شاہ چارلس سوم: پرنس آف ویلز سے برطانیہ کی بادشاہت تک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ہیو تھامس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
شاہ چارلس سوم نو سال کے تھے جب اُن کی والدہ نے اُنھیں ’پرنس آف ویلز‘ بنایا۔
اُنھیں ’شرمندگی‘ بھرا وہ لمحہ یاد ہے جب وہ اپنے ہیڈ ماسٹر کے کمرے میں کچھ دوستوں کے ساتھ بیٹھے ٹی وی پر اپنی کی والدہ (ملکہ برطانیہ) کو یہ اعلان کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
ملکہ برطانیہ نے 1958 میں کارڈف گیمز کے اختتام پر اپنے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’میں اپنے بیٹے چارلس کو پرنس آف ویلز بنانا چاہتی ہوں۔‘
اُنھوں نے مزید کہا: ’جب وہ بڑے ہو جائیں گے تو میں اُنھیں آپ کے سامنے کرنارفن میں پیش کروں گی۔‘
مجمعے نے اس اعلان پر خوشی کا اظہار کیا۔ اس اعلان کے ذریعے ملکہ نے وہ صدیوں پرانی روایت قائم رکھی جس کے تحت تخت کے جانشین کو پرنس آف ویلز کہا جاتا ہے۔
اس اعلان کا مقصد یہ تھا کہ نوجوان شہزادہ چارلس اور ملک اس خیال سے پوری طرح واقف ہو جائیں۔
سنہ 50 کی دہائی میں ویلز برطانیہ کے رکن ملک کے طور پر مطمئن تھے اور پرنس آف ویلز کے عہدے سے جڑی خونی تاریخ کا کم ہی ذکر کیا جاتا۔
ان سے پہلے پرنس آف ویلز کے عہدے پر رہنے والے ایڈورڈ ہشتم نے خود کو ویلز کی صنعتی وادیوں میں موجود کچھ لوگوں کے قریب کر لیا تھا۔
اُنھوں نے 1930 کی دہائی میں جنوبی ویلز میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی تاہم ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا کہ ’کچھ نہ کچھ کرنا ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 1936 میں جب اُنھوں نے ویلز کے خستہ حال ڈاؤلیس آئرن اینڈ سٹیل ورکس کا دورہ کیا تو اُنھوں نے ویسٹرن میل کے مطابق کہا تھا کہ ’کچھ کرنا ہو گا تاکہ انھیں دوبارہ کام سے لگایا جا سکے۔‘
بعد میں ان کے تخت کو چھوڑ دینے کی وجہ سے جو بحران پیدا ہوا ہے، اس کے باوجود اُن کی واضح نرم دلی کے باعث جنوبی ویلز میں کئی لوگوں کے دلوں میں تخت چھوڑ دینے والے بادشاہ کے لیے نرم گوشہ تھا۔
سنہ 1969 میں چارلس کو باقاعدہ طور پر پرنس آف ویلز بنائے جانے کے موقع تک دنیا اور ویلز بدل چکے تھے۔

کرنارفن کاسل میں منعقد ہونے والی یہ تقریب رنگارنگ تھی اور اس کا مقصد چارلس کو دنیا سے متعارف کروانا تھا۔ مگر اسی تقریب کے موقع پر کچھ لوگوں نے احتجاجی مظاہروں کی منصوبہ بندی بھی کر رکھی تھی۔
بعد میں اس حوالے سے کوئی شک نہیں رہا کہ وہ پرنس آف ویلز تھے اور تخت کے ایک بالغ ذہین وارث بھی۔
ان کو پرنس آف ویلز بنائے جانے کے مخالفین درحقیقت قرونِ وسطیٰ کے ویلش شہزادوں کی برطرفی سے متاثر تھے جنھیں فاتح انگریز حکمرانوں نے عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 1282 میں لیویلین آف گروفود کے قتل کے بعد پرنس آف ویلز کا خطاب کسی ویلش شخص کو نہیں ملا۔
حالانکہ انھیں بطور پرنس آف ویلز لوگوں نے قبول ہی کیا مگر اُنھیں اکثر و بیشتر مخاصمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
لیکن اس خطاب کے طویل ترین عرصے تک حامل رہنے والے شہزادے نے کئی ایسی تنظیموں میں روابط پیدا کیے جو ویلش ثقافت کی عکاسی کرتی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رواں برس جولائی میں 1500 افراد چارلس اور کمیلا کو تریورچی شہر کے مرکز میں خوش آمدید کہنے کے لیے جمع تھے۔
اس شام غیر ملکی سفیروں نے شہزادے سے ان کے ویلش گھر لیوائن ورموڈ میں ملاقات کی اور رائل ویلش کالج آف میوزک اینڈ ڈرامہ کے طلبا کی پرفارمنس سے محظوظ ہوئے اور ویلش کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔
چارلس کا ویلز میں وقت نہایت مصروف گزرا اور اُنھوں نے ایسے تعلقات قائم کیے جنھیں چھوڑنا آسان نہیں ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب چارلس سوم نے جمعے کو قوم سے خطاب میں پرنس آف ویلز کا خطاب اپنے بیٹے ولیم کو عطا کرنے کا اعلان کیا تو کئی لوگوں کو اس پر خوشگوار حیرت ہوئی۔
اس لیے نہیں کیونکہ یہ غیر متوقع تھا بلکہ اس لیے کیونکہ یہ کئی لوگوں کی توقعات سے جلد کر دیا گیا تھا۔
وہ لوگ جو یہ سنتے ہوئے بڑے ہوئے تھے کہ چارلس کے پرنس آف ویلز بننے کا سفر کتنا طویل تھا، وہ یہ سوچ رہے تھے کہ چارلس اس اعلان کو کسی اور دن کے لیے رکھیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بینگور یونیورسٹی میں جدید تاریخ کی پروفیسر ڈاکٹر ماری ولیم کہتی ہیں کہ ’یہ میرے لیے غیر متوقع تھا۔ مجھے دھچکا لگا۔‘
ڈاکٹر ولیم کے نزدیک نئے پرنس آف ویلز کے لیے اگر تقریب منعقد کی بھی جاتی ہے تو اسے چارلس کو پرنس آف ویلز بنائے جانے سے کہیں سادہ ہونا چاہیے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’کسی بھی تقریب کی ضرورت نہیں ہے۔ کئی لوگ بالخصوص چارلس جانتے ہیں کہ 1969 میں کیا مسائل ہوئے تھے۔‘
ڈاکٹر ولیم کے مطابق ’اس سب کا انحصار اس دور کی سیاست پر بھی ہے۔ سنہ 1911 میں لوئیڈ جارج اپنے سیاسی کریئر کی خاطر کرنارفن میں بطور پرنس آف ویلز تقرری کے لیے بے تاب تھے مگر اس کی ایک وجہ ویلز کا رتبہ بھی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’اب اختیارات کی منتقلی اور ویلش پارلیمان کے کردار کی وجہ سے ویلز اس دور کے مقابلے میں زیادہ بالغ ملک ہے۔ سو شاید اس کی ضرورت نہ ہو۔‘
یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کیا بکنگھم پیلس نئے پرنس آف ویلز کے تقرر کے لیے ویلش حکومت سے اجازت طلب کرے گا۔
سنہ 1969 میں ویلش پارلیمان اور حکومت وجود نہیں رکھتے تھے۔ اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ الزبتھ دوم کے دورِ حکومت میں برطانیہ کس قدر تبدیل ہو چکا ہے۔
برطانوی حکومت اور بکنگھم پیلس نے ایسی کسی بات چیت کی تصدیق نہیں کی ہے۔
بادشاہ کی تقریر کے کچھ دیر بعد ہی ویلز کے فرسٹ منسٹر (وزیرِ اعظم) مارک ڈریک فورڈ نے کہا کہ ’ہم نئے پرنس اور پرنسز آف ویلز کے ساتھ اپنے تعلقات گہرے کرنا چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیاسی جماعت پلائیڈ کیمری کے رہنما ایڈم پرائس نے کہا ’وقت کے ساتھ‘ عوام میں ’پرنس آف ویلز کے خطاب سے متعلق‘ بحث ہونی چاہیے۔
پلائیڈ کے ایک سابق رہنما لارڈ دافید ایلس تھامس نے اس وقت کے شہزادہ چارلس کو دوست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے
ملکہ الزبتھ کی وفات کے دن لارڈ ایلس تھامس نے کہا کہ اپنی سیاسی تاریخ کے باعث پرنس آف ویلز کا خطاب ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
مگر اب چونکہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ خطاب قائم رہے گا تو ان کا کہنا ہے کہ وہ شہزادہ ولیم کے ہوتے ہوئے چیزوں میں تبدیلی چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اُنھوں نے کہا کہ ’اگر شاہی خاندان کا کوئی رکن ایسا ہو جسے ویلز کی ذمہ داری دی جائے تو ہم بادشاہت کے اندر اختیارات کی منتقلی کی بات کر رہے ہیں۔‘
لارڈ ایلس تھامس نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ہم نے اب تک اس معاملے پر غور کیا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہو سکتا ہے اور اس سے کیا مواقع مل سکتے ہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’ولیم اور کیتھرین کے بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اُنھیں ویلز میں رہائش کا تجربہ ہے اور یہ اہم بات ہے۔‘
سنہ 2018 میں آئی ٹی وی کے لیے یوگوو کے ایک پول میں 1000 لوگوں میں سے 57 فیصد نے کہا کہ اگر چارلس بادشاہ بن جائیں تو شہزادہ ولیم کو پرنس آف ویلز کا خطاب دینا چاہیے جبکہ 22 فیصد نے کہا کہ یہ خطاب اب ختم کر دینا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہChris Jackson
یہ اعداد و شمار سنہ 2009 میں بی بی سی کی ایک رائے شماری سے مطابقت رکھتے ہیں جو 1000 سے کچھ کم لوگوں سے کی گئی تھی۔ اس میں 58 فیصد لوگوں نے رائے دی تھی کہ چارلس کے بادشاہ بننے کے بعد ایک نیا پرنس آف ویلز ہونا چاہیے۔
سابق ویلش سیکریٹری لارڈ پیٹر ہائین نے کہا تھا: ’میں نے ویلز کے لیے ان کا جذبہ ملینیئم سٹیڈیم میں دیکھا ہے جب وہ ویلش رگبی ٹیم کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ میں نے اُنھیں ذاتی طور پر ویلش طرزِ زندگی اور ویلز کے لیے باعثِ فخر تمام چیزوں کے لیے جذبے کا حامل دیکھا ہے۔‘
اُنھوں نے کہا تھا کہ ولیم پرنس آف ویلز کے خطاب ’کی قدر میں اضافہ کریں گے۔‘
’وہ دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں، وہ نوجوان ہیں، جدید ہیں اور لوگوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ زبردست پرنس آف ویلز بنیں گے۔‘
شہزادہ ولیم کو اب پرنس آف ویلز کا اعزاز عطا کر دیا گیا ہے اور اب یہاں کی تنظیموں اور فلاحی اداروں کے ساتھ تعلقات قائم کرنا ان پر ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہاں ویسے بھی ان کے کافی تعلقات ہیں کیونکہ وہ یہاں پر رائل ایئرفورس کے ساتھ خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ ویلش رگبی یونین کے سرپرستِ اعلیٰ ہیں۔
شہزادہ ولیم اس مخاصمت کا سامنا بھی کریں گے جس کا سامنا ان کے والد کو کرنا پڑا جبکہ اس گرم جوشی کا بھی جو ان کے والد کو ملی۔
اور شہزادی کیتھرین کے لیے بھی کچھ مشکلات ہوں گی۔ اُنھیں پرنسز آف ویلز کا خطاب ملا ہے جو ولیم کی والدہ شہزادی ڈیانا کی پہچان بن چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک شاہی ذریعے کا کہنا ہے کہ شہزادی کیتھرین ’تاریخ کی قدر‘ کرتی ہیں اور اس کردار کو اپناتے ہوئے ’مستقبل کی جانب دیکھیں گی۔‘
شاہ چارلس نے درجنوں فلاحی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے ہیں اور لوگوں کے ساتھ دوستیاں بھی۔ اب وہ اس خطاب سے دستبردار ہو گئے ہیں۔
شہزادہ ولیم کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا وہ اسی کردار میں اپنے آپ کو ڈھالیں گے یا نئے پرنس آف ویلز کے طور پر اپنا راستہ چنیں گے۔









