دوسری عالمی جنگ: ان نو خواتین کی کہانی جو نازیوں کے ’ڈیتھ مارچ‘ سے فرار ہوئیں

،تصویر کا ذریعہMartine Fourcaut
- مصنف, لوسی والیز
- عہدہ, بی بی سی سٹوریز
جب گوین سٹراس کی قریبی بزرگ رشتہ دار نے یہ انکشاف کیا کہ انھوں نے سنہ 1945 میں نازیوں کی جانب سے کرائی گئی ڈیتھ مارچ (جنگی قیدیوں کی ایسا طویل مارچ جس کے دوران گِر جانے والے قیدی کو مرنے کے لیے کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا جاتا ہے) سے فرار ہونے میں مزاحمت کرنے والی نو خواتین کے ایک گروپ کی قیادت کی تھی تو گوین کو اس کے متعلق مزید تفصیلات جاننے میں دلچسپی پیدا ہوئی۔
اس دلچسپی نے انھیں مجبور کیا کہ وہ اُن خواتین کی بہادری کے نقش قدم کا پتہ لگانے کے لیے نکلیں تاکہ اس واقعے کے 75 سال بعد اُن خواتین کی بہادری کی داستان کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے۔

اس دن گوین سٹراس اپنی 83 سالہ بزرگ رشتہ دار ہیلین پوڈلیاسکی کے ساتھ بڑے آرام سے لنچ (دن کا کھانا) سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔
ہیلین فرانس کی شہری ہیں۔ جبکہ گوین امریکی مصنفہ ہیں لیکن فی الحال وہ فرانس میں مقیم ہیں۔
یہ سنہ 2002 کی بات ہے۔ باتوں باتوں میں گفتگو کا رُخ 83 سالہ ہیلین کے ماضی کی طرف چل پڑا۔ گوین کو معلوم تھا کہ انھوں (ہیلین) نے دوسری عالمی جنگ کے دوران فرانس کی مزاحمت میں کام کیا تھا۔ تاہم گوین کو ہیلین کی زندگی میں رونما ہونے واقعات کے بارے میں اس وقت کچھ زیادہ علم نہیں تھا۔
ہیلین نے کہانی سُنائی کہ کس طرح انھیں گسٹاپو (جرمنی کی خفیہ پولیس) نے پکڑا، تشدد کا نشانہ بنایا اور جرمنی کے ایک حراستی کیمپ میں بھیج دیا۔ جیسے ہی اتحادی قریب آنے لگے کیمپ کو خالی کروایا جانے لگا اور انھیں نازی ’موت کے مارچ‘ میں میلوں تک پیدل چلنے پر مجبور کیا گیا۔
بوڑھی ہیلین نے اختصار سے کام لیتے ہوئے کہا: ’پھر میں خواتین کے ایک گروپ کے ساتھ فرار ہو گئی۔‘
گوین حیرت زدہ رہ گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گوين بتاتی ہیں کہ ’میرے خیال سے اپنی زندگی کے آخری زمانے میں وہ اس کے بارے میں بات کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار محسوس کر رہی تھیں۔ لیکن بہت سے دوسرے زندہ بچ جانے والوں کی طرح وہ بھی برسوں خاموش رہیں اور انھی کی طرح انھوں نے اپنے قریبی اہلخانہ سے اس بارے میں کبھی بات نہیں کی۔ البتہ دور کے رشتہ داروں سے تھوڑی بہت بات ضرور کی۔‘

،تصویر کا ذریعہSwedish Red Cross
ہیلین کو جب فرانس کے شمال مشرقی علاقے سے ایک ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تو وہ اس وقت صرف 24 سال کی تھیں۔ وہ کرسٹین کے فرضی نام سے کام کرتی تھیں۔ ہیلین جرمن سمیت پانچ زبانیں بولتی تھیں اور اپنے وقت میں ایک باصلاحیت انجینیئر تھیں۔
گوین کا کہنا ہے کہ ’وہ ریزسٹینٹ فورس یعنی اتحاد کی مزاحمتی صف میں کافی اوپر تھیں۔ اور ایک سال سے زیادہ عرصے سے ایجنٹوں سے رابطہ کرنے اور ساز و سامان کو پیراشوٹ کے ذریعے مختلف مقامات پر پہنچانے کے کام میں رہنمائی کر رہی تھیں۔ وہ انتہائی باصلاحیت تھیں، خوبصورت تھیں اور ان کی زبردست شخصیت تھی۔‘
یہ بھی پڑھیے
یہ جنگ کے آخری سال تھے، اور فرانس میں تمام مزاحمتی نیٹ ورک کو توڑنے کی نازیوں کی طرف سے ایک بڑی کوشش کے بعد ہیلین کو سنہ 1944 میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس دوران وسیع تر گرفتاریوں میں آٹھ دیگر خواتین بھی شامل تھیں۔ ہیلین کی سکول کی دوست بھی ان میں سے ایک تھیں۔

گوین نے بتایا کہ سوزین موڈیٹ (اختیاری یا نقلی نام: زازا) پُرامید، مہربان اور فیاض شخصیت کی مالک تھیں۔ 22 سال کی عمر میں ساتھی مزاحمتی رکن رینی موڈیٹ سے شادی کرنے کے ایک ماہ بعد ان دونوں کو گرفتار کیا گيا تھا۔ انھیں اس لیے گرفتار کیا گیا کہ وہ فرانسیسی مردوں کے فرار میں مدد کر رہے تھے جبکہ ان سے جرمن فیکٹریوں میں کام لیا جانا تھا۔
گوین کہتی ہیں: ’ان کے علاوہ ایک نکول کلیرنس بھی تھی، جو پیرس کے پورے خطے میں تمام رابطہ کار ایجنٹوں کی انچارج تھیں۔‘ اس لیے انھیں زیادہ خطرات لاحق تھے۔ وہ صرف 22 سال کی تھیں جب انھیں اگست 1944 میں پیرس کی آزادی سے تین ہفتے قبل گرفتار کیا گیا تھا اور شہر سے نکلنے والی آخری گاڑی سے جلاوطن کر دیا گیا تھا۔‘
جیکلن آبیری ڈو باؤلی (جیکی) بھی ان آخری قیدیوں میں سے ایک تھیں جنھیں پیرس سے لے جایا گیا تھا۔ گوین کا کہنا ہے کہ 29 سال کی عمر میں جیکی گروپ میں سب سے بڑی تھیں اور وہ ایک اہم انٹیلیجنس نیٹ ورک کا حصہ تھیں۔ ان کی پرورش ان کے چچا اور چچی نے کی تھی کیونکہ ان کے والد بحری جہاز پر کام کرتے تھے اور ان کا زیادہ وقت سمندر میں ہی گزرتا تھا۔
گوین نے بتایا کہ ’جب وہ گھر آئے تو وہ ان کے ساتھ چلی گئیں۔ اس نسبت سے وہ ایک طرح سے بہت نمکین تھیں۔ وہ ایک ملاح کی طرح بولتی تھیں اور اپنے دل کی بات کرتی تھیں۔ وہ ہر وقت تمباکو نوشی کرتیں، اور ان کی آواز بہت گہری تھی۔ وہ بہت مضبوط تھیں۔‘
گوین نے انھیں ناقابل یقین حد تک وفادار اور دیکھ بھال کرنے والے کے طور پر بیان کیا ہے۔
میڈیلون ورسٹیجن (لون) اور گیلمیٹ ڈینڈلز (گیگی) کو جب گرفتار کیا گیا تو وہ بالترتیب 27 اور 23 سال کی تھیں۔ گوین کا کہنا ہے کہ وہ اچھی دوست تھیں اور ان کا تعلق اعلیٰ ڈچ گھرانوں سے تھا۔
وہ کہتی ہیں: ’وہ ڈچ نیٹ ورک میں شامل ہونے کے لیے پیرس آئی تھیں۔ لیکن انھیں فوراً ہی یعنی آمد کے فوراً بعد ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ گیگی بہت ہی پھرتیلی، نازک اور پُرسکون شخصیت کی مالک تھیں جبکہ لون ہر چیز میں کود پڑنے والی انسان تھیں۔‘
گوین نے رینی لیبون چیٹنے (زنکا) کو ’انتہائی بہادر‘ خاتون کے طور پر بیان کیا ہے۔ لون نے انھیں ’چھوٹی گڑیا‘ کہا۔ زنکا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سنہرے گھنگریالے بالوں والی چھوٹے قد کی تھیں اور ان کے آگے کے دانتوں کے درمیان فاصلہ تھا۔ وہ اور ان کے شوہر نے ایک ایسے نیٹ ورک کے لیے کام کیا جس کی مدد سے برطانوی فضائیہ کو واپس انگلینڈ فرار ہونے میں مدد ملی تھی۔
گوین کا کہنا ہے کہ زنکا کو 29 سال کی عمر میں گرفتار کیا گیا تھا، اور جیل میں انھوں نے ایک بیٹی کو جنم دیا جس کا نام فرانس رکھا۔ انھیں اپنی بیٹی کو صرف 18 دن تک ساتھ رکھنے کی اجازت دی گئی تھی اور پھر زنکا کو جرمنی بھیج دیا گیا۔ زنکا ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ انھیں اپنی بیٹی کے لیے زندہ رہنا ہے۔

اس کے بعد یوون لی گیلو (مینا) تھیں۔ گوین نے انھیں ایک محنت کش طبقے کی لڑکی کے طور پر بیان کیا ہے جو ’محبت میں گرفتار ہونا چاہتی تھیں۔‘ انھوں نے پیرس میں ڈچ نیٹ ورک کے ساتھ کام کیا تھا اور اسی دوران ایک ڈچ لڑکے سے محبت کر بیٹھیں۔ انھیں 22 سال کی عمر میں گرفتار کیا گیا تھا۔
تمام نو خواتین میں سے سب سے کم عمر جوزفین بورڈناوا (جوسی) تھیں۔ وہ محض 20 سال کی تھیں جب انھیں ماسے شہر سے گرفتار کیا گیا۔ گوین کا کہنا ہے کہ وہ ہسپانوی تھیں، اور سب سے اچھے مزاج کی مالک تھیں۔
گیون کے مطابق جوسی بچوں کو گانا گا کر پُرسکون کر دیتی تھیں۔
ان نو افراد کو شمالی جرمنی میں خواتین کے ایک حراستی کیمپ ریونسبروک میں منتقل کر دیا گیا، اور پھر انھیں اسلحہ سازی کے لیے لیپزگ کے ایک لیبر کیمپ میں کام کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ یہیں انھوں نے مضبوط دوستی قائم کی۔
کیمپ کے حالات خوفناک تھے۔ انھیں بھوکا رکھا جاتا، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا، انھیں برہنہ کر کے معائنے کے لیے برف میں کھڑے ہونے پر مجبور کیا جاتا۔
وہ دوستی کا نیٹ ورک بنا کر زندہ رہیں۔ گوین کا کہنا ہے کہ کیمپ میں انھوں نے یہ رواج بنا لیا تھا اور یکجہتی کے پیالے میں وہ سب اپنے حصے کے سوپ میں سے ایک چمچ ڈالتی تھیں۔ اس کے بعد وہ کٹورا اس عورت کو دیا جاتا جسے اس دن اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی تھی۔
گوین کہتی ہیں کہ بھوک تکلیف دہ تھی، لیکن خواتین کھانے کے بارے میں بات کر کے تسلی محسوس کرتیں۔ ہر رات نکول اپنی شاہ بلوط کریم کی ترکیب یا برانڈی میں بھگوئی ہوئی سٹرابیری کی باتیں کرتیں۔ وہ اسے کاغذ کے ٹکڑوں پر لکھ لیتیں جو وہ دفتر سے چوری کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں اور نکول نے اسے اپنے گدے کے ساتھ جوڑ کر کھانے کی ترکیبوں کی کتاب بنا لیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہDroits Réservés
جب گوین نے ہیلین کا مکمل بیان ریکارڈ کیا تو ان کی بزرگ انھیں بتانا چاہتی تھیں کہ اگرچہ وہ سب قید میں تھیں، لیکن پھر بھی وہ سپاہی تھیں، اور خواتین نے مل کر پینزرفاؤسٹ نامی ہتھیار کے لیے شیلز بنانے کے کام کو سبوتاژ کیا تھا۔
اپریل سنہ 1945 میں اتحادیوں نے فیکٹری پر کئی بار بمباری کی اور نازیوں نے کیمپ کو خالی کرنے کا فیصلہ کیا۔ گوین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد پانچ ہزار بھوکی پیاسی، تھکی ہوئی خواتین کو پھٹے کپڑوں اور خون آلود اور چھالے پڑے ہوئے پاؤں کے ساتھ مشرقی جرمنی کے دیہی علاقوں سے نکالا گیا۔
گوین کا کہنا ہے کہ خواتین کو احساس تھا کہ یہ مارچ کتنا خطرناک ہے۔
مزید پڑھیے
گیون کا کہنا ہے کہ ’وہ واقعی جانتی تھیں کہ ان کے پاس ایک ہی انتخاب تھا: فرار ہوں، مارے جائیں یا بھوک سے مر جائیں۔ چنانچہ انھیں ایک لمحہ ایسا نصیب ہوا جب وہاں ایک قسم کی افراتفری پھیل گئی اور انھوں نے ایک کھائی میں چھلانگ لگا دی اور ایسا ظاہر کیا گویا وہ مردہ لاشوں کا ڈھیر ہیں۔ وہاں کئی لاشوں کے ڈھیر تھے۔ اس لیے ان کے بغیر مارچ جاری رہا۔‘
خواتین وہاں سے نکل پڑیں اور دس دنوں تک بھٹکتی رہیں یہاں تک کہ انھیں ایک محاذ پر امریکی فوجی مل گئے۔ گوین بتاتی ہیں کہ جیکی کو ڈپتھیریا نامی حلق کی بیماری تھی، زنکا کو تپ دق تھا، نکول کچھ عرصہ پہلے نمونیا سے صحتیاب ہوئی تھیں، ہیلین کو کولہے کا پرانا درد تھا۔ ان کی ہڈیاں ٹوٹی تھیں اور بھوک سے مر رہی تھیں، لیکن وہ مل کر آزادی تلاش کے لیے پُرعزم تھیں۔
گوین کہتی ہیں کہ ان خواتین نے فرار کے لیے جو راستہ اختیار کیا اس کا پتہ لگانے کے لیے بہت زیادہ جاسوسی کا کام کرنا پڑا اور جرمنی کے تین دوروں کی ضرورت پڑی۔ ان خواتین کے قدموں کے نشانوں کا پیچھا کرتے ہوئے گوین کو جس چیز سے سب سے زیادہ حیرت ہوئی وہ یہ تھی کہ ہر روز وہ کتنی کم مسافت طے کر پاتی تھیں۔
گوین بتاتی ہیں کہ ’کبھی کبھی تو وہ دن بھر میں صرف پانچ یا چھ کلومیٹر ہی چلتی تھیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ستم ظریفی تو یہ تھی کہ وہ بھوکی مر رہی تھیں، اس لیے انھیں کھانے کی ضرورت تھی اور انھیں سونے کے لیے محفوظ مقام کی ضروت تھی، اور اس کے لیے انھیں گاؤں جا کر لوگوں سے بات کرنے کی ضرورت تھی، لیکن جب بھی وہ کسی گاؤں جاتیں تو یہ ان کے لیے سب سے خطرناک وقت ہوتا۔ کیونکہ وہ کسی جال میں پھنس سکتی تھیں یا گاؤں والوں کے ہاتھوں ماری جا سکتی تھیں۔‘
ہیلین اور لون دونوں جرمن زبان بول سکتی تھیں اس لیے وہی ہمیشہ گاؤں کے سربراہ سے کسی گودام یا کھلیان میں سونے کی اجازت مانگنے یا بچا کچا کھانے مانگنے کے لیے جاتیں۔

،تصویر کا ذریعہJetske Spanjer & Ange Wieberdink
گوین کا کہنا ہے کہ ’وہ بہت جلد سمجھ چکی تھیں کہ ان کے لیے بہترین حکمت عملی یہ تھی کہ اس طرح کام کیا جائے جیسے ان کے وہاں موجود ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور یہ دکھاوا کرتی رہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور وہ خوفزدہ نہیں ہیں۔‘
جب انھیں پتا چلا کہ فرنٹ لائن امریکی فوجی جرمنی کے سیکسونی میں مولڈ ندی کے دوسری طرف ہیں، تو پھر اس کے بعد اسے عبور کرنا ان کے لیے آخری رکاوٹ تھی۔
گوین کہتی ہیں، کہ ’میرے لیے سب سے زیادہ پُرجوش بات مولڈ کے پل پر کھڑے ہو کر دریا کو دیکھنا تھا۔‘ انھوں نے ان خواتین کے بارے میں ان کے ملٹری آرکائیوز اور فرار ہونے والی خواتین کی لکھی گئی یادداشتوں، لون کی کہانی پر تحقیق کرنے والے فلم سازوں اور خواتین کے خاندانوں سے بات کر کے معلومت حاصل کی تھیں۔
انھوں نے دریافت کیا کہ فرار کے دوران خواتین کے لیے دریا کو عبور کرنا سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحات میں سے ایک تھا۔
دوسری طرف جانے کے بعد ایک لمحہ ایسا آیا جب کچھ خواتین کو یہ لگنے لگا کہ اب وہ مزید آگے نہیں بڑھ سکیں گی۔ جیکی کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی، لیکن خواتین کا عزم تھا کہ کوئی بھی پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا۔ اسی دوران ایک جیپ شور مچاتی ان کی طرف بڑھی اور دو امریکی فوجی اس سے کود پڑے اور انھوں نے انھیں تحفظ اور سگریٹ کی پیشکش کی۔
اپنی تحقیق کے دوران گوین کو پتا چلا کہ جنگ کے بعد خواتین کے لیے معمول کی زندگی میں واپس آنا کتنا مشکل تھا۔
گوین کہتی ہیں: ’وہ بے حد مریل اور بدحال تھیں، اور ایک عورت ہونے کے ناطے ایک قسم کی شرمندگی بھی تھی کہ وہ کیمپ میں تھیں۔۔۔ ایک طرح کی تنہائی بھی تھی۔‘
’وہ ایک گروپ کے طور پر انتہائی قریب تھیں کہ اچانک وہ ان لوگوں میں منتشر ہو گئیں جن سے وہ بات بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ ایسے لوگ جو اسے سننا نہیں چاہتے تھے۔ تو مجھے لگتا ہے کہ یہ واقعی نفسیاتی قسم کا قرنطینہ تھا۔ میرے خیال میں یہ پی ٹی ایس ڈی (صدمے کی کیفیت) کی صورتحال تھی، لیکن اسے تسلیم نہیں کیا جا رہا تھا کیونکہ انھیں سپاہی نہیں سمجھا گیا۔‘
گوین کہتی ہیں کہ نوجوان خواتین کے طور پر انھیں جنگ کے بعد اکثر کہا گیا کہ وہ اپنی کہانیوں پر خاموش رہیں، اس لیے ان کی بہادری کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
گوین کہتی ہیں کہ آزادی کے 1038 چیمپئنز، جنھیں صدر چارلز ڈی گال نے مزاحمت کے رہنما قرار دیا تھا، میں سے صرف چھ خواتین تھیں، اور ان میں سے چار پہلے ہی مر چکی تھیں۔ یہ مضحکہ خیز بات تھی کیونکہ مزاحمت کرنے والوں میں شاید کم از کم 50 فیصد خواتین تھیں۔‘
گوین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ خواتین نے ماضی سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا اور آگے بڑھیں، لیکن دیگر جیسے گیگی اور مینا زندگی بھر دوست رہیں اور ایک دوسرے کے بچوں کی گاڈ مدر بنیں۔
گوین کا کہنا ہے کہ ’یہ خواتین پھر کافی مدت بعد بھی اکٹھی ہوئیں، تقریباً اس وقت جب میری گریٹ آنٹ نے مجھے کہانی سنائی، تو گروپ میں سے زندہ بچ جانے والوں کا ایک طرح کا دوبارہ ملاپ (ری یونین) تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہFrance Lebon Châtenay Dubroeucq
لیکن زنکا کی بچی فرانس کا کیا ہوا؟
گوین بتاتی ہیں کہ وہ تقریباً تین سال تک انھیں ڈھونڈتی رہیں۔ گوین کا کہنا ہے کہ ’اتفاق سے میں نے انھیں ڈھونڈ نکالا اور جب میں ان سے ملنے گئی تو وہ اس جگہ سے زیادہ دور نہیں رہ رہی تھیں جہاں میں جنوبی فرانس میں رہتی ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ’تصور کریں کہ 70 سال بعد اپنی ماں کے بارے میں یہ سب جان رہی ہوں۔‘
جنگ کے بعد فرانس اپنی والدہ کے ساتھ دوبارہ مل گئی تھیں لیکن زنکا بہت بیمار تھی اور کیمپ میں تپ دق کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کے متعدد آپریشن کرنے پڑے تھے۔ گوین کا کہنا ہے کہ زنکا اپنی بیٹی کی دیکھ بھال کے لیے بہت کمزور تھیں جب وہ بڑی ہو رہی تھیں، اور انھیں اکثر خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ رہنے کے لیے بھیج دیا جاتا تھا۔
زنکا کی سنہ 1978 میں موت ہو گئی لیکن فرانس کو اپنی ماں کے فرار کی کہانی کا علم نہیں تھا۔ گوین کا کہنا ہے کہ ’وہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ اپنی ماں کے لیے کتنی اہم تھیں۔‘
ہیلین سنہ 2012 میں وفات پا گئيں۔ زندگی کے آخر میں ایسے لمحات بھی آئے جب یہ واضح ہو گیا کہ ہیلین اب بھی ماضی سے پریشان تھیں۔ گوین نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے۔
گوین کہتی ہیں: ’خواتین کو جنگوں کا نقصان کئی طریقوں سے اٹھانا پڑتا ہے جن میں بہت سے غیر تسلیم شدہ ہیں اور میں چاہتی ہوں کہ انھیں پہچانا اور جانا جائے۔‘
اس کے ساتھی ہی گوین یہ بھی چاہتی ہے کہ ان کی ’مہربانی اور سخاوت کے حیرت انگیز عمل کو بھی تسلیم کیا جائے۔‘ یہ تمام چھوٹی چھوٹی چیزیں جو انھوں نے ایک دوسرے کو تھامے رکھنے کے لیے کیں بہت خوبصورت ہیں، مجھے لگتا ہے کہ ان کا جشن بھی منایا جانا چاہیے۔‘
گوین نے اپنی گریٹ آنٹ کی کہانی کے بارے میں ’دی نائن‘ نامی کتاب لکھی ہے۔










