جنسی زیادتی، شراب اور ڈرگز کی لت سے نکل کر کامیابی کی کہانی

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنمغربی ممالک سے موازنہ کیا جائے تو انڈیا میں شراب پینے والی خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے بہت کم ہے
    • مصنف, عمران قریشی
    • عہدہ, بنگلور سے بی بی سی ہندی کےلیے

پریرنا (بدلا ہوا نام) اس وقت محض سولہ سال کی تھیں جب ان کو شراب اور نشے کی لت کا پتہ چلا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب انکے سکول نے انھیں گھر واپس بھیج دیا کیونکہ وہ نشے کی حالت میں سکول پہنچی تھیں۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ نشے کی حالت میں کئی بار ان کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے۔ ان کے گھر والے کئی بار انھیں نشہ چھڑوانے والے سینٹر لے گئے جہاں وہ 3 سے 6 ماہ تک رہیں۔

لیکن نشہ چھڑانے کے مرکز سے واپس آنے کے چند ہی دنوں میں وہ دوبارہ نشہ کرنا شروع کر دیتی تھیں۔ انکے ساتھ گھر والوں کا رویہ جارحانہ تھا اور وہ کئی بار گھر چھوڑ کر بھی چلی گئی تھیں۔

کچھ سالوں تک نشہ چھڑانے کے مراکز کا چکر لگانے کے بعد ان کے رشتہ دار انھیں بنگلور لے گئے۔ بنگلور میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز، انڈیا میں منشیات کی عادی خواتین کو بھرتی کرنے کا واحد مرکز ہے جہاں انھیں بھرتی کروا دیا گیا۔

جہاں تک علاج کا تعلق ہے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ جب بھی انھیں ایسا لگتا کہ انکے نشے کی عادت چھوٹ رہی ہے تو وہ یا تو شراب کی بوتل اٹھا لیتیں یا ہیروئن یا دیگر نشہ آور چیزیں لینا شروع کر دیتی تھیں۔

اس سے ان کے گھر والوں اور ڈاکٹروں کو بہت مایوسی ہوتی۔ یہ سب ہوتا رہا اور بالآخرانکے حالات بہتر ہونے لگے۔

ماہر نفسیات کی نگرانی میں 5 سال علاج کے بعد آخر کار انکا ذہن پڑھائی میں لگنے لگا اور وہ زندگی میں کچھ کرنے کے بارے میں سوچنے لگیں۔

پھر وہ تعلیم حاصل کرنے برطانیہ چلی گئیں اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت حاصل کی۔ ان دنوں وہ مشرق وسطیٰ میں اپنے والد کی کمپنی کی مینیجر ہیں۔

اب وہ کبھی کبھی شراب پی لیتی ہیں لیکن پہلے کی طرح عادی نہیں ہے۔ لیکن خواتین میں منشیات کی عادت صرف متوسط یا اعلیٰ طبقے تک محدود نہیں ہے۔

گارمنٹس فیکٹری میں کام کرنے والی 36 سالہ سنگیتا ( تبدیل کیا ہوانام ) کی مثال دیتے ہیں،جنہیں اپنے شوہر کے ہاتھوں جسمانی اور جنسی زیادتی جھیلنی پڑی۔

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہPA WIRE

،تصویر کا کیپشنحواتین کی شراب یا نشے کی لت چھروانا زیادہ آسان ہے

ان کی شادی 12 سال کی عمر میں ہی ہوگئی تھی۔ یہ بات حیران کر سکتی ہے کہ ان کے شوہر نے ہی زبردستی انھیں شراب پلائی اور پھر وہ نشے کی لت میں مبتلا ہو گئیں۔

ان کے گھر کے لوگ شراب پیتے تھے اور اپنے شوہر کا ساتھ دینے کے لیے انھوں نے بھی شراب پینا شروع کر دی۔ بعد میں انکی لت مزید بڑھتی گئی۔

انھیں لگنے لگا کہ اپنے شوہر کے ہاتھوں مار پیٹ اور جنسی تشدد کے درد پر قابو پانے کا یہی واحد طریقہ ہے۔

پھر انکے شوہر نے شراب چھوڑ دی اور انھیں نشیڑی کہنا شروع کر دیا اور شراب چھوڑنے پر مجبور کرنے لگا۔

جب انھوں نے شراب چھوڑنے کی کوشش کی تو انکے جسم میں کپکپی شروع ہو گئی اور ایک بار انھیں دورہ بھی پڑا۔

ڈاکٹر عموماً مریضوں کی پرائیویسی کی وجہ سے ان سے متعلق معلومات شیئر نہیں کرتے اور خواتین کے بارے میں بات کرتے ہوئے تو زیادہ محتاط ہوتے ہیں۔

خواتین میں نشہ یا منشیات کی عادت چھڑوانا ممکن

یہاں دی گئی دو خواتین کی مثال ایک حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ خواتین میں منشیات کی عادت کا علاج ممکن ہے اور کامیاب علاج بھی ممکن ہے۔

انڈیا میں شراب کے نشے کو برا سمجھا جاتا ہے اور اگر کوئی عورت یہ نشہ کرتی ہے تو اسے اور بھی برا سمجھا جاتا ہے۔

خواتین میں شراب نوشی کو گناہ سمجھنے کی وجہ سےنشہ چھوڑنے کی یہ کامیاب کہانیاں اہم ہیں۔

قومی ادارہ برائے ذہنی صحت نِم ہنس میں نشے کی ادویات کے شعبے کے سربراہ پروفیسر وویک بینیگل کہتے ہیں،'پہلے تو، انڈیا میں خواتین کے شراب نوشی کو ایک بدنما داغ کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے سنگیتا جیسی خواتین طبی مدد لینے سے کتراتی ہیں۔ عادی خواتین ہمارے پاس نہیں آتیں۔ وہ ہمارے پاس تبھی آتی ہیں جب حالات بہت مشکل ہو گئے ہوں یا علاج ضروری ہو جائے۔'

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں شراب پینے والی خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے بہت کم ہے

انڈیا میں خواتین کی منشیات کی عادت؟

اگر مغربی ممالک سے موازنہ کیا جائے تو انڈیا میں شراب پینے والی خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے بہت کم ہے۔

انڈیا میں تقریباً 30 فیصد مرد شراب پیتے ہیں جبکہ شراب پینے والی خواتین کی تعداد فیصد پانچ سے کم ہے۔

ان میں بھی شراب پینے والی زیادہ تر خواتین کا تعلق متوسط اور اعلیٰ طبقے سے ہے۔

تاہم، شمال مشرق میں شراب پینے والی خواتین کی تعداد ملک کے دیگر حصوں سے زیادہ ہے۔ شمال مشرق میں، دس فیصد خواتین شراب پیتی ہیں جبکہ شراب پینے والے مردوں کا تناسب 70 فیصد ہے۔

خواتین، شراب اور ثقافت

لیکن مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کتنی خواتین شراب پیتی ہیں، کم از کم ابھی تک تو یہ نہیں ہے۔

بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ خواتین شراب کیسے پیتی ہیں اور اس کا ان کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ ڈی ایڈکشن کے ماہرین اس سے پریشان ہیں۔

سال 2016 میں عالمی ادارہ صحت کی نگرانی میں 'جینڈر ایلکوحل اینڈ کلچر' پر تحقیق کی گئی۔انڈیا میں خواتین کی شراب پینے کی عادات پر یہ پہلی تحقیق تھی۔

بنگلور کا نِم ہنس بھی اس کا حصہ تھا۔

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہMONKEYBUSINESSIMAGES

،تصویر کا کیپشنمغربی ممالک میں خواتین زیادہ تر بیئر ، وائن یا پھر جِن پیتی ہیں

اس میں خواتین میں شراب پینے کے دو پیٹرن دیکھے گئے۔ ایک روایتی طریقہ تھا جس میں خواتین مردوں کی طرح شراب پی رہی تھیں۔

مغربی ممالک کا معاملہ

پروفیسر بینیگل کہتے ہیں'یہ حیران کن تھا کیونکہ شراب پینے کے ہر سیشن کے دوران خواتین مردوں کی طرح پانچ طرح کی سٹینڈرڈ شراب پی رہی تھیں۔ یہ مغربی ممالک سے مختلف ہے جہاں خواتین مردوں کے مقابلے کم شراب پیتی تھیں اور وہ بھی وائن اور بیئر تک محدود تھی۔ (جس میں ہارڈ لیکورز سے کم ایلکوحل ہوتی ہے) اس کے علاوہ وائٹ وائن، ووڈکا اور جن جیسی چیزیں شامل تھیں۔

مغربی معاشرے کے مقابلے انڈیا میں شراب کے استعمال میں ایک اور اہم فرق تھا۔ مغربی ممالک میں کھانے کے ساتھ شراب پی جاتی ہے کیونکہ وہاں لوگ انڈیا کے مقابلے میں کم پانی پیتے ہیں۔ جبکہ انڈیا میں لوگ کھانا کھانے سے پہلے شراب پیتے ہیں اور ایسا نشہ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

پروفیسر بینیگل کا کہنا ہے کہ 'تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہروں میں خواتین اس وقت تک شراب پیتی ہیں جب تک کہ انھیں نشہ نہ ہو جائے، جبکہ مغربی ممالک میں ایسا نہیں ہے۔ ایک اور حیران کن بات یہ بھی سامنے آئی کہ انڈیا میں مرد خوش رہنے کے لیے شراب پیتے ہیں۔ وہیں خواتین دکھ درد کو بھلانے کے لیے منشیات کا استعمال کرتی ہیں، ظاہر ہے یہ ڈپریشن سے نمٹنے کا ایک بُرا طریقہ ہے'۔

لیکن شراب پینے سے خواتین کی صحت پر کئی اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنخواتین کی صحت پر شراب یا نشے کا زیادہ بُرا اثر پڑتا ہے

شراب خواتین کی صحت کو متاثر کرتی ہے

تحقیق سے یہ پتہ چلا ہے کہ انڈیا میں شراب پینے والی خواتین میں کئی طرح کے جسمانی اور ذہنی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سماجی اور معاشی مسائل کا بھی سامنا کرتی ہیں۔

پروفیسر بینیگل کہتے ہیں 'سب سے اہم جسمانی وجہ یہ ہے کہ مردوں کے مقابلے خواتین کا قد اور وزن کم ہوتا ہے۔ خواتین کے جسم میں بھی مردوں کے مقابلے میں پانی بہت کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کے ہارمونز مردوں کے مقابلے شراب کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں اور شراب ان ہارمونز پر مختلف طرح سے عمل کرتی ہے۔‘

'دراصل، خواتین کے ہارمونز شراب کو زیادہ آہستہ آہستہ پروسس کرتے ہیں اور اس سے خواتین کا میٹابولزم کم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے شراب مردوں کی نسبت خواتین کی صحت پر زیادہ اثر کرتی ہے۔'

سماجی طور پر جب کوئی عورت شراب کی لت کی وجہ سے ذہنی بیماری کا شکار ہو جاتی ہے تو اسے مردوں کی طرف سے زیادہ تعاون نہیں ملتا۔

پروفیسر بینیگل کہتے ہیں، 'خواتین کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور دوسرے لوگ انکا استحصال کرتے ہیں۔ سماجی، معاشی اور سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مردوں کے مقابلے خواتین کے لیے شراب کی لت کو چھوڑنا بہت زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جب انہیں صحیح ماحول دیا جاتا ہے تو وہ علاج کے بارے میں مثبت ہوتی ہیں اور اس کے اچھے نتائج حاصل ہوتے ہیں۔'

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشراب پینے والا ہر شخص اس کا عادی نہیں ہوتا

کیا شراب پینے والا ہر شخص اس کا عادی ہو جاتا ہے؟

ایسا ہر گز نہیں ہے۔ پروفیسر بینیگل اس کا سیدھا جواب دیتے ہیں اور نشے کی لت کی بہت سی وجوہات اور ان کے علاج کی وضاحت ایسے کرتے ہیں

وہ تمام لوگ جو شراب پیتے ہیں انھیں نشے کی لت نہیں پرتی۔ انڈیا میں شراب پینے والے تیس فیصد مردوں میں سے صرف پانچ سے دس فیصد لت کا شکار ہیں۔

لوگوں کی انکے مزاج کی وجہ سے نشے کی لت لگتی ہے۔ وہ لوگ جو خود کو متحرک نہیں رکھ سکتے ،(جیسے کسی کام کو شروع کیا اور ختم نہیں کیا) یا جو اپنے موڈ پر قابو نہیں رکھ سکتے، یا پھر ٹال مٹول کرتے ہیں۔

وہ بچے یا بالغ جو کم عمری میں ہی شراب یا منشیات لینا شروع کر دیتے ہیں انکے بھی نشے کی لت کے عادی ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

شراب یا منشیات کے بار بار استعمال کی وجہ سے دماغ کی ساخت بھی بدل جاتی ہے اور ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جسے لت کہتے ہیں۔

نشہ چھوڑنے کے بعد دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسا ہوتا ہے یہ ہڈی کو جوڑنے یا کسی ایک حصے کو آپریشن کرنے جیسا نہیں ہے۔ تاہم لت کسی بھی قسم کی ہو اس کا علاج ممکن ہے۔

کیا شراب اپنے آپ میں ایک مسئلہ ہے؟

ڈاکٹر بینیگل کہتے ہیں کہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'مسئلہ شراب میں نہیں ہے۔ بہت سے نوجوان شراب کو تناؤ یا پریشانیوں سے نمٹنے کے لیے ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ شراب کو دور کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ضرورت ہے تو بنیادی مسائل سے نمٹنے کی۔ جیسے جذباتی ردعمل، یا جذباتی شناخت۔ جب تک آپ ان کے جذباتی مسائل کو حل نہیں کریں گے وہ شراب یا نشے کی کسی دوسری شکل کی طرف مائل ہوتے رہیں گے'۔

ڈاکٹروں نے اسی طرح پریرنا اور سنگیتا کا نشے کی لت میں علاج کیا۔

اور اسی وجہ سے مرکز میں آنے والے یا یہاں داخل ہونے کا ارادہ رکھنے والے افراد کی تعداد میں پچھلے چند سالوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔