ملکہ الزبتھ دوم: انڈیا اور افریقہ میں ملکہ کے بارے میں کچھ مختلف سے خیالات

A newspaper vendor seen reading a local daily reporting on the death of Queen Elizabeth II in the city of Nairobi. Queen Elizabeth II

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, نوماسا مسیکو
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، جوہانسبرگ

برطانیہ کی سابق کالونیوں میں سے اکثر نے ملکہ کو کُھلے عام خراج عقیدت پیش کیا جبکہ دیگر افراد نے ملکہ کی ایسی تصاویر شیئر کیں جن میں وہ ان کے ممالک کا دورہ کر رہی ہیں۔

لیکن اس تعریف میں سب شامل نہیں ہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے اُن کی موت نے نوآبادیاتی حکمرانی کی تلخ یادیں تازہ کر دی ہیں جب مقامی افراد پر مظالم ڈھائے گئے، مغربی افریقی قوموں سے مجسمے اور نوادرات، جنوبی افریقہ اور انڈیا سے سونا اور ہیرے ’چرائے‘ گئے، ایسا نو آبادیاتی نظام جس کی پہچان غلامی اور جبر بنی۔

جہاں جنوبی افریقہ کے صدر سرل رامافوسا نے ملکہ کو ایک ’غیر معمولی شخصیت‘ قرار دیا جن کو دنیا بھر میں کئی لوگ محبت سے یاد کرتے ہیں، حزب مخالف فریڈم فائٹرز پارٹی نے کہا کہ وہ ’ماتم کرنے والوں میں شامل نہیں ہیں۔‘

ملک کی تیسری بڑی جماعت نے ایک بیان میں کہا کہ ’70 سالہ دور حکمرانی کے دوران ملکہ نے کبھی ان جرائم کو تسلیم نہیں کیا جو برطانیہ اور ان کے خاندان نے دنیا بھر میں ڈھائے‘ اور ’دراصل وہ فخر سے بربریت کی شمع اٹھائے رہیں۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’ہمارے لیے ان کی موت اس ملک اور افریقی تاریخ کے تلخ ترین دور کی یاد دہانی ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ناقدین اس سے بھی ایک قدم آگے چلے گئے۔

Queen Elizabeth dancing with Ghanaian president Kwame Nkrumah in 1961, four years after the country gained independence

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن1961 میں ملکہ الزبتھ خود مختار گھانا کے صدر کوامے نکروما کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے

نائجیریا نژاد امریکی پروفیسر اجو انیا کی جانب سے ملکہ کی موت سے چند گھنٹے قبل کی گئی ٹویٹس پر شدید بحث شروع ہو گئی۔

ان میں سے ایک کو ٹوئٹر نے اپنے قوانین کی خلاف ورزی پر ہٹا بھی دیا۔ ایک دوسری ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’اگر کوئی مجھ سے یہ توقع رکھتا ہے کہ میں ایک ایسے شاہی حکمران کے لیے حقارت کے علاوہ کسی اور احساس کا اظہار کیا جائے، جس نے ایک ایسی حکومت کی نمائندگی کی جس نے میرے آدھے خاندان کا قتل عام کیا اور ان کو بے گھر کیا اور جس کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں، تو ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کی ٹویٹ بظاہر بیافرن جنگ کی جانب اشارہ ہے جو 1960 کے اواخر میں ہوئی۔ اس کے دوران برطانوی حکومت نے نائجیریا کی حکومت کی حمایت کی اور اسلحہ بھی فراہم کیا جس کے دوران بیافرا ریپبلک کے علیحدگی پسندوں کو شکست دی گئی۔

پیرن ایسینشیل نامی ٹویٹر صارف نے جواب دیا کہ ’نائجیریا کے لوگ اس طرح برتاؤ نہیں کرتے‘ اور کہا کہ ’آپ ہمارے ملک اور ثقافت کی غلط نمائندگی کر رہی ہیں۔‘

کئی دیگر افراد کا کہنا ہے کہ کسی شخص کی موت کے بعد اسے بُرا بھلا کہنا افریقی ثقافت کا حصہ نہیں۔

تاہم ایسی پوسٹس بھی منظر عام پر آئیں جن میں سٹار آف افریقہ ہیرے کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا جو 1905میں جنوبی افریقہ میں ایک کان سے ملا تھا اور اب برطانوی شاہی زیورات کا حصہ ہے۔ کئی لوگوں کے مطابق یہ ’چوری‘ کیا گیا تھا۔

اگرچہ ٹرانسوال کی حکومت نے اس ہیرے کو خرید کر برطانوی شاہی خاندان کو وفاداری کی علامت کے طور پر بطور تحفہ دیا تھا، سوشل میڈیا پر عام تاثر یہی ہے کہ اس کے اصل مالکان جنوبی افریقہ کے لوگ ہیں۔

ٹویٹر صارف کیو بان لینکس نے لکھا کہ 400 ملین ڈالر مالیت کا ہیرا، جس کا سب سے بڑا ٹکڑا شاہی عصا پر نصب ہے، 75000 طلبا کی اعلی تعلیم کا خرچ اٹھا سکتا ہے۔

ملکہ الزبتھ اپنی تاجپوشی کے موقع پر شاہی عصا تھامے ہوئے ہیں جس پر 'سٹار آف افریقہ' نامی ہیرا نصب ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنملکہ الزبتھ اپنی تاجپوشی کے موقع پر شاہی عصا تھامے ہوئے ہیں جس پر ’سٹار آف افریقہ‘ نامی ہیرا نصب ہے

انڈیا میں بھی ایسا ہی احتجاج ہوا جہاں ملکہ الزبتھ کی موت کے فورا بعد ہی ’کوہ نور‘ کا ہیش ٹیگ بن گیا۔ یہ اس بڑے ہیرے کا حوالہ ہے جو اب رپورٹس کے مطابق کوئین کنسورٹ پہنیں گی۔

دیگر ناقدین کا کہنا ہے کہ ملکہ کو اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے تھا کہ برطانوی نو آبادیاتی نظام کے خلاف لڑنے والوں کی جسمانی باقیات لوٹا دی جائیں۔

کینیا اور جنوبی افریقہ میں لوگوں نے مطالبہ کیا کہ کینیا میں نندی مخالفت کی سربراہی کرنے والے کوئیٹلیل سیموئی اور 1835 میں مارے جانے والے جنوبی افریقہ کی ژوسا ریاست کے شاہ ہنسٹسا کاخوالہ کا سر واپس کیا جائے جن کی موت کے بعد ان کے سر بطور ٹرافی برطانیہ لے جائے گئے تھے۔

کینیا میں ماؤ ماؤ بغاوت کے دوران مقامی افراد کی ہلاکت بھی یاد کی گئی۔ گیتو وا کہنگری، جنھوں نے 81 سال قبل 17 سال کی عمر میں اس بغاوت میں حصہ لیا تھا، نے اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کو برطانوی فوجیوں نے ایک کیمپ میں قید کرنے کے بعد مارا پیٹا اور خوراک سے محروم رکھا۔

Gitu wa Kahengeri, photographed on 9 September

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنماؤ ماؤ بغاوت میں حصہ لینے والے گیتو وا کہنگری

خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’انھوں نے میری زمین، میرے پیدائشی حق پر قبضہ کیا۔ لیکن ہم ملکہ کی موت پر اس لیے افسردہ ہیں کہ وہ ایک انسان تھیں۔‘

کینیا کے صدر اہورو کینیاٹا، جنھوں نے ملکہ کو ’بے لوث خدمت کی علامت‘ قرار دیا، کو چار دن کے سوگ کا اعلان کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

بوٹسوانا کے سابق صدر این خاما نے بھی ملکہ کا دفاع کیا اور کہا کہ ’ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔‘

مزید پڑھیے

انھوں نے کہا کہ ’نو آبادیاتی نظام کوئی ایسی چیز نہیں جسے ہم یاد رکھنا چاہتے ہوں، وہ ایک تاریک دور تھا۔ ملکہ کو یہ ورثے میں ملا، وہ اس کی معمار نہیں تھیں۔۔۔ لیکن انھوں نے کوشش کی کہ وہ نو آبادیاتی نظام کے نقصانات کا ازالہ کر سکیں، انھوں نے دکھایا کہ وہ ہم سے بالاتر نہیں، کہ وہ ہماری ترقی میں شامل ہوں اور بحیثیت قوم ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دیں۔‘

ان کا موقف تھا کہ ’افریقہ کو ملکہ کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر دیکھنا چاہیے جس نے تاریک ماضی کے بعد ایک نئے دور کا آغاز کیا۔‘

کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ ملکہ نے کبھی نوآبادیاتی نظام اور سلطنت کے نام پر ڈھائے جانے والے جرائم پر معافی نہیں مانگی۔

تاہم ملکہ نے ’مشکل‘ اور ’پریشان کن‘ لمحات کو ضرور تسلیم کیا جیسا کہ 1919 میں انڈیا میں امرتسر کا قتل عام جہاں ایک برطانوی جنرل نے فوجیوں کو ایک ایسے باغ میں مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا جس سے وہ فرار نہیں ہو سکتے تھے۔

سنہ 1997 میں اس مقام کا دورہ کرنے سے قبل ملکہ نے ایک تقریر میں افسوس کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم جتنے بھی عقل مند ہو جائیں، تاریخ دوبارہ نہیں لکھی جا سکتی۔ اس میں غم اور خوشی کے لمحات ہوتے ہیں۔ ہمیں غم سے سیکھنا چاہیے اور خوشی کی بنیاد پر نئی تعمیر کرنی چاہیے۔‘