روس یوکرین جنگ: تباہی، اموات اور غیر یقینی کے سائے میں گزرے چھ ماہ

روس یوکرین جنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, لورنا ہینکن، ڈیٹا جرنلزم اور ویژیول جرنلزم ٹیمز
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

یوکرین میں جنگ شروع ہوئے تقریباً چھ ماہ ہو چکے ہیں۔

24 فروری کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ٹی وی پر ایک خطاب میں یوکرین کے دونباس خطے میں ایک خصوصی ملٹری آپریشن کا اعلان کیا تھا اور اسی وقت اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے انھیں ایسا نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں سائرن بجنے لگے اور صدر زیلنسکی نے خبردار کیا تھا کہ ‘اگر کسی نے ہماری زمین، ہماری آزادی، ہماری زندگیاں چھیننے کی کوشش کی تو ہم اپنا دفاع کریں گے۔‘

یہ وہ لمحہ تھا جب بہت سے لوگوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل گئیں۔

اب یوکرین کے یومِ آزادی کے موقع پر جب اس جنگ کا کوئی اختتام عنقریب نظر نہیں آ رہا، اب چھ ماہ بعد ہم اس جنگ کے اثرات گرافز کی مدد سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

1۔ حملے سے پہلے یوکرین

روسی حملے سے قبل بھی روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروہ یوکرین کے مشرق میں دونباس کے خطے میں کافی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر چکے تھے۔

21 فروری کو روسی صدر نے اعلان کیا تھا کہ وہ یوکرین کے دو خطوں ڈونیسک اور لوہانسک کو آزاد ریاستیں تسلیم کر رہے ہیں۔

روس یوکرین جنگ

ان کے اس اقدام کی یوکرین، نیٹو اور مغربی ممالک نے مذمت کی اور پھر اسی وجہ سے روسی صدر کو موقع ملا کہ وہ یوکرین میں اپنی فوجیں بھیج سکیں۔

اس وقت تک روس پہلے ہی سنہ 2014 میں کریمیا پر قبضہ کر چکا تھا البتہ بیشتر ممالک اس جزیرہ نما خطے کو یوکرین کا علاقہ مانتے تھے۔

2۔ چھ ماہ بعد کا یوکرین

چھ ماہ بعد روس آگے بڑھ چکا ہے اور مشرقی یوکرین میں کافی علاقوں پر قابض ہے مگر ساتھ ساتھ روس کو کیئو کے قریب اور دیگر شمالی یوکرین میں مختلف شہروں سے نکال دیا گیا ہے جو اس نے حملے کے ابتدائی دنوں میں حاصل کر لیے تھے۔

روسی فوج اب لوہانسک خطے پر مکمل طور پر قابض ہے اور وہ ڈونیسک میں بھی چھوٹی چھوٹی کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔ خارخیو شہر میں کئی ماہ سے بمباری جاری ہے۔

روس یوکرین جنگ

مئی میں ماریوپل میں ایک طویل محاصرے اور یوکرینی افواج کے انخلا کے بعد روس کو کریمیا تک ایک زمینی راستہ مل گیا اور بحیرۂ ازوف سمیت یوکرین کی جنوبی کوسٹ لائن کا مکمل کنٹرول حاصل ہو گیا۔

روس کے پاس اب بھی کریمیا کا مکمل کنٹرول ہے تاہم اگست کے مہینے میں ادھر انھیں حملوں کا سامنا رہا ہے۔

جنوب میں خرسون وہ پہلا شہر تھا جس پر روسی افواج نے کنٹرول حاصل کیا، اب یوکرینی فوج اسے بھی دریا پار طویل رینج آرٹلری سے نشانہ بنا رہی ہے۔

3۔ ہلاکتوں کی تعداد

کسی بھی جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد کا تعین کرنا مشکل ہوتا ہے۔

بی بی سی نے ایک امریکی تنظیم ایکلڈ کے ڈیٹا کا جائزہ لیا ہے اور ان کے مطابق 10 اگست تک ہلاکتوں کی تعداد 13000 سے زیادہ تھی۔

روس یوکرین جنگ

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اندازہ کافی کم ہے۔ روس اور یوکرین دسیوں ہزار ہلاکتوں کے دعوے کرتے ہیں تاہم ان کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکتی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی جنگ میں ملوث فریق کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد کو مستند قرار نہیں دیتا۔

یہ بھی پڑھیے

4۔ پناہ گزینوں کی تعداد

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ لوگ اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں۔ تقریباً 50 لاکھ ہمسایہ ممالک جا چکے ہیں جبکہ 70 لاکھ یوکرین میں داخلی طور پر پناہ گزین بن چکے ہیں۔

روس یوکرین جنگ

تاہم لاکھوں لوگ خاص کر کیئو جیسے شہروں میں اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق 17 اگست تک 64 لاکھ لوگ یوکرین سے یورپ کے دیگر ممالک منتقل ہو ئے۔

کچھ یوکرینی شہری روس بھی گئے ہیں اور روسی صدر پوتن کے مطابق 140000 عام شہریوں کو ماریوپل سے نکال کر روس لے جایا گیا ہے مگر صدر پوتن کا اصرار ہے کہ انھیں زبردستی روس منتقل نہیں کیا گیا۔

کچھ شہری پولینڈ اور جرمنی بھی گئے ہیں۔

یوکرین

5۔ نقصانات

جنگ کے چھ ماہ بعد یوکرین میں ہونے والی تباہی ہر جگہ نظر آتی ہے۔ جہاں لوگوں کے گھر اور شاندار عمارتیں نظر آتی تھیں، آج وہاں صرف کھنڈرات ہی دکھائی دیتے ہیں۔

کیئو سکول آف اکانومکس کے مطابق صرف ہاؤسنگ کے شعبے میں 39 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق کل نقصان 104 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔

6۔ عالمی سطح پر اثرات

یوکرین

اس جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر خوراک کا بحران شروع ہو چکا ہے۔ بہت سے ممالک یوکرینی گندم پر انحصار کرتے ہیں مگر روس نے فروری سے یوکرینی بندرگاہوں کا راستہ روکا ہوا ہے۔

اب چھ ماہ بعد ایک معاہدہ ہو چکا ہے جس کے تحت یوکرین کو برآمدات کرنے کی اجازت ہے۔

اس معاہدے کے تحت روس نے حامی بھری ہے کہ نقل و حمل کے دوران شپمنٹس کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ یوکرین نے وعدہ کیا ہے کہ جن پانیوں میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں وہاں کارگو بحری جہازوں کی رہنمائی بحریہ کرے گی۔

گندم لے جانے والے کئی جہاز یوکرین کی بحیرۂ اسود کی بندرگاہ سے نکل چکے ہیں تاہم ناقدین کو اس بات پر تشویش ہے کہ انھیں واپسی کی مناسب ضمانت نہیں ملے گی۔

اقوام متحدہ اور ترکی نے اس معاہدے کے لیے ثالثی کی تھی۔ یہ اب تک اس جنگ کے دوران بڑی سفارتی پیشرفت قرار دی گئی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، جو کہ ذاتی طور پر مذاکرات میں شامل تھے، نے فریقین کو معاہدے کے تحت اچھے جذبے کے ساتھ کام کرنے کی تجویز دی ہے۔

ترک صدر اردوغان نے کہا کہ گندم کے لیے ہونے والا معاہدہ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کی بنیاد طے کر سکتے ہیں مگر محض کچھ لوگ ہی ان جتنے پُرامید ہیں۔

صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ مذاکرات صرف تب شروع ہو سکتے ہیں جب روس ان علاقوں سے نکلے گا جہاں اس نے مذاحلت کی۔