تسلیم شدہ جوہری ریاستیں امریکہ، چین، برطانیہ، فرانس اور روس ہیں جبکہ چار دیگر ممالک بھی جوہری ہتھیار رکھتے ہیں۔

    ان میں سے انڈیا، پاکستان اور شمالی کوریا جوہری تجربات کر چکے ہیں جبکہ اسرائیل کے بارے میں یہی خیال ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں تاہم سرکاری طور پر اس کی نہ تصدیق کی جاتی ہے نہ تردید۔

    اندازوں کے مطابق ان ممالک کے پاس کل ہتھیاروں کی تعداد 14 ہزار کے لگ بھگ ہے اور ان میں سے زیادہ تر ہتھیار امریکہ اور روس کے پاس ہیں۔

    گراف
  16. یوکرین پر حملہ: روس میں احتجاج کرتے مزید 900 افراد زیر حراست

    آزادانہ طور پر مانیٹرنگ کرنے والے ایک گروپ کے مطابق یوکرین پر حملے کے خلاف احتجاج کرنے پر روس کے 44 شہروں سے آج تقریباً 900 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    او وی ڈی انفو گروپ کے مطابق گذشتہ چار روز سے جاری مظاہروں کے دوران روس بھر سے اب تک کل چار ہزار افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے تاہم بی بی سی ان اعدودشمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

    روس، احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روس، احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    روس، احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    روس، احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  17. پوتن کی جوہری دھمکی خطرناک ہے: نیٹو چیف

    نیٹو کے سربراہ جینس سٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ صدر پوتن کا روسی فوج کو اپنی جوہری فورسز الرٹ رکھنے کا حکم ’خطرناک‘ اور ’غیر ذمہ دارانہ‘ ہے۔

    جینس سٹولٹنبرگ نے کہا کہ یہ روسی صدر کی یوکرین کے خلاف جارحیت کو بڑھاوا دیتا ہے۔

    انھوں نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ظاہر ہے جب آپ ایسے بیان کو یوکرین میں جو ہو رہا ہے، اس سے جوڑتے ہیں تو اس سے صورتحال کی سنجیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

  18. روس کو کسی بھی موقع پر نیٹو سے خطرہ نہیں رہا: امریکہ

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین پساکی نے کہا ہے کہ روس کو کسی بھی موقع پر نیٹو سے خطرہ نہیں رہا۔

    روسی صدر پوتن نیٹو سربراہان پر الزم عائد کرتے ہیں کہ وہ روس کے خلاف ’جارحانہ بیانات‘ کی اجازت دیتے ہیں تاہم جین پساکی کا کہنا ہے کہ روس کے صدر کی جانب سے یہ متوقع ردعمل ہے۔

    ’ہم نے انھیں بار بار ایسا کرتے دیکھا ہے۔ روس کو کسی بھی موقع پر نیٹو سے خطرہ نہیں رہا۔ کیا روس کو یوکرین سے خطرہ تھا۔‘

    ’صدر پوتن کا یہ طریقہ رہا ہے اور ہم اس کے خلاف کھڑے ہونے والے ہیں۔‘

    جین پساکی نے مزید کہا کہ ’ہم اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ہمیں صدر پوتن کی مذمت کرنے کی بھی ضرورت ہے۔‘

  19. دنیا کا سب سے بڑا طیارہ روسی حملے میں تباہ ہو گیا: یوکرینی وزیر خارجہ

    plane

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کے وزیرِ خارجہ دمیترو کلیبا نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کا سب بڑا طیارہ اے این 225 مریا روسی حملے کے دوران تباہ ہو گیا ہے۔

    سوویت یونین میں انٹونوف ڈیزائن بیورو کا تیار کردہ یہ عظیم الجثہ طیارہ چھ انجنوں کی مدد سے چلتا ہے اور اس میں ڈھائی لاکھ کلوگرام وزن لے جانے کی صلاحیت ہے اور اسے سوویت یونین کے آخری دنوں میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    نٹونوف ہوائی کمپنی کا بنایا ہو اے این 225 مریا (جس کا یوکرینین زبان میں مطلب خواب) ہے دنیا کا سب سے بڑا اور اپنی نوعیت کا واحد طیارہ ہے۔

    سنہ 1988 میں مکمل کیے جانے والے اس طیارے کی لمبائی 84 میٹر ہے اور 18.1 میٹر اونچے اس جہاز کے بارے میں اس کی کمپنی انٹونوف ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ 242 عالمی ریکارڈ کا مالک ہے۔