اسلام آباد: پیزا ڈلیوری بوائے کے ساتھ مبینہ ’گینگ ریپ‘ کرنے والے دو ملزمان گرفتار

خاکہ

،تصویر کا ذریعہThinkstock

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے تھانہ کورال کی حدود میں پیزا ڈیلیوری بوائے سے مبینہ زیادتی کے کیس میں دو ملزمان کو گرفتار کرنے اور ان کی قبضے سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسلام آباد پولیس نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملزمان کے خلاف تھانہ کورال میں مقدمہ درج ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد آئی جی اسلام آباد پولیس نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس افسران کو ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے۔

یاد رہے کہ پیر کی شب 20 سالہ ڈلیوری بوائے کو اسلام آباد کے مضافاتی علاقے شریف آباد میں دو لڑکوں نے مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد اس کی ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اسلام آباد پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سہیل ظفر چھٹہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عید کے دوسرے روز رات گیارہ سے بارہ بجے کے درمیان پیش آنے والے اس واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور فرار ہونے والے دونوں ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکا اس واقعے کے بعد ذہنی طور پر بہت پریشان اور خوفزدہ ہے۔

متاثرہ لڑکے کی جانب سے دائر کی جانے والی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ’گذشتہ شب سوا گیارہ بجے شریف آباد میں پیزا ڈلیوری کے لیے گیا تو ایڈریس تلاش کرنے کے دوران دو لڑکوں نے گن پوائنٹ پر مجھ سے بائیک چھین لی۔‘

متاثرہ لڑکے کا کہنا ہے کہ ’ملزمان اسلحے کی نوک پر زبردستی اسے اپنے ڈیرے پر لے گئے اور باری باری میرے ساتھ گینگ ریپ کیا اور میرے ساتھ بدفعلی کرنے کے بعد مجھے کمرے میں بند کر دیا۔‘

متاثرہ لڑکے کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے میری ویڈیو بنائی ہے اور دھمکی دی کہ وہ اسے وائرل کر دیں گے۔‘

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکے کے ساتھ مبینہ کرنے والے لڑکوں میں سے ایک کا تعلق ایک مقامی پراپرٹی ڈیلرز کے گروپ سے ہے جس نے متاثرہ لڑکے سے کہا کہ ’تم اس علاقے میں کیوں آئے ہو یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ کہہ کر انھوں نے لڑکے سے بائیک کی چابی چھین لی۔‘

واقعے کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر اے ایس پی احمد شاہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’پیزا آڈر کرنے والی خاتون نے جب ڈلیوری بوائے کو دیر ہو جانے پر کال کی تو ایک ملزم نے فون کال ریسیو کی اور خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی اور گالیاں دیں۔ مذکورہ خاندان نے پیزا شاپ پر کال کی اور صورتحال کی شکایات کی جس پر متعلقہ مینیجر نے بھی ڈلیوری بوائے کو کال کی جس پر گینگ ریپ کرنے والے لڑکوں نے کہا کہ آئندہ یہاں پیزا ڈلیوری کرنے کسی کو مت بھجوانا۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ مینیجر نے بتایا ہے کہ گینگ ریپ کرنے والے دونوں لڑکوں نے اپنی شناخت لڑکے اور فون پر منیجر کو ظاہر کی اور اس سے کہا کہ کوئی چھڑا سکتا ہے تو چھڑا لے آ کر اس کو، اگر پولیس کو اطلاع دی تو ہم اس لڑکے کی ریپ کی ویڈیو وائرل کر دیں گے۔‘

مینیجر نے اس کے بعد کورال پولیس سٹیشن کو اطلاع دی۔ علاقے میں پولیس نے مذکورہ پراپرٹی ڈیلر کے ڈیرے، جو کہ تین کمروں پر مشتمل تھا، پر چھاپہ مارا لیکن وہ دونوں لڑکے اس ڈیرے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو چکے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ’متاثرہ لڑکا ٹراما میں تھا اور وہیں کمرے میں موجود تھا، ہم نے وہاں جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کیے ہیں، جنھیں آگے تفتیش میں استعمال کیا جائے گا، ابتدائی طور پر لڑکے کا طبی معائنہ ہوا ہے جس میں اس کے ساتھ گینگ ریپ کی تصدیق ہو گئی ہے۔‘

مزید پڑھیے

اسلام آباد پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل سہیل ظفر چھٹہ کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکے کو جن افراد نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے ہمیں معلوم ہے کہ ان کا تعلق کس گروپ سے ہے۔

’یہ شاہد کھوکھر کا ڈیرہ ہے، اس نے آگے بندے رکھے ہوئے تھے۔ اسلام آباد کی حدود کے اندر اس طرح کے بدمعاشی کے اڈوں اور نو گو ایریاز کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

اے ایس پی احمد شاہ نے بتایا کہ ’شاہد کھوکھر سے رابطہ کیا گیا جنھوں نے تصدیق کی کہ ایک ملزم کو انھوں نے ڈیرے پر رکھا ہوا تھا جبکہ دوسرا ملزم پہلے ملزم کا دوست ہے۔ شاہد کھوکھر پولیس کے ساتھ تعاون کر رہا اور ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی اطلاع ملے گی آپ کو بتا دوں گا۔‘

پولیس کا کہنا ہے مرکزی ملزم پہلے بھی لڑائی کے بعد مقدمے میں جیل میں رہ چکا ہے تاہم ابھی دونوں لڑکوں کے نمبرز بند جا رہے ہیں اور پولیس ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کر رہی ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ’ملزمان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ملزمان کو گرفتار کر کے ٹھوس شواہد کی روشنی میں سخت سے سخت سزا دلوائی جائے گی۔‘

اس واقعے میں پولیس تھانہ کورال کے دو ماہ قبل ٹرانسفر ہونے والے ایس ایچ او سے بھی تحقیقات کرے گی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ تھانے کے سابقہ ایس ایچ او کے اس گینگ کے ساتھ تعلقات تھے اور اسے شو کاز نوٹس دیا جائے گا کیونکہ اس نے اپنی تعیناتی کے دوران اگر وہاں بدمعاشی کے اڈے اور نو گو ایریا بنے ہیں تو اس نے اس پر کام کیوں نہیں کیا۔