’اپنے نانا کی سوانح عمری لکھتے ہوئے مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک قاتل تھے‘

،تصویر کا ذریعہsilviafoti.com
- مصنف, سروج پاتھیرانا
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
سلویا فوتی اپنے نانا سے کبھی نہیں ملیں۔
مگر لیتھوینیا سے تعلق رکھنے والوں کے لیے ان کے نانا جوناس نوریکا ایک ہیرو تھے جو دوسری جنگِ عظیم میں سویت کومیونسٹوں کے خلاف لڑے تھے۔ سلویا کی پیدائش سے پہلے ان کی وفات ہو چکی تھی۔
وہ ملیشیا لیڈر، ایک سیاسی کارکن، گورنر اور شدید قوم پرست انسان تھے۔
جب سلویا نے اپنے نانا کی زندگی پر وہ کتاب مکمل کرنے کا فیصلہ کیا جو ان کی والدہ نے شروع کی تھی، انھیں معلوم بھی نہیں تھا کہ وہ کیا کچھ جانیں گیں اور ان معلومات نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔
’مجھے ان کے تاریک ماضی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا‘
سلویا اب امریکی شہر شکاگو میں مقیم ہیں اور وہ ایک مصنفہ ہیں۔ کئی سالوں تک سلویا نے اپنے نانا کی بہادری کے قصے سنے تھے۔
امریکہ میں پلنے بڑھنے کے دوران انھیں لیتھوینیا سے ہونے اور اپنے نانا کے کام پر فخر تھا۔
ان کی والدہ اور نانی نے انھیں بتایا تھا کہ ان کے نانا 1947 میں سویت یونین کے لیتھوینیا پر حملے کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیتھوینیا میں ان کے نانا کے نام پر سکولوں اور سڑکوں کے نام رکھے گیے تھے۔
مگر ایک ایسے ہی سکول کے ڈائریکٹر نے سلویا سے بات کرتے ہوئے ذکر کیا کہ ان کے نانا پر یہودیوں کو قتل کرنے کا الزام تھا۔
سلویا یاد کرتی ہیں کہ یہ سنتے ہیں وہ بےہوش ہونے لگی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہsilviafoti.com
اس وقت سلویا کی عمر 38 سال تھی۔ ’میرے والدہ کی ابھی ابھی ہلاکت ہوئی تھی۔ میری نانا کی بھی ابھی ابھی ہی موت ہوئی تھی۔‘
بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال تھا کہ میں اپنے نانا کے بارے میں ایک شاندار کہانی لکھوں گی۔ مجھے ان کے تاریک ماضی کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں تھا۔‘
’ مجھےلگتا تھا کہ میں دوسری جنگِ عظیم کے ایک ہیرو کی کہانی لکھ رہی تھی۔‘ وہ کہتی ہیں کہ سکول میں جو انھوں نے سنا اسے کومیونسٹ پروپیگنڈا تصور کر کے وہ ایک دہائی تک ان حقائق سے انکار کرتی رہیں۔
یہودیوں کا قتلِ عام
سلویا بتاتی ہیں کہ ’میں نے دس سال اپنے نانا کے بارے میں معلومات اور کتابچے جمع کیے۔‘
اس دوران انھیں ایک ایسا 30 صفحات پر مشتمل دستاویز ملا جو ان کے نانا نے 1933 میں 22 سال کی ععر میں لکھا تھا۔ اس میں بہت سارے یہودی مخالف خیالات تھے اور یہ بھی لکھا تھا کہ کیوں لیتھوینیا کو یہودیوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ انھیں اور بھی ایسے دسستاویزات ملے جس سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے نانا ہٹلر اور موسولینی کے مداح تھے۔
مگر پھر جو انھیں معلوم ہوا وہ اور بھی حیران کن تھا۔ انھیں کافی شواہد ملے کے ان کے نانا یہودیوں کے قتلِ عام میں ملوث تھے تاہم انھیں یہ ثبوت نہیں ملا کہ ان کے نانا نے خود کسی کو قتل کیا ہو۔
ان شواہد کی بنیاد پر انھوں نے اپنی کتاب کا نام رکھا ’نازی کی پوتی‘۔

،تصویر کا ذریعہGrant Gochin
لیتھوینیا میں نازی اقتدار کے دوران ملک کے تقریباً 95 فیصد یہودیوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔
آج لیتھوینیا کی یہودی برادری اور مارے جانے والوں کے بیرونِ ملک بچے سلویا کے ساتھ مل کر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ سلویا کے نانا کا نام ملک کے قومی پیروز میں سے نکال دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
جوناس نوریک کے حامی کہتے ہیں کہ اس وقت ان کا ملک سویت اور نازی دونوں فوجوں سے خطرے میں تھا اور جوناس نوریک نازی ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ انھیں یہودیوں کے کیمپوں میں نازیوں نے ڈالا تھا اور بعد میں سویت فوجوں نے قتل کیا تھا۔
مگر سلویا کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ ان کے نانا 1941 میں جب ان کی عمر 30 سال تھی، نازیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔
سلویا اور گرینٹ کی دوستی کا آغاز

،تصویر کا ذریعہGrant Gochin
سلویا کے پاس سب سے اہم ثبوت جوناس نوریک کے سیکرٹری کی کتاب ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ جوناس نوریک نے 200 یہودیوں کے قتل کا حکم دیا تھا۔
سلویا کہتی ہیں کہ آپ کے پاس ایک عینی شاہد آ گیا ہے۔
گرینٹ گوچن جوناس نوریک کے خلاف اپنی مہم چلا رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جوناس نوریک نے ان کے 100 رشتے داروں کو قتل کیا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے اپنی ساری تحقیق عام کر دی اور پھر ایک دن مجھے سلویا کی ای میل آئی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے مجھے ان پر شدید شک تھا۔ انھوں نے مجھے فون کر کے کہا کہ میں نے آپ کی تحقیق پڑھی ہے اور آپ سے ایک بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔‘
’میں نے پوچھا کیا تو وہ کہنے لگیں کہ آپ میرے نانا کے تقریباً 10000 متاثرین کو بھول گئے ہیں۔‘
یہ سلویا اور گرینٹ کی ایک قریبی دوستی کا آغاز تھا۔ یہاں تک کہ جب گرینٹ نے لیتھوینیا کی حکومت کے خلاف یورپی کورٹ آف ہیومن رائٹس میں مقدمہ کیا تو سلویا نے عدالت کو ان کی حمایت میں حلف نامہ دیا۔
گرینٹ کا دعویٰ ہے کہ جوناس نوریک لیتھوینیا میں قتل کیے جانے والے 220000 یہودیوں میں سے 15000 ہزار کی موت کے ذمہ دار ہیں۔ لیتھوینیا کے حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔
’قاتل کی پوتی‘ اور ’مقتول کے پوتے‘کی سچ جاننے کی کوشش

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گرینٹ کا کہنا ہے کہ ایک ’قاتل کی پوتی‘ اور ’مقتول کے پوتے‘ کے اکھٹے ہو کر سچ جاننے کی کوشش مفاہمت کی ایک بہترین کہانی ہے۔
سلویا اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔ ہالی وڈ میں بھی یہی رائے پائی جاتی ہیں اور ان کی دوستی کے بارے میں ایک فلم بھی بنائی جا رہی ہے۔
سلویا کہتی ہیں کہ ان کی دوستی کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ ان چند ہی لیتھوینیائن لوگوں میں سے ایک ہیں جو اپنے ملک میں ہولوکاسٹ کا جائزہ لینا چاہتے ہیں اور ’بدقسمتی سے‘ لیتھوینیا نے اس میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’متاثرین تو واپس نہیں آئیں گے مگر لیتھوینیا کے لوگوں کو ہولوکاسٹ میں کیے گئے جرائم کی ذمہ دار لینی چاہیے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف متاثرین کے رشتے داروں بلکہ پورے ملک کے لیے بہترین عمل ہو گا۔








