یوکرین کی جوابی کارروائی: یوکرین کے اہم شہروں پر قبضے کے بعد روسی افواج پیچھے ہٹ رہی ہیں

A Ukrainian soldier beside a captured Russian vehicle

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنجمعہ کے روز خارخیو کے علاقے میں ایک روسی گاڑی کے ساتھ یوکرینی فوجی کھڑا ہے
    • مصنف, کیئو سے ہیوگو بچیگا اور لندن سے میٹ مرفی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

جیسے جیسے یوکرین کی جوابی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں، روسی افواج یوکرین کے اہم مشرقی قصبوں سے پیچھے ہٹتی جا رہی ہیں۔

یوکرین کے حکام کا دعویٰ ہے کہ سنیچر کے روز ان کے فوجی روسی افواج کے لیے اہم مشرقی سپلائی مرکز کوپیانسک میں داخل ہوئے ہیں۔

اس کے بعد روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کے فوجی ایزیوم سے پیچھے ہٹے ہیں تاکہ وہ ’دوبارہ منظم‘ ہوسکیں۔

روس کی وزارت دفاع نے تیسرے اہم قصبے بالاکلیہ سے فوجیوں کے انخلا کی بھی تصدیق کی تاکہ دونیٹسک کے محاذ پر مزید فوج بھجوا سکے۔

اگر یوکرین کی پیش قدمی اسی طرح جاری رہتی ہے تو اپریل میں کیئو سے روسی فوجیوں کے انخلا کے بعد، یہ دوسری اہم کامیابی ہو گی۔

سنیچر کی رات ویڈیو خطاب میں، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ یوکرین نے، اس ماہ کے شروع میں نئی جوابی کارروائیاں شروع کرنے کے بعد سے اب تک روس سے 2,000 مربع کلومیٹر (700 مربع میل) علاقے کو آزاد کرا لیا ہے۔

اگر ان کے دعوے کو دیکھا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ محض پچھلے 48 گھنٹوں میں نصف حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا گیا ہے، کیونکہ رقبے کے لحاظ سے یہ دوگنا علاقہ ہے جسے زیلنسکی کے دعوے کے مطابق آزاد کرایا گیا ہے ۔

روس کا ایزیوم سے انخلا کا اعتراف اہم ہے کیونکہ یہ ماسکو کے لیے ایک بڑا فوجی مرکز تھا۔

روسی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک تین روزہ آپریشن کے دوران ایزیوم - بالاکلیہ گروپ کے دستوں کو منظم انداز میں دونیٹسک منتقل کیا گیا ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’روسی فوجیوں کو نقصان سے بچانے کے لیے دشمن کے فوجیوں پر آگ برسا کر انھیں شکست دی گئی۔‘

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق، تھوڑی دیر بعد، خارخیو کے روسی کنٹرول والے حصوں کے چیف ایڈمنسٹریٹر نے وہاں کے باشندوں کو ’جان بچانے کے لیے‘ روس کی جانب نکل جانے کا مشورہ دیا۔

اور پڑوسی بیلگوروڈ ریجن کے گورنر نے کہا کہ قطاروں میں سرحد پر آنے والے لوگوں کے لیے موبائل کیٹرنگ، ہیٹنگ اور طبی امداد دستیاب ہو گی۔

اس پیش رفت کو اس بات کی علامت کے طور پر دیکھا جائے گا کہ یوکرین کی فوج روس کے زیر قبضہ علاقے کو دوبارہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہ انتہائی اہم ہے کیونکہ کیئو اپنے مغربی اتحادیوں سے فوجی مدد مانگتا آیا ہے۔

یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے کہا کہ تازہ ترین پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی افواج روسی فوج کو شکست دینے کے قابل ہیں اور مزید مغربی ہتھیاروں سے جنگ کو تیزی سے ختم کر سکتی ہیں۔

A Ukrainian tank

،تصویر کا ذریعہGetty Images

2px presentational grey line

کیئو اور اتحادیوں کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت

مرکزی یوکرین میں سینئر بین الاقوامی نامہ نگار اورلا گورین کا تجزیہ

یوکرین کے فوجیوں کی رفتار نے نہ صرف روسیوں کو چونکا دیا ہے بلکہ کچھ یوکرینیوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ یہاں کے لوگوں کو تازہ ترین پیش رفت کی خبروں سے باخبر رہنے کے لیے کافی جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔

روسی فوجی اب رسد کے دو اہم مرکز کھو چکے ہیں - ایزیوم اور کپیانسک کے اہم شہر۔ یہ فوجی لحاظ سے ایک دھچکا اور عوامی لحاظ سے صدر پیوتن کے لیے تذلیل ہے۔

ہم فرنٹ لائنز تک نہیں جا سکتے۔ صحافیوں کو جانے سے روک دیا گیا ہے۔ یوکرین اس انفارمیشن وار کو کنٹرول کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر ایسی فوٹیج سامنے آئی ہیں جس میں یوکرین کے فوجیوں کو نئے آزاد کرائے گئے علاقوں میں اپنا جھنڈا بلند کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

یہ سب یوکرین اور اس کے مغربی حمایتیوں کے لیے تسلی بخش ہے۔

روسی اب بھی ملک کے پانچویں حصے پر قابض ہیں اور کچھ لوگ جنگ کے تیزی سے خاتمے کا تصور کر رہے ہیں۔ لیکن یوکرینیوں نے اب دکھا دیا ہے کہ وہ جنگ میں روسیوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ ایک فوجی ماہر کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پوری کی پوری روسی فوجی یونٹس تباہ ہوئی ہیں۔

2px presentational grey line

یہ بھی پڑھیے

اس سے قبل برطانیہ کے دفاعی حکام نے کہا تھا کہ یوکرین نے روس کے زیرِ قبضہ علاقے میں 50 کلومیٹر (31 میل) پیش قدمی کی ہے۔

برطانیہ کی وزارت دفاع نے کہا کہ ’ممکنہ طور پر یوکرین نے روسی افواج کو چونکا دیا۔ اس سیکٹر میں صرف ہلکی گولہ باری ہوئی اور یوکرینی یونٹوں نے کئی قصبوں پر قبضہ کر لیا یا انھیں گھیر لیا ہے۔‘

یوکرین نے اس ہفتے کے شروع میں مشرق میں اپنی جوابی کارروائی کا آغاز کیا تھا، جب کہ دنیا بھر کی توجہ جنوبی شہر خیرسون کے قریب متوقع پیش قدمی پر تھی۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ روس نے شہر کے دفاع کے لیے اپنے کچھ انتہائی تجربہ کار فوجیوں کو دوسری جگہ منتقل کیا ہے۔

لیکن ایک اہلکار نے بتایا کہ مشرق میں قبضہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ یوکرین جنوب میں بھی پیش قدمی کر رہا ہے۔

یوکرین کی فوج کی جنوبی کمان کی ترجمان نتالیہ گومینیوک نے کہا کہ ان کے فوجی اس محاذ پر کئی کلومیٹر تک پیش قدمی کر چکے ہیں۔

لیکن جنوبی محاذ پر لڑنے والی روسی افواج کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے زمین کھود کر دفاعی پوزیشنیں بنا لی ہیں، اور یوکرین کے فوجیوں کو حملے کے آغاز کے بعد سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

اور خارخیو کے مقامی حکام کے مطابق، سنیچر کے روز ایک روسی راکٹ حملے کے بعد وہاں ایک شخص ہلاک اور کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔

A map of Russian control in the east

یوکرین کے حکام نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ یوکرین کے فوجی کپیانسک سٹی ہال کے سامنے ملک کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں اور ان کے پاؤں میں روسی پرچم پڑا ہے۔

جمعے کے روز صدر زیلنسکی نے کہا کہ ان کی افواج ’آہستہ آہستہ نئے علاقوں کا کنٹرول سنبھال رہی ہیں‘ اور ’یوکرینی پرچم دوبارہ لہرانے کے ساتھ ہمارے لوگوں میں احساسِ تحفظ کو واپس لا رہی ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی پولیس کے یونٹ آزاد کرائے گئے علاقوں میں واپس جا رہے ہیں اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ مشتبہ روسی جنگی جرائم کی اطلاع پولیس کو دیں۔

یوکرین کے صدر کی طرف سے یہ بیان یوکرین میں اقوام متحدہ کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے ماسکو کی افواج کی طرف سے ’جنگی قیدیوں کے خلاف متعدد خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے۔‘

رپورٹ میں یوکرین کے فوجیوں پر ’جنگی قیدیوں کے ساتھ تشدد اور ناروا سلوک‘ کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔