برطانیہ میں گھر پر مساج کے دوران ریپ کے واقعات: جس شخص کو گھر میں آنے کی اجازت دی، اسی نے میرے ساتھ برا کیا‘

- مصنف, ایلینور لین اور ہینا پرائس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
دنیا کے کئی ممالک میں گھر پر ہی مساج کرانے کا ٹرینڈ بڑھتا جا رہا ہے لیکن بی بی سی کو ملنے والی معلومات کے مطابق برطانیہ میں درجنوں خواتین نے شکایت کی ہے کہ گھر پر آ کر مساج کرنے والوں نے ان کے ساتھ ان کے اپنے ہی گھر میں ریپ کیا ہے۔
ماہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ آن لائن اور ایپ کے ذریعے پنپتے اس کاروبار سے متعلق قوانین و ضوابط کو سخت بنایا جائے۔
کیلم ارکہارٹ نے سوشل میڈیا پر اشتہار دیا تھا کہ وہ گھروں پر جا کر مساج کرتے ہیں۔ اسی اشتہار کی بنیاد پر انھیں یاس (فرضی نام) نے مساج کے لیے بک کر لیا۔
یاس نے بتایا کہ مساج کا آغاز بہت پیشہ ورانہ انداز میں ہوا۔ ارکہارٹ نے جسم کے خاص حصوں پر مساج کرنے سے قبل ان سے اجازت بھی لی لیکن تھوڑی ہی دیر میں وہ ان کے ساتھ بد تمیزی کرنے لگا۔
یاس نے بی بی سی سے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ایسی صورت حال میں آپ سمجھ نہیں پا رہے ہوتے ہیں کہ کیا واقعی وہ سب ہو رہا ہے یا آپ کچھ زیادہ ہی سوچ رہے ہیں۔‘
یاس نے بتایا کہ ابھی وہ خود کو سمجھا ہی رہی تھیں کہ اس نے زبردستی کرنا شروع کر دی۔ اس وقت تک واضح ہو چکا تھا کہ وہ کیا کر رہا تھا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ میرا ریپ کرے گا یا قتل۔‘
اس واقعے کے بارے میں پولیس میں رپورٹ کے بعد انھیں پتا چلا کہ ارکہارٹ کے پاس مساج کرنے سے متعلق کوئی ڈگری یا تربیت نہیں تھی۔ پولیس نے انھیں گرفتار کر کے پوچھ گچھ کی لیکن اس کے بعد بھی انھوں نے مساج کرنا اور گھروں میں داخل ہو کر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنا جاری رکھا۔
گذشتہ برس انھیں برطانوی شہر برسٹل میں چار خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملے میں جیل ہو گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاس نے کہا کہ انھیں یہ جان کر بہت دکھ پہنچا کہ ارکہارٹ کو مساج کرنے کے لیے گھروں میں جانے سے روکنے کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’اسے اپنی اس حرکت کا خمیازہ بھگتنا پڑتا۔ میں نے اس معاملے میں شکایت بھی اسی لیے کی تھی تاکہ مستقبل میں ایسا دوبارہ کسی کے ساتھ نہ ہو۔‘

قوانین و ضوابط کی ضرورت
موجودہ ضوابط کے تحت مساج کرنے والوں کو کام تلاش کرنے کے لیے برطانیہ میں کسی طرح کے لائسنس یا تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے بغیر بھی کوئی بھی شخص خود کو مساج کرنے والے تھریپسٹ کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔
ایسا ایک رجسٹر ضرور ہے جہاں سے آپ کسی مساج کرنے والے کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں لیکن اس رجسٹر میں اپنا نام لکھوانا قانونی طور پر ضروری نہیں اس لیے بہت کم ہی افراد اس میں اپنا نام لکھواتے ہیں۔
کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں مساج تھیراپی کے پارلر کھولنے کے لیے انتظامیہ سے بزنس لائسنس لینا پڑتا ہے۔ اگر پارلر کو کسی بھی بنیاد پر غیر محفوظ پایا جاتا ہے تو لائسنس کینسل کیا جا سکتا ہے لیکن اب اس بارے میں مطالبات سامنے آ رہے ہیں کہ حکومت کو اس شعبے میں ایسے ضوابط متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو مساج کرانے والوں کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔
بی بی سی کو ایسے ایک درجن سے زیادہ معاملوں کا پتا چلا جن میں مساج کرنے کے بہانے کلائنٹز کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان میں کچھ ایسے معاملے بھی شامل ہیں جن میں ملزمان کی گرفتاری اور تفتیش کے بعد بھی انھوں نے مساج کا کام جاری رکھا۔
یاس نے بتایا کہ ان کے ساتھ جو ہوا اس نے انھیں ایک طویل عرصے تک متاثر کیا۔
’میں سونے سے گھبراتی تھی کیوںکہ مجھے اسی بارے میں برے خواب آتے تھے۔ مجھے گھبراہٹ کے دورے پڑتے۔ میں خود اپنی فیصلہ کرنے کی صلاحیت پر شک کرنے لگی تھی کیوںکہ میں نے جس شخص پر یقین کر کے اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی اسی نے میرے ساتھ برا کیا۔ مجھے لگنے لگا تھا کہ اب دوبارہ میں کسی پر یقین نہیں کر سکوں گی۔‘
مساج کے لیے ایپ کے ذریعے بکنگ کے سبب گھروں پر مساج کرانا آسان ہو گیا ہے۔ اربن نامی ایپ لوگوں کو یہ سہولت فراہم کرتی ہے کہ وہ ان مساج کرنے والوں کو بک کر سکیں جو کسی ایک پارلر میں کام کرنے کے بجائے خود اس ایپ کے ذریعے کلائنٹ ڈھونڈتے ہیں۔ بکنگ کے ایک گھنٹے کے اندر مساج کرنے والے آپ کے گھر آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے:
ٹیلر (فرضی نام) ایک ’ایٹ ہوم‘ نامی ایپ کے ذریعے ہمیشہ خواتین کو ہی اپنے گھر مساج کرنے بلاتی تھیں لیکن اکتوبر 2019 میں انھوں نے اس ایپ کے ذریعے اپنے لیے ڈیپ ٹشو مساج کی بکنگ کی۔
اس قسم کے مساج کے لیے اس وقت کوئی خاتون موجود نہیں تھی۔ انھوں نے ایک ایسے مرد تھیراپسٹ کا انتخاب کیا جس کے بارے میں سینکڑوں لوگوں نے ریویو دیتے ہوئے اچھی باتیں لکھی ہوئی تھیں۔ کئی لوگوں نے انھیں پورے پانچ سٹار دیے ہوئے تھے۔
ٹیلر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے لگا کہ ایک ایسے شخص کا انتخاب جس پر ایپ کے علاوہ متعدد لوگ بھی یقین کر رہے ہیں، مکمل طور پر محفوظ قدم ثابت ہوگا۔‘
لیکن مساج شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی انھیں احساس ہو گیا کہ کچھ ٹھیک نہیں تھا۔
’جب کوئی پیشہ ورانہ مساج کرنے والا آپ کے جسم کو چھو رہا ہوتا ہے تو آپ کو بالکل ایسا نہیں لگتا کہ وہ آپ کو غلط انداز میں چھو رہا ہے لیکن اس شخص نے میرے جسم کے کمر کے نیچے کے حصے سے تولیہ مکمل طور پر ہٹا دیا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
ٹیلر نے بتایا کہ اس کے بعد وہ شخص ان کے جسم کے نجی حصوں کو ان کی اجازت کے بغیر چھونے لگا۔ انھوں نے بتایا ’میں جیسے برف کی طرح منجمد ہو گئی تھی۔‘ ٹیلر سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ اگر انھوں نے شدید رد عمل دیا تو وہ ان کے ساتھ کیا کرے گا۔ جب انھوں نے اس سے رکنے کے لیے کہا تو اس نے ان کی بات نہیں مانی۔
ٹیلر نے بتایا ’جیسے ہی اس شخص نے میرے گھر کے باہر قدم رکھا میں وہیں زمین پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ میں نے دروازہ بند کیا اور اندر سے تالا لگا لیا۔‘ ٹیلر نے معاملے کی پولیس میں رپورٹ درج کرانے کے علاوہ مساج بکنگ کے ایپ اربن کو بھی مطلع کیا۔ لیکن اس شخص کے خلاف معقول ثبوت نہ ہونے کے سبب انھوں نے مزید تفتیش بند کر دی۔
مساج بکنگ ایپ اربن نے ٹیلر سے کہا تھا کہ وہ اس شخص کو اپنے پلیٹ فارم سے نکال دیں گے، لیکن انھوں نے بتایا کہ دو ہفتے بعد جب انھوں نے دوبارہ چیک کیا تو اس کی پروفائل تب بھی ایپ پر موجود تھی۔
ٹیلر کو بتایا گیا کہ ایسا کسی تکینی خرابی کی وجہ سے ہوا کہ اسے فوری بنیاد پر ایپ سے باہر نہیں کیا جا سکا۔ لیکن اس واقعے کے تین برس بعد جب بی بی سی نیوز نے چیک کیا تب بھی اس شخص کی پروفائل ایپ پر موجود تھی۔ بی بی سی کے اربن ایپ سے رابطے کے بعد اس پروفائل کو مکمل طور پر ڈلیٹ کر دیا گیا۔
اربن کا موقف ہے کہ اس درمیان اس شخص کی پروفائل بھلے ایپ پر نظر آتی رہی ہو لیکن ٹیلر کی شکایت کے بعد سے مساج کے لیے اس شخص کو بک کیا جانا ممکن نہیں تھا۔
اربن ایپ کے ذریعے ہی مساج کے لیے بک کیے جانے والے ایک دیگر شخص کوسمن تودراچے کو گذشتہ برس ایک خاتون کے ریپ کے لیے پانچ برس کی جیل کی سزا سنائی گئی۔ وہ اسی ایپ کے ذریعے متاثرہ کے گھر مساج کرنے گیا تھا۔
اربن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ایپ کے ذریعے کلائنٹز ڈھنوڈنے کے لیے مساج کرنے والوں کو پہلے ایک بیک گارؤنڈ چیک سے گزرنا پڑتا ہے اور ان کے پاس اس قسم کی بہت کم ہی شکایات آئی ہیں کہ کسی مساج کرنے والے نے کسی کو جنسی طور پر ہراساں کیا ہو۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ تمام شکایات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور معاملے کی معقول تفتیش کرتے ہیں۔

حالانکہ برطانیہ میں جنرل کونسل فار مساج تھیریپیز کی نائب صدر ایوون بلیک نے بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ قوانین کے تحت برطانیہ میں ’کوئی بھی‘ شخص کسی بھی چیکنگ کے بغیر مساج کرنا شروع کر سکتا ہے۔‘
مساج کرنے والوں کے ہاتھوں ریپ کے معاملوں میں عینی شاہد کے طور پر گواہی دینے والی بلیک نے کہا ’کوئی بھی اپنی پروفائل پر کچھ بھی قابلیت لکھ سکتا ہے۔ اور انہیں ایسا کرنے سے روکنے کے لیے ملک میں کوئی قوانین و ضوابط موجود نہیں ہیں۔‘
بی بی سی نے متعدد سرکاری اداروں سے اس بارے میں رابطہ کیا، یہاں تک صحت اور کاروبار سے منسلک حکومتی شعبے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کسی کو بھی نہیں پتا کہ اس معاملے میں تحفظ کو یقینی بنانا کس کی زمہ داری ہے۔
ایک سرکاری ترجمان نے بی بی سی سے کہا ’ریپ ایک بدترین جرم ہے اور ہماری کوشش ہے کہ متاثرین کو معقول مدد اور مشورے دستیاب ہوں۔ اس کے علاوہ پولیس کا کام ہے کہ وہ جرم کرنے والوں کے خلاف اقدام کرے۔ مساج کے شعبے کے بارے میں اختیار مقامی انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ چاہیں تو ان کے لائسینس رد کر سکتے ہیں۔‘
جبکہ کنزرویٹیو پارٹی میں خواتین اور برابری کے حقوق کی کمیٹی کی سربراہ کیرولین نوکس نے بی بی سی سے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس بارے میں سخت اقدامات کیے جائیں۔
انھوں نے کہا ’آپ کو لوگوں تک ایسی حالت میں رسائی ہوتی ہے جب وہ آپ کے سامنے بہت کمزور حالت میں ہو سکتے ہیں۔ ان کے تن پر کپڑے نہیں ہوتے۔ اور اگر آپ کا ارادہ جنسی ہراسگی ہے تو یہ پیشہ تو آپ کی اور بھی مدد کر رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے حکومت کو معاملے کی مزید تفصیلات پر غور کرنا چاہیے۔‘
مساج بکنگ کمپنی اربن نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے ایسا کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو وہ اس کا خیر مقدم کریں گے۔
ٹیلر کے ساتھ جو ہوا ان کے لیے اسے بھولنا بہت مشکل ہے۔ انھوں نے کہا ’مجھے نہیں لگتا میں کبھی بھی آگے بڑھ پاؤں گی۔ اس حادثے نے مجھے ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ میرے کندھوں پر بہت بوجھ ڈال دیا جس سے میں کبھی نجات حاصل نہیں کر پاؤں گی۔‘








