ملکہ الزبتھ: بالمورل سے آخری سفر کا آغاز، میت کے احترام میں عوام سڑکوں پر

برطانیہ

،تصویر کا ذریعہPA Media

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور اتوار کو ان کی میت ایڈنبرا پہنچا دی گئی ہے۔ اس سے قبل جب ملکہ کی میت بالمورل سے ایڈنبرا کے لیے میت گاڑی میں سفر پر روانہ کی گئی تو بڑی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔

سوگواران کی بڑی تعداد خاموشی سے ملکہ کی میت کو جاتے ہوئے دیکھا۔ ان کی میت کو شاہی معیار کے مطابق خاص انداز سے کپڑے میں لپیٹا گیا ہے۔

سکاٹ لینڈ میں بڑی تعداد میں عوام بادشاہ چارلس سوم کو بھی سننے کے لیے جمع ہیں۔

ملکہ الزبتھ

خیال رہے کہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات ویسٹ منسٹر ایبی میں 19 ستمبر کو ادا کی جائیں گی۔

چار دن تک عوام کو ان کی میت کے آخری دیدار کی اجازت ہو گی۔

اس سے پہلے ملکہ کی میت کو 12 ستمبر کو 24 گھنٹوں تک سینٹ جائلز کیتھیڈرل ایڈنبرا میں رکھا جائے گا جہاں لوگ انھیں خراج عقیدت پیش کرنے آ سکیں گے۔

بالمورل

،تصویر کا ذریعہPA Media

ملکہ کی بیٹی پرنسز رائل (شہذادی این)، 175 میل کے سفر پر اس قافلے کی دوسری کار میں سفر کر رہی ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے شوہر وائس ایڈمرل سر ٹم لارنس بھی موجود ہیں۔

تابوت چھ گھنٹے کے کم رفتار سفر کے ساتھ ابرڈین اور ڈونڈی سے ہوتا تقریباً چار بجے ایڈنبرا پہنچنے گا۔

تابوت کی چادر پر ملکہ کے کچھ پسندیدہ پھول ہیں، جو سفید درانتی سے کاٹے گئے ہیں۔

جب یہ کارٹیج بالیٹر پہنچی تو آبرڈین شائر میں، جو بالمورل کا قریب ترین گاؤں ہے، سوگواروں نے سڑک پر پھول پھینکے۔

ان کا خاندان، سیاستدان اور عالمی رہنما ان کی آخری رسومات میں شرکت کریں گے جو 19 ستمبر کو برطانوی وقت کے مطابق دن 11 بجے ادا کی جائیں گی۔ اُس روز برطانیہ میں سرکاری چھٹی ہو گی۔

بالمورل، ایبرڈین شائر سے جہاں ان کی وفات ہوئی ملکہ کا تابوت اتوار کو ایڈنبرا منتقل ہو جائے گا اور سہ پہر چار بجے تک ہولیروڈ ہاؤس کے محل تک جائے گا۔

پیر کی سہ پہر یہ شاہی خاندان کے ارکان کے ہمراہ سینٹ جائلز کیتھیڈرل، ایڈنبرا تک جائے گا۔ وہاں ایک دعائیہ تقریب ہو گی اور تابوت 24 گھنٹے یہاں رہے گا تاکہ لوگ ان کی تعزیت کر سکیں۔

اگلے دن شہزادی این اپنی والدہ کی میت کے ساتھ واپس لندن جائیں گی۔ ملکہ کا تابوت ایڈنبرا ایئرپورٹ سے بکنگھم پیلس لے جایا جائے گا۔

بدھ کی سہ پہر اسے ویسٹ منسٹر ہال لے جایا جائے گا، سہہ پہر تین بجے ملکہ کا تابوت وہاں پہنچے گا۔ آخری رسومات سے قبل جمعرات کے بعد چار دن تک میت وہاں رکھی جائے گی۔

ریاستی طور پر آخری رسومات 19 تاریخ کو دن گیارہ بجے ہوں گی جس کے دوران شرکا ونڈزر کاسل تک ایک جلوس کی شکل میں پیدل جائیں گے، ملکہ کو ونڈزر میں کنگ جارج ششم میموریل چیپل میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

Prince Andrew and Princess Anne look at floral tributes in Balmoral

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نئے بادشاہ کا مملکت کا دورہ

آخری رسومات سے قبل نئے بادشاہ سکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز جائیں گے۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ قومی سوگ ریاستی سطح پر آخری رسومات کی ادائیگی تک جاری رہے گا۔ شاہی خاندان اس کے بعد مزید سات دن سوگ منائے گا۔

ویسٹ منسٹر ایبی وہ تاریخی گرجا گھر ہے جہاں برطانیہ کے بادشاہوں اور ملکاؤں کی تاج پوشی کی جاتی ہے لیکن وہاں پر 18ویں صدی کے بعد سے کسی شاہی حکمران کی آخری رسومات ادا نہیں کی گئیں۔

1900 کی دہائی میں ملکہ کے والد، دادا اور پر دادی، ملکہ وکٹوریہ کی آخری رسومات ونڈسر کے سینٹ جارج چیپل میں ادا کی گئی تھیں۔

ملکہ کی زندگی اور خدمات کی یاد میں دنیا بھر سے سربراہان مملکت کو شاہی خاندان کے ارکان کے ساتھ اس تقریب میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی۔

توقع ہے کہ برطانیہ کے سینیئر سیاستدان اور موجودہ اور سابق وزرائے اعظم بھی اس تقریب میں شامل ہوں گے۔ اس تقریب کو ٹیلی وژن پر نشر کیا جائے گا۔

اگرچہ حکومت کی جانب سے پہلے سے طے شدہ پروگرامز کو منسوخ کرنے کے حوالے سے منتظمین کو کوئی ہدایت نہیں کی گئی تاہم حکومتی ہدایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھیلوں یا پہلے سے طے شدہ دیگر پروگراموں کے منتظمین کو آخری رسومات کی تقریب سے متصادم ہونے سے بچنے کے لیے اوقات کار کا دوبارہ جائزہ لے لینا چاہیے۔

ملکہ کی وفات کے فوراً بعد کچھ تقریبات منسوخ یا ملتوی کر دی گئی تھیں۔

پریمیئر لیگ، انگلش فٹ بال لیگ، سکاٹ لینڈ یا شمالی آئرلینڈ میں ہونے والے فٹ بال میچز کو منگل تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ویمنز سپر لیگ، ویمنز چیمپئن شپ اور ویمنز ایف اے کپ کے تمام میچز کو بھی روک دیا گیا ہے۔ گھوڑوں کی دوڑ، گالف اور باکسنگ کے متعدد مقابلوں کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

اگلے ہفتے کے لیے بڑے پیمانے پر ہڑتال کے طے شدہ منصوبوں کو بھی فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے اور ٹریڈ یونین کانگریس نے کہا کہ وہ برائٹن میں اپنی سالانہ کانفرنس ملتوی کر رہی ہے۔

بادشاہ نے سنیچر کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ آخری رسومات کے دن سرکاری چھٹی ہو گی۔

اپنی تقریر میں انھوں نے ملکہ کے دور حکومت کی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیے

Britain's King Charles III makes his declaration

،تصویر کا ذریعہJonathan Brady/PA

بادشاہ چارلس اپنی والدہ کی وفات کے بعد بادشاہ بنے ہیں اور سیاست دانوں، حکام اور پادریوں کی پریوی کونسل کے اجلاس نے باقاعدہ طور پر اس کی تصدیق کی ہے۔

کھچا کھچ بھرے کمرے میں سابق برطانوی وزرائے اعظم بھی شامل تھے جب سینٹ جیمز پیلس میں فریری کورٹ کی ایک بالکونی میں ان کے بادشاہ بننے کا اعلان پڑھ کر سنایا گیا۔

پریوی کونسل کے کلرک رچرڈ ٹلبروک نے چارلس کو بادشاہ قرار دیا اور کہا ’دولت مشترکہ کے سربراہ، عقیدے کے محافظ‘ ، ’خدا بادشاہ کی حفاظت کرے‘۔