روس پر یوکرین سے چوری شدہ گندم برآمد کرنے کے الزام میں کتنی صداقت ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لارنس پیٹر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
جنوبی یوکرین میں روس کی جانب سے تعینات حکام کا کہنا ہے کہ روس یوکرین سے گندم برآمد کر رہا ہے۔
یہ دعویٰ، جس کی تصدیق کرنے سے بی بی سی اس وقت قاصر ہے، ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ روس نے یوکرین کی چھ لاکھ ٹن گندم چوری کی اور اس کا کچھ حصہ برآمد کر دیا۔
روس یوکرین کی گندم چوری کرنے کے الزام کی تردید کرتا ہے۔
واضح رہے کہ یوکرین کی گندم تک رسائی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے کیوں کہ سالانہ تقریباً لاکھوں ٹن یوکرین کی گندم افریقہ اور مشرق وسطی برآمد کی جاتی ہے۔
روس سے جنگ کے بعد ایسا ہونا ناممکن ہو چکا ہے کیوں کہ روس کی بحریہ نے بحر اسود پر یوکرین کی اہم بندرگاہوں کا راستہ روک رکھا ہے۔
روس کا موقف ہے کہ یوکرین نے بحر اسود کے پانیوں میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں اور اگر یوکرین گندم برآمد کرنا چاہتا ہے تو اسے ان سرنگوں کو ہٹانا ہو گا۔
ادھر امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ روس یوکرین کی گندم افریقہ کے ان ممالک کو بیچنے کی کوشش کر رہا ہے جن کو قحط کا سامنا ہے۔ یہ الزام امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا۔
نیو یارک ٹائمز کی خبر کے مطابق امریکہ محکمہ خارجہ کی ایک کیبل سے معلوم ہوا کہ مئی کے وسط میں امریکہ نے تقریباً 14 ممالک، جن میں سے اکثریت افریقی ممالک کی تھی، کو خبردار کیا کہ یوکرین کی گندم سے لدے روسی مال بردار بحری جہاز بندرگاہوں سے نکل رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روس کا کیا موقف ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
روس کے قبضے میں یوکرین کے زیپوریزہزیا علاقے کے انچارج ییوگینی بلٹسکی کہتے ہیں کہ ان کے علاقے سے گندم ٹرینوں کے ذریعے کریمیا روانہ ہوئی، جس پر روس نے 2014 میں تسلط قائم کیا تھا، اور وہاں سے مشرق وسطی بھجوا دی گئی۔
انھوں نے روسی سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ترکی کے ساتھ بھی اہم معاہدے کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے اس کی زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
کریمیا میں روسی ترجمان اولیگ کرچکوو کے مطابق زیپوریزہزیا کے شہر ملیٹوپول سے گندم سے بھری 11 ٹرینیں کریمیا پہنچی تھیں۔ انھوں نے روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آر آئی اے سے بات کی۔ اس ایجنسی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خیرسون علاقے سے بھی گندم بھجوائی جا رہی ہے۔
بی بی سی نے روسی حکام سے اس معاملے پر ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے ترکی کے وزیر خارجہ سے انقرہ میں بدھ کے دن گندم کے معاملے پر بات چیت کی تھی لیکن اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔
روسی وزیر خارجہ کا موقف ہے کہ روس نے یوکرین کی گندم برآمد کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی بلکہ یہ یوکرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اوڈیسہ سمیت دیگر بندرگاہوں کے پانیوں سے بارودی سرنگوں کو ختم کرے۔
ادھر یوکرین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’یوکرین ان بندرگاہوں سے بارودی سرنگیں اس لیے نہیں ہٹا سکتا کیوں کہ اگر ایسا کیا گیا تو گندم کی برآمد کے لیے قائم کیے جانے والے راستوں کے ذریعے روس جنوبی یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے۔‘
روس مغربی ممالک کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو بھی عالمی طور پر خوراک کے بحران کا ذمہ دار گردانتا ہے۔ لیکن مغرب کا موقف ہے کہ روس نے خوراک کی سپلائی کو بھی جنگ کے لیے استعمال کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی اس دوران کوشش کر رہا ہے کہ محفوظ سمندری راستوں کے لیے کوئی معاہدہ ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیے
یوکرین کا موقف کیا ہے؟
گزشتہ ہفتے ترکی میں یوکرین کے سفیر ویسل بوڈنار نے الزام عائد کیا تھا کہ روس کریمیا کے راستے چورہ شدہ گندم بیرون ملک بھجوا رہا ہے جس میں ترکی بھی شامل ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یوکرین کے سفیر نے بیان دیا تھا کہ ’ہم نے ترکی سے مدد کی درخواست کی ہے اور ترکی کے مشورے پر ہی ہم گندم کی چوری اور اسے بیچنے کے معاملے پر فوجداری مقدمہ کر رہے ہیں۔‘
یوکرین کی گندم ایسوسی ایشن کے چیف مائیکولا گورباچوو نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین کی بندرگاہوں سے جلد تجارت اور برآمد شروع نہیں کی گئی تو جولائی کے اواخر میں نئی فصل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس طرح اگلے سال یوکرین کی گندم کی برآمدات 20 ملین ٹن تک محدود ہو سکتی ہیں جب کہ گزشتہ سال یوکرین کی گندم برآمدات کا حجم تقریبا 45 ملین ٹن تھا۔
یہ اتنا اہم عالمی مسئلہ کیوں ہے؟

روس کے یوکرین پر حملے کا نتیجہ عالمی منڈی میں گندم، تیل اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس کی ایک وجہ روس پر عائد مغربی پابندیاں بھی ہیں۔
روس اور یوکرین مجموعی طور پر عالمی گندم سپلائی کا ایک تہائی فراہم کرتے ہیں جس میں سے یوکرین دس فیصد حصہ دیتا ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں یوکرین نے عالمی طور پر مکئی کی 16 فیصد اور سورج مکھی تیل کی 42 فیصد رسد فراہم کی تھی۔
یوکرین کے حالیہ محاصرے اور چند ممالک کی جانب سے گندم کی ذخیرہ اندوزی نے بھی عالمی بحران کو بڑھانے میں مدد کی ہے جس سے خوارک کی کمی کا سامنا کرتے کئی ممالک مذید عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔
سومالیہ میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے پیٹروک ولٹن کہتے ہیں کہ افریقہ کے مشرقی حصے، جسے ہارن آف افریقہ بھی کہا جاتا ہے، میں قحط تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔
’مسلسل چار بارش کے موسم خشک رہے ہیں۔ تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد بھوکے ہیں اور یہ تعداد سال کے آخر تک بڑھ کر دو کروڑ ہو جائے گی۔‘











