سوویتس اور نازیوں نے پراسرار انسانی ڈھانچے کو کیسے اپنے نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا؟

،تصویر کا ذریعہNJ SAUNDERS
- مصنف, راب کیمرون
- عہدہ, بی بی سی نیوز، پراگ
کئی دہائیوں سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ دسویں صدی کے ایک ڈھانچے کی شناخت کو لے کر الجھن کا شکار ہیں۔
جمہوریہ چیک کے شہر پراگ کے ایک قلعے سے ملنے والی ان انسانی باقیات کو نازیوں اور سوویت، دونوں ہی نے اپنے نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا۔
مگر ایک ہزار سال پرانی اس لاش پر لگے اس ’نسلی لیبل‘ کی درستگی کی کوششوں سے شاید اس لاش کے بارے میں اتنے انکشافات نہ ہوتے ہوں جتنے کہ ہمارے اپنے بارے میں۔
اس لاش کا سر بائیں جانب جھکا ہوا ہے جبکہ اس کا دایاں ہاتھ ایک آہنی تلوار پر ٹکا ہوا ہے۔ اس کے بائیں ہاتھ کے ساتھ چاقوؤں کا ایک جوڑا رکھا ہے اور اس کی انگلیوں کی ہڈیاں ایسے کھلی ہوئی ہیں جیسے چاقو پکڑنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
اس کے ساتھ شاید ایک اُسترا اور آگ جلانے والا سٹیل یعنی قدیم زمانے کا لائٹر موجود ہے جو رتبے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے پیروں میں لکڑی کے چھوٹے گلاس نما برتن ہیں جو کہ وائکنگ تقریبات میں استعمال ہونے والے شراب کے گلاسوں جیسے لگتے ہیں، اور ایک آہنی کلہاڑی کا سرا بھی ہے۔
مگر جو چیز سب سے زیادہ توجہ حاصل کرتی ہے وہ اس جنگجو کی تلوار ہے۔ تقریباً ایک میٹر لمبی یہ تلوار 10 صدیوں تک زنگ جھیلنے کے باوجود اب بھی ایک طاقتور اور خوبصورت شے ہے۔

کیا یہ کوئی وائکنگ جنگجو تھا؟
چیک اکیڈمی آف سائنسز میں آثارِ قدیمہ کے پروفیسر جان فرولِک کہتے ہیں کہ ’یہ تلوار اچھی کوالٹی کی ہے اور شاید مغربی یورپ میں تیار کی گئی ہے۔‘
اس طرح کی تلوار شمالی یورپ، جدید جرمنی، انگلینڈ اور وسطی یورپ کے ساتھ ساتھ دیگر علاقے بھی استعمال کرتے تھے۔
پروفیسر جان کہتے ہیں کہ ’چنانچہ وہ شاید وائکنگز کے قریب رہے ہوں مگر اس کی قومیت پر اب بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔‘
یہ ایک ایسا سوال ہے جس نے اُس وقت سے تاریخ دانوں کو الجھا کر رکھا ہے جب سنہ 1928 میں یوکرینی ماہرِ آثارِ قدیمہ آئیوان بورکووسکی نے اس جنگجو کا ڈھانچہ پراگ قلعے سے دریافت کیا تھا۔
بھلے ہی روسی خانہ جنگی میں دربدر ہونے والے آئیوان کھدائی کے انچارج تھے، مگر چونکہ وہ پراگ میں نیشنل میوزیم کے سربراہ کے ایک معمولی سے اسسٹنٹ تھے اس لیے انھیں اپنے نتائج شائع کرنے سے روک دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہPRAGUE INSTITUTE OF ARCHEOLOGY
نازیوں اور سوویتس نے وائکنگ تھیوری کیسے اپنائی؟
جب 1939 میں نازیوں نے پراگ پر قبضہ کیا تو انھوں نے جلد ہی وائکنگ تھیوری پر اکتفا کیا کیونکہ یہ نسلی پاکیزگی کے جرمن بیانیے پر پوری اترتی تھی۔
وائکنگز آخرکار نورڈچ تھے یعنی کہ جرمن۔ قبضہ کرنے والوں کے لیے یہ نظریہ پراپیگنڈہ کے طور پر کافی کارآمد تھی کیونکہ یہ ایڈولف ہٹلر کے نظریے کو اہمیت دیتی تھی۔ اس نظریے کے مطابق جرمن نسل اس قدیم زمین پر دوبارہ قبضہ کر رہی تھی جو دراصل ان کی تھی۔
بعد میں بورکووسکی پر نازی اکیڈمی میں کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور کام نہ کرنے کی صورت میں حراستی مرکز بھیج دینے کی دھمکی دی گئی۔
ان کے مکمل طور پر ترمیم شدہ نتائج کو جرمن تاریخی دعوؤں کے جواز کے طور پیش کرنے کے لیے شائع کیا گیا۔
جنگ کے فوراً بعد جب پراگ پر سوویت اثر و رسوخ پہلے سے کہیں زیادہ جابرانہ ہوتا چلا گیا تو بورکووسکی کو کہا گیا کہ وہ اپنے نظریے کو بدلیں اور یہ کہیں کہ ان پر وائکنگ نظریہ ایجاد کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
بورکووسکی نے جلدی سے اپنے سابق باس کے سب سے پرانے نظریے پر سے گر جھاڑی اور کہنے لگے کہ یہ ڈھانچہ بوہیمیا (موجودہ جمہوریہ چیک کا علاقہ) پر 1306 تک یعنی 400 سال حکمرانی کرنے والے سلاوی نسل کے پریمیسلِڈ خاندان کے ایک اہم شخص کا ہے۔
اس طرح ان پر سے گُلاگ کے حراستی مراکز جانے کا خطرہ ٹل گیا۔
70 سال بعد جان فرولِک جیسے ماہر آثارِ قدیمہ نظریے کے بجائے سائنسی بنیادوں پر رائے قائم کرنے کی آزادی رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPRAGUE INSTITUTE OF ARCHEOLOGY
وہ کہتے ہیں ’ہمیں یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ وہ بوہیمیا میں پیدا نہیں ہوا تھا۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ جنگجو کے دانتوں پر موجود سٹرونٹیئم ریڈیوایکٹیو آئسوٹوپس کے تجزیے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ شمالی یورپ میں بحيرہ بالٹک کے جنوبی ساحل کے آس پاس یا شاید ڈنمارک میں پلا بڑھا تھا۔
لیکن وہ تو خالصتاً وائکنگ علاقہ ہے، ہے ناں؟
’ہاں لیکن چونکہ وہ بالٹک علاقے میں پیدا ہوا تھا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ وائکنگ تھا۔ اس وقت جنوبی بالٹک کا ساحلی علاقہ سلاوی، بالٹک قبیلوں اور دیگر لوگوں کا مسکن تھا۔‘
فرولِک کا ماننا ہے کہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر 50 سال کی عمر میں مرنے والا شمال کا یہ جنگجو اپنی جوانی کے اوائل میں پراگ آیا تھا اور اس نے بوہیمیا کے پہلے ڈیوک اور پریمسلِڈ خاندان کے جد بوریوج اول یا ان کے سب سے بڑے بیٹے اور جانشین سپیتھنیو اول کے لیے کام کیا۔
پریمیسلِڈ نے پراگ قلعے کو ابھرتی ہوئی بوہیمیئن ریاست کے مرکز کے طور پر قائم کیا اور قلعے کے درمیان میں جنگجو کی قبر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ ایک نمایاں شخص تھا۔

نامعلوم فوجی کے ڈھانچے کو پرانے شاہی محل کی زیرِزمین راہداریوں میں شیشے کے تابوت میں بند دیکھ کر یہ سوال اٹھانا مشکل نہیں ہے جس کا جواب اب تک کسی کو نہیں مل سکا کہ آخر یہ شخص تھا کون جو بالٹک خطے میں پیدا ہوا، اس کے ہاتھ میں وائکنگ تلوار تھی اور اس کے حاکم بوہیمیائی تھے؟
یونیورسٹی آف برسٹل میں 20ویں صدی کے تنازعات، آثارِ قدیمہ اور اینتھروپولوجی کے ماہر پروفیسر نکولس سینڈرز کہتے ہیں کہ ’موجودہ دور کی طرح ماضی میں بھی حالات کے اعتبار سے لوگ اپنی شناخت بدلتے تھے۔‘
سینڈرز نے فرولک اور یونیورسٹی آف ہیلسنکی میں اس جنگجو کے ڈی این اے کا تجزیہ کرنے والے وولکر ہیڈ کے ساتھ مل کر حال ہی میں اس ڈھانچے کے حوالے سے اینٹیکویٹی نامی جریدے میں ایک مضمون چھاپا ہے۔ ہیڈ کے اس تجزیے کے ذریعے اس جنگجو کی نسل کے بارے میں اگر تمام نہیں تو پہلے سے زیادہ معلومات مل سکیں گی۔
سینڈرز کے مطابق ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ’اوہ یہ تو وائکنگ ہے‘ یا ’اوہ یہ تو سلاوی ہے‘ اس کے برعکس ان کی ملکیت میں اگر مختلف اشیا ہوں تو یہ ان کی مختلف شخصیات کی عکاسی کرتی ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’لوگ اپنی شناخت جگہ، وقت اور موقع کے حساب سے بناتے ہیں اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ یہ شخص کئی سالوں تک اگر سب سے اہم نہ بھی تھا، تب بھی یقیناً اہم تھا۔‘
دوسرے لفظوں میں یہ اشیا ان کی زندگی کی عکاس تھیں۔
.











