خیبر پختونخوا میں بودھ مذہب کی صدیوں پرانی یادگار

بھاملہ ستوپ یا مندر

،تصویر کا ذریعہFaran Rafi/BBC

،تصویر کا کیپشنبودھ مذہب کا بھملا سٹوپا پاکستان کی شمال مغربی علاقے خیبر پختونخوا میں موجود ہے۔ برطانوی آثار قدیمہ کے ماہر سر جان مارشل نے سنہ 1929 میں اس مقام کو دریافت کیا تھا
    • مصنف, فاران رفیع
    • عہدہ, بی بی سی نمائندہ
بھاملہ ستوپ یا مندر

،تصویر کا ذریعہFaran Rafi/BBC

،تصویر کا کیپشنآثار قدیمہ کے ماہرین کا خیال ہے کہ 2300 سال پہلے بدھ بھکشوؤں کا اس علاقے میں بول بالا تھا۔ بودھ مذہب کی اس قدیم یادگار میں مہاتما بدھ کے دور کے تقریبا 500 نوادارات ملے ہیں
بھاملہ ستوپ یا مندر

،تصویر کا ذریعہFaran Rafi/BBC

،تصویر کا کیپشنیہاں موجود تمام مجسموں میں مہاتما بدھ کا یہ واحد مجسمہ ہے جو تقریباً اصل حالت میں موجود ہے
بھاملہ ستوپ یا مندر

،تصویر کا ذریعہFaran Rafi/BBC

،تصویر کا کیپشناس سٹوپا میں مہاتما بدھ کے 14 میٹر لمبے مجسمے کی باقیات بھی ملی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مہاتما بدھ کا لیٹا ہوا مجسمہ ہے اور یہ تیسری صدی عیسوی کا بتایا جاتا ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اس قسم کا دنیا کا قدیم ترین مجسمہ ہے۔
بھاملہ ستوپ یا مندر

،تصویر کا ذریعہFaran Rafi/BBC

،تصویر کا کیپشنخیبر پختونخوا کے آثار قدیمہ کے شعبے نے اس علاقے میں سنہ 2012 میں کام شروع کیا تھا۔ اس کے بعد بودھ راہبوں کے اس مسکن کا پتہ چلا۔ ایک اندازے کے مطابق اس خانقاہ کی تعمیر چوتھی صدی عیسوی میں ہوئی تھی۔ ہندوستان پر حملہ کرنے کے لیے جب ہون اس علاقے سے گزرے تو انھوں نے اسے تاراج کر دیا
بھاملہ ستوپ یا مندر

،تصویر کا ذریعہFaran Rafi/BBC

،تصویر کا کیپشنیہ سٹوپا خان پور ڈیم کے قریب واقع ہے۔ حکومت اسے مقبول سیاحتی مقام بنانا چاہتی ہے لیکن خراب سڑکوں کی وجہ سے سیاحوں کو یہاں آنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔
بھاملہ ستوپ یا مندر

،تصویر کا ذریعہFaran Rafi/BBC

،تصویر کا کیپشنبھملا کے بودھ آثار اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ورثے کے ادارے یعنی یونیسکو کی اس فہرست میں شامل ہیں جس میں ایسے مقامات کو عالمی سطح پر تحفظ دیا گیا ہے۔ کھدائی کے دوران یہاں سے حاصل ہونے والی مختلف نوادارات کو صوبے کے مختلف عجائب گھروں میں رکھا گيا ہے۔ زمانہ حال میں خزانے کی تلاش کرنے والوں نے بھی اسے نقصان پہنچایا ہے۔

۔