روس: کار بم حملے میں ہلاک ہونے والی داریا دوگینا کون ہیں؟

داریا دوگینا روس میں کوئی بہت مشہور شخصیت نہیں تھیں لیکن وہ اور ان کے والد اکثر روس کے ذرائع ابلاغ پر یوکرین اور مغربی مخالف سوچ کا اظہار کرتے نظر آتے رہے ہیں۔
داریا کے والد الیگزینڈر دوگین کو اکثر ’پوتن کا ذہن‘ پکارا جاتا ہے اور ایک طویل عرصے سے وہ مغربی مخالف اور انتہائی شدید قوم پرستانہ خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ ماسکو میں ایک ممتاز فلسفی کے طور پر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہے اور بغیر کسی سرکاری حیثیت کے سرکاری حلقوں میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
الیگزینڈر جن کو نام نہاد یوریشیائی تحریک کا بانی قرار دیا جاتا ہے، اپنے کٹر قوم پرستانہ خیالات کی وجہ سے ماسکو کے سیاسی حلقوں میں بہت مقبول ہیں۔
دوگین کا عالمی جغرافیائی سیاسیات کے بارے میں فلسفہ یہ ہے کہ روس کو امریکہ کی عالمی بلادستی کے سامنے ایران اور یورپ مخالف قوتوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
روس میں عام خیال یہ ہی ہے کہ گذشتہ ہفتے ماسکو میں ہونے والے حملے کا اصل نشانہ دوگین تھے جس میں بدقسمتی سے ان کی بیٹی ہلاک ہو گئیں۔
دوگین اسی گاڑی میں گھر جانے والے تھے جس کو آخری وقت میں انھوں نے اپنی بیٹی کی گاڑی سے بدل لیا۔
داریا کون تھیں؟
داریا دوگینا اپنے والد کے افکار کی بڑی حامی تھیں اور روس میں ٹی وی اور یوٹیوب چینلوں پر اکثر ان خیالات کو آگے بڑھاتی نظر آتی تھیں۔
اپنے والد کی سوچ کے مطابق وہ اکثر ان خطوں کی روس میں شمولیت کی بات کیا کرتی تھیں جو ماضی میں روس کا حصہ رہے ہیں جن میں یوریشیائی علاقوں کے علاوہ مشرقی سلاو، یوکرین اور بیلاروس شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہdaria dogina
سنہ 1992 میں پیدا ہونے والی داریا نے ماسکو کی سرکاری یونیورسٹی میں فلسفے کی تعلیم حاصل کی۔
روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کے اساتذہ کا کہنا تھا کہ داریا ایک بہت قابل اور ذہین طالب علم تھیں۔
داریا نے سنہ 2012 اور 2013 میں مختصر عرصے کے لیے فرانس کی بوردو یونیورسٹی میں بھی داخلہ لیا جہاں انھوں نے قدیم یونانی فلسفی افلاطون پر اپنی توجہ مرکوز کیے رکھی اور انھوں نے افلاطون پر ہی مقالہ لکھا اور پوسٹ گریجویٹ تحقیق بھی افلاطون پر ہی کی۔
روس میں ایک آزاد ویب سائٹ میدوز نے داریا کے مختلف دوستوں سے بات کی۔ ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک گرمجوش اور کھلے دل کی مالک تھیں۔ ان اپنےدوستوں کے ساتھ وہ الیکٹرک موسیقی میں دلچسپی رکھتی تھیں۔ ان میں سے کچھ اسی بینڈ کا حصہ تھے جس میں داریا بطور بانسری نواز شریک تھیں۔
یہ ایک ایسا قتل ہے جس نے روس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
داریا کیسے ہلاک ہوئیں
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد الیگزینڈر دوگین کی گاڑی میں نصب کیا گیا تھا جو ماسکو کے باہر ایک تقریب میں شرکت کے بعد گھر جا رہے تھے لیکن آخری لمحات میں انھوں نے اپنی بیٹی کے ساتھ گاڑیاں تبدیل کر لیں۔
دوگین کی بیٹی دریا جب گاڑی میں گھر کی جانب روانہ ہوئیں تو گاڑی کے نیچے لگا دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا اور گاڑی میں آگ لگی گئی۔
روسی حکام نے کہا ہے کہ اس حملے میں ممکنہ طور پر نشانہ دریا کے والد الیگزنڈر دوگین تھے۔
دوگین اور اس کی بیٹی داریا، زخاروو اسٹیٹ میں ایک میلے میں مہمان خصوصی تھے، جہاں انھوں نے ایک لیکچر بھی دیا تھا۔
روس نے پیر کو براہ راست یوکرین پر اس قتل کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگایا۔
روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے کہا کہ اس نے اس معاملے کو حل کر لیا ہے اور یوکرین کی انٹیلی جنس سروسز نے ایک خاتون کی خدمات حاصل کی تھیں جو جولائی کے وسط میں اپنی جوان بیٹی کے ساتھ روس پہنچی تھی۔
یوکرین کی تردید
تاہم یوکرین نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
یوکرین کے حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا تعلق روس کی اندرونی سیاسی لڑائی سے ہے۔
صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے کہا کہ ’یقیناً یوکرین کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ ہم ایک مجرمانہ ریاست نہیں ہیں، جو کہ روشیئن فیڈریشن ہے، اور ہم دہشت گرد ریاست تو بالکل نہیں ہیں۔‘
ایف ایس بی کا الزام ہے کہ مبینہ حملہ آور خاتون نے دوگینا کی زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے اسی عمارت میں ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لیا جس میں دوگینا رہائش پذیر تھیں۔
سیکیورٹی ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ مشتبہ افراد نے ایک منی کوپر کار استعمال کی جس پر مختلف اوقات میں تین مختلف لائسنس پلیٹوں کا استعمال کیا گیا۔
ایف ایس بی کے مطابق ملزم دھماکے کے بعد ایسٹونیا فرار ہو گئے۔
روسی سیکیورٹی سروس، ایف ایس بی نے اطلاع دی ہے کہ اس حملے کے پیچھے یوکرین کا ایک شہری تھا جو جولائی میں ملک میں آیا تھا۔
بی بی سی آزادانہ طور پر ان الزامات کی تصدیق نہیں کر سکی۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ٹیلی گرام پوسٹ میں کہا کہ یوکرین سے جو بھی تعلق پایا گیا وہ ’ریاستی دہشت گردی‘ کے مترادف ہوگا۔
قیاس آرائیاں
بی بی سی کی روسی سروس کے مطابق دوگینا کی موت نے روس میں اس جرم کے پس منظر اور اس کے نتائج کے بارے میں قیاس آرائیوں کی ایک لہر کو جنم دیا۔
روس کے سابق رکن پارلیمنٹ الیا پونوماریف نے اتوار کو کہا کہ اس قتل کے پیچھے پوتن کے مخالف اندرونی گروہوں کا ہاتھ ہے۔
دوسری طرف، دوگین کی سوچ سے اختلاف رکھنے والوں نے روسی خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کے شک کا اظہار کیا ہے لیکن اس بارے میں وہ کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔
دوگینا کی کار میں دھماکے کے بعد روسی تجزیہ کاروں کی جانب سے پہلا سوال یہ تھا کہ کیا اس کا نشانہ ان کے والد تھے ؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس طرح کے واقعات، خاص طور پریوکرین کی سرحد کے ساتھ روسی علاقوں اور کریمیا کے جزیرہ نما پر سلسلہ وار دھماکے اور حملے، ماسکو کے حکام کے لیے یقیناً پریشانی کا سبب ہیں۔ کریمیا کا روس نے 2014 میں اپنے ساتھ الحاق کر لیا تھا۔
روسی ایوان صدر کریملن کی طرف سے ہمیشہ یہ دعوی کیا جاتا رہا ہے کہ کس طرح ولادیمیر پوتن نے 1990 کی دہائی کے ہنگامہ خیز دور میں جب کار بم دھماکے اور قتل عام تھے روس میں سلامتی اور استحکام پیدا کیا۔
روسی دارالحکومت میں ہونے والا یہ کار بم حملہ ان دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔
دوگین کا انتہائی قوم پرست، مغرب مخالف فلسفہ روس میں غالب سیاسی نظریہ بن گیا ہے اور اس نے صدر پوتن کی توسیع پسند خارجہ پالیسی، خاص طور پر یوکرین میں تشکیل دینے میں مدد کی ہے۔
اب توجہ اس طرف ہو گی کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔
یہ بھی پڑھیے
خود ساختہ، روس نواز ’ڈونیٹسک پیپلز ریپبلک‘ کے ’سربراہ‘ ڈینس پوشیلین پہلے ہی یوکرین پر الزام لگا چکے ہیں۔ انھوں نے ٹیلی گرام پر لکھا ہے: ’بدتمیز ولن! یوکرائنی حکومت کے دہشت گردوں نے، الیگزینڈر دوگین کو ختم کرنے کی کوشش کی، دھماکے سے اڑا دیا ان کی بیٹی کو... ایک کار میں۔ ہم داریا کی یاد مناتے ہیں، وہ روس کی سچی بیٹی ہے۔‘
اگرچہ وہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہیں، لیکن دوگینا کے والد روسی صدر کے قریبی اتحادی ہیں اور انھیں ’پوتن کا راسپوتن‘ بھی کہا جاتا ہے۔
دوگینا ایک ممتاز صحافی تھیں جنھوں نے یوکرین پر حملے کی کھل کر حمایت کی۔
اس سال کے شروع میں ان پر امریکی اور برطانوی حکام کی طرف سے پابندی عائد کردی گئی تھی۔ ان پر روسی حملے کے سلسلے میں انٹرنیٹ پر ’غلط معلومات‘ پھیلانے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مئی میں، دوگینا نے ایک انٹرویو میں جنگ کو ’تہذیبوں کا تصادم‘ قرار دیا تھا۔
امریکہ نے 2015 میں الیگزینڈر دوگین پر روس کے کریمیا کے الحاق میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔
ان کی تحریروں کو ولادیمیر پوتن کے عالمی نظریہ پر گہرا اثر ڈالنے کا سہرا دیا جاتا ہے اور وہ کریملن میں بہت سے لوگوں کی طرف سے حمایت یافتہ انتہائی قوم پرست نظریے کے اہم دانشوروں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔
ایک عرصے سے، دوگین ماسکو سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ عالمی سطح پر خود کو زیادہ جارحانہ انداز میں پیش کرے اور انھوں نے یوکرین میں روسی فوجی کارروائی کی حمایت بھی کی ہے۔











