ہولوکاسٹ: یہودی لڑکی کی کہانی جسے نازیوں سے بچانے کے لیے ایک ڈاکٹر نے پناہ دی

،تصویر کا ذریعہROSIE WHITEHOUSE
مقبوضہ فرانس کے ایک سکیئنگ ریزورٹ میں ایک ڈاکٹر کی بہادری اور شفقت کی بدولت ایک نوعمر یہودی لڑکی موت کو چکمہ دینے میں کامیاب ہو گئی، مگر روزی وائٹ ہاؤس نے جانا کہ اس نوعمر یہودی لڑکی کی کہانی ایسی ہے جسے مقامی افراد یاد کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔
سنہ 1943 کے موسم سرما میں جیسے ہی پہلی برفباری ہوئی تو ہیوگٹ میولر اور ان کی بہن ماریون نے چپکے سے فرانس کے شہر لیون سے یورپ کے سب سے بلند سکی ریزورٹ جانے کے لیے اپنا رخت سفر باندھا۔
لیون سے نکلنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ شہر اب یہودیوں کے لیے انتہائی غیر محفوظ بن چکا تھا۔ ’لیون کے قصاب‘ کے نام سے مشہور کلاس باربی نے شہر میں موجود یہودیوں کو ڈھونڈ نکالنے کی کارروائیاں تیز کر دی تھیں۔
دونوں یہودی لڑکیوں نے اپنی زندہ رہنے کی امیدیں اب اٹلی کی سرحد سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹے سے گاؤں ویل ڈی زیخ سے جوڑ لی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
کلاس باربی ایس ایس کے رہنما تھے جو نازی جرمنی کی ایک نیم فوجی تنظیم تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہیوگٹ میولر اس سے قبل اٹلی کے زیر انتظام قصبے نیس سے بھی بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ یہ قصبہ اس وقت تک یہودیوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ سمجھا جاتا تھا جب تک یہ اٹلی کے زیر انتظام رہا۔
مگر ستمبر 1943 میں جب اٹلی جنگ سے باہر نکلا تو نازیوں نے اس علاقے پر اپنا تسلط قائم کیا اور ہزاروں افراد کو گرفتار کیا۔
گرفتار ہونے والوں میں ہیوگٹ اور ماریون کی والدہ ایڈتھ بھی تھیں۔ وہ اس وقت گرفتار ہوئیں جب انھوں نے اپنی یہودی شناخت چھپانے کے لیے اپنے اور اپنی بیٹی ہیوگٹ کے لیے جعلی شناختی کاغذات بنوانے کی کوشش کی۔ اسی برس اکتوبر میں انھیں ڈی پورٹ کر کے آشویٹز کے حراستی کیمپ بھیج دیا گیا جہاں انھیں بھی گیس چیمبر میں بند کر کے ہلاک کر دیا گیا۔
ان بہنوں کو اس حقیقت کا صرف جنگ کے بعد ہی پتہ چلا۔
والدہ کی غیر موجودگی میں 15 سالہ ہیوگٹ لیون آ گئیں تاکہ اپنی 23 سالہ بہن ماریون کے ساتھ رہائش پذیر ہو سکیں۔ مگر قسمت کی ستم ظریفی اب یہ شہر بھی غیر محفوظ ہو چکا تھا اور دونوں بہنیں چھپنے کے لیے نئے علاقے کی تلاش میں نکل چکی تھیں۔
سنہ 1943 کے موسم سرما میں پہاڑوں میں چھپ کر رہنا بذات خود بہت خطرناک تھا۔
روس کے محاذ سے واپس آنے والے جرمن فوجیوں کو حال ہی میں ویل ڈی زیخ کے ہوٹل ڈی گلیشیئرز میں رکھا گیا تھا۔ یہ فوجی مقامی ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں لوٹ مار کرتے اور ایسے گھروں کو نذر آتش کر دیتے جہاں ایسے افراد موجود تھے جنھیں جرمن فیکٹریوں میں کام کے لیے چنا گیا ہوتا مگر وہ مقررہ وقت پر نہ گئے ہوتے۔
مقامی افراد جرمن فوجیوں کے اس علاقے پر قبضے کو اب بھی ’لا ٹیرور‘ یا دہشت ناک کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہROGER VIOLLET / GETTY IMAGES
ایس ایس مشکوک اجنبیوں کی تلاش میں بھی رہتی تھی۔ اس لیے اب 92 سال کی ہوچکی ہیوگٹ کے لیے بھی یہ پہیلی ہے کہ وہ ویل ڈی زیخ کیوں گئیں۔
ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ماریون کے منگیتر پیری ہیمین، جو کہ خود فرانسیسی مزاحمتی فورس کے رکن تھے، نے انھیں وہاں جانے کا مشورہ دیا تھا۔ مگر ان بہنوں کو شدید خطرات کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب ہیوگٹ کرسمس کی آمد سے قبل ایک ڈھلوان سے پھسلیں اور اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھیں۔
فریکچر اتنا زیادہ تھا کہ گاؤں کے مقامی ڈاکٹر نے انھیں نیچے وادی میں موجود ہسپتال داخل ہونے کا مشورہ دیا۔ وہ خوفزدہ تھیں کہ ہسپتال جانے کی صورت میں ان سے سوالات پوچھے جائیں گے۔ یہی وہ موقع تھا جب ماریون سٹپٹا گئیں اور گھبراہٹ میں انھوں نے ڈاکٹر کے چہرے پر ایک مکا جڑ دیا۔

امریکی ریاست سان فرانسسکو میں ایک کُہر آلود صبح ہے اور ہیوگٹ، جو کہ اب 92 برس کی ہیں، گہرا سانس بھرتے ہوئے اپنی کہانی جاری رکھتی ہیں کہ وہ ان ہی ڈاکٹر کے زیر نگہداشت رہتے ہوئے ہولوکاسٹ کے دوران کیسے زندہ بچ پائیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں میں وہاں چھ ماہ تک رہی تھی، مجھے ٹھیک سے یاد نہیں ہے۔ میں بس یہ جانتی ہوں وہ محفوظ جگہ تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہROSIE WHITEHOUSE
ہیوگٹ اور ماریون نے وہاں گزارے گئے وقت کے حوالے سے کبھی کسی سے بات نہیں کی۔ جب بھی ماریون سے اس حوالے سے پوچھا جاتا تھا تو وہ بے توجہی سے صرف اپنا ہاتھ ہلا دیتی تھیں۔
اس وقت کی صرف ایک تصویر ان کے پاس ہے۔ سنہ 2010 میں ماریون کے انتقال کے بعد ان کی بہو کے طور پر جب میں ان کا گھر خالی کر رہی تھی تو ان کے سوٹ کیس سے ایک تصویر اور جنگ کے زمانے کے چند کاغذات ملے۔ اس تصویر میں ماریون برف سے گھرے اپنے پہاڑی گھر کے سامنے کھڑی ہیں۔
اس واقعے کو اب 76 برس گزر چکے ہیں مگر اب ہیوگٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی کہانی لوگوں کو سنانا چاہتی ہیں۔
دونوں بہنیں 1920 کی دہائی میں برلن میں پیدا ہوئی تھیں۔ مگر سنہ 1933 میں ہٹلر کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جلد ہی وہ اپنے والدین کے ہمراہ جرمنی سے بھاگ کر فرانس آ گئیں۔ جرمنی سے نکلنے کے لیے ماریون کے جعلی شناختی کاغذات بنوائے گئے تھے مگر ہیوگٹ کے پاس جعلی شناختی کاغذات نہیں تھے۔
شناخت کو مکمل طور پر پوشیدہ رکھنے کے لیے ان کے والدین نے ہیوگٹ کو بپتسمہ بھی دلوایا تھا، اس لیے ان کے شناخت کارڈ پر یہودی مذہب درج نہیں تھا، مگر ان کی جائے پیدائش برلن درج تھی۔ یہ ان کے ہسپتال پہنچنے پر گرفتار ہونے اور موت کے منھ میں دھکیل دیے جانے کے لیے کافی تھا۔

،تصویر کا ذریعہROGER VIOLLET / GETTY IMAGES
ہیوگٹ کہتی ہیں کہ ڈاکٹر نے انھیں بتایا کہ انھیں اگر فی الفور طبی امداد نہ ملی تو ان کی ایک ٹانگ کی لمبائی دوسری ٹانگ سے کم رہ جائے گی۔
’میں نے جواب دیا کہ معذوری ہلاک ہونے سے بہتر ہے۔‘ اور یہ وہ وقت تھا جب ڈاکٹر نے انھیں اپنے گھر میں رہنے اور طبی امداد کی پیشکش کی۔ وہ ڈاکٹر کے گھر چھ ماہ تک رہیں۔
یہ بات اب تک راز ہے کہ ایک مکمل طور پر اجنبی شخص چند لمحوں قبل ہی ملنے والی ایک نوعمر لڑکی کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنے کے لیے کیوں تیار تھا کیونکہ اگر وہ پناہ دینے کے الزام میں پکڑا جاتا تو اسے اور اس کے خاندان کے افراد کو گرفتار کر لیا جاتا یا گولی مار دی جاتی۔
کس چیز نے ڈاکٹر کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا یہ آج تک ہیوگٹ کے لیے بھی ایک راز ہی ہے۔
’میں 1970 کی دہائی میں میں واپس ویل ڈی زیخ واپس آئی تاکہ ڈاکٹر کو ڈھونڈ کر ان کا شکریہ ادا کر سکوں، مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر کی بیوہ دروازے پر آئیں اور آگاہ کیا کہ ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ اب تو مجھے ان (ڈاکٹر) کا مکمل نام بھی یاد نہیں رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPÉTRI FAMILY
گوگل پر ایک سرچ نے ہیوگٹ کی یادداشت کو بیدار کیا۔ سرچ کی مدد سے ڈاکٹر کا نام چند لمحوں میں ہی پتا چل گیا۔ ویل ڈی زیخ میں کے مرکزی چوراہے کا نام رونڈ پوائنٹ ڈاکٹر پیٹری ہے اور ہیوگٹ نے تصدیق کیا کہ واقعی ان کا نام ڈاکٹر فریڈرک پیٹری ہی تھا، جو کہ ایک بڑے گھر میں اپنی والدہ اور بہن کے ہمراہ رہتے تھے۔
ہیوگٹ کہتی ہیں کہ ’وہ بہت اچھے انسان تھے۔ جب موسم اچھا ہوتا تو وہ مجھے اٹھا کر باہر باغیچے میں لے جاتے تھے۔‘
نسب نامے کی ایک ویب سائٹ ظاہر کرتی ہے کہ بعد میں ڈاکٹر فریڈرک پیٹری ویل ڈی زیخ کے میئر بنے اور انھوں نے مشہور شخصیات بشمول برطانیہ کی شہزادی این اور ایران کی ملکہ کا وہاں کے پہاڑوں پر استقبال کیا۔ مگر انھوں نے کبھی کسی سے ذکر نہیں کیا کہ انھوں نے جنگ کے زمانے میں ایک یہودی لڑکی کو اپنے گھر میں چھپایا تھا اور اس کی تیمارداری کی تھی۔
جب اس حوالے سے ان کی بیٹی کرسٹل کو بتایا گیا وہ بالکل حیران نہ ہوئیں اور کہا کہ ’ان (میرے والد) میں ایک جذبہ تھا۔ لوگوں کی ٹوٹی ٹانگوں پر پلستر چڑھانے کا نہیں بلکہ لوگوں کی دیکھ بھال کا۔ وہ بہت شاندار انسان تھے جنھوں نے اپنی پوری زندگی لوگوں کی اتنی زیادہ مدد کی جتنی وہ کر سکتے تھے۔‘
آج ویل ڈی زیخ ایک تنگ پہاڑی میدان کے ساتھ تین مربع میل پر پھیلا شہر ہے مگر 1940 کی دہائی میں یہ ایک چھوٹا سے گاؤں ہوتا تھا جس کی آبادی 150 نفوس سے بھی کم تھی۔

،تصویر کا ذریعہPÉTRI FAMILY

،تصویر کا ذریعہRoger Violett / Getty Images
کرسٹل نے بتایا کہ ’ان کے والد کا گھر مرکزی سڑک پر تھا۔ ایک یہودی لڑکی کو پناہ دینا بہت خطرناک عمل تھا۔‘
انھیں بھی اس بات پر حیرت ہے کہ ان دونوں بہنوں نے اس چھوٹے سے علاقے کو چھپنے کے لیے کیوں چنا مگر انھیں لگتا ہے کہ شاید اس کی وجہ ان کے والد کے ویل ڈی زیخ آنے کی وجہ جیسی ہی رہی ہو۔
سنہ 1938 میں نوجوان ڈاکٹر پیٹری نے اپنے دوستوں کے پاس یہاں آنے کا فیصلہ کیا جن میں چند عالمی شہرت یافتہ سکی چیمپیئن بھی تھے جنھوں نے چند برس قبل اس علاقے میں سکی ریزورٹ کی بنیاد رکھی تھی۔ خود ڈاکٹر پیٹری بھی سرمائی کھیلوں کے شوقین تھے۔
بہت سے نوجوان لڑکوں کی طرح جو یہاں ہوٹل اور سکی سکول چلا رہے تھے۔ ڈاکٹر پیٹری مشرقی فرانس کے ایلزاس خطے میں پیدا ہوئے تھے۔ پہلی عالمی جنگ سے قبل ایلزاس پر جرمنی نے قبضہ کر لیا تھا۔ ان کی بیٹی کرسٹل کا خیال ہے کہ یہی وہ وجہ تھی جس کے باعث ان کے والد کے دل میں جرمنی کے لیے ناپسندیدگی پیدا ہو گئی تھی۔
یہ ناپسندیدگی نفرت میں اس وقت بدلی جب انھوں نے دو سال کا عرصہ ایک جرمن جنگی کیمپ میں مقید رہ کر گزارا۔ ڈاکٹر پیٹری سنہ 1940 سے سنہ 1942 تک سٹٹگارٹ کے جنگی کیمپ میں قید رہے۔
جب جرمن ستمبر 1943 میں ان کے علاقے میں آئے تو وہاں کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے سکی کے کھیل کو اپنے بہترین ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پہاڑوں میں ایک مزاحمتی کیمپ قائم کیا۔

،تصویر کا ذریعہROGER VIOLLET / GETTY IMAGES
اس گروپ کے ایک ممبر جرمین میٹز تھے، وہ مقامی سکی انسٹرکٹر تھے جنھیں بعد ازاں جون 1944 میں جرمنوں نے گرفتار کیا اور 27 سال کی عمر میں وہ ایک جرمن حراستی کیمپ میں انتقال کر گئے۔
شاید یہی وہ وجہ تھی جس کے باعث ماریون نے ویل ڈی زیخ کو چھپنے کے لیے چنا۔ ان کے منگیتر پیری ہیمین نہ صرف مزاحمتی گروپ کے رکن تھے بلکہ ان کا خاندان بھی ایلزاس سے تعلق رکھتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ پیری کے سکی ریزورٹ میں کوئی تعلقات ہوں۔
ڈاکٹر پیٹری پر اعتبار کرتے ہوئے ماریون نے اپنی بہن کو ویل ڈی زیخ میں ہی چھوڑا اور پیری سے ملنے کے لیے ٹولوس چلی آئیں۔ چھ ماہ تک وہ وہاں رہیں اور جون 1944 میں ان کی اس حالت میں واپسی ہوئی کہ وہ حاملہ تھیں۔ واپسی کے راستے میں متعدد ایسے مواقع آئے کہ وہ ایس ایس کے اہلکاروں کے ہاتھوں ریپ اور قتل ہوتے ہوتے بچیں۔

ویل ڈی زیخ میں اس وقت جاری مزاحمتی سرگرمیوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے میں نے بہت سی ای میلز کیں اور ریزورٹ کے فیس بک پیج پر پیغامات بھی بھیجے۔ مگر مجھے صرف ایک شخص سے جواب موصول ہوا۔ یہ روبی جوفو تھے جو کہ پیرس کے مشہور حجام خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ روبی کے چچا جوزف جوفو نے ہولوکاسٹ کے عنوان پر فرانس کی سب سے بہترین یادداشت، ’اے بیگ آف ماربلز‘ لکھی ہے۔
روبی کے والد، ہنری، اور ان کے تایا موریس (جوزف کے بڑے بھائی) بھی سنہ 1943 میں ویل ڈی زیخ میں گمنام طریقے سے زندگی گزار رہے تھے، مگر وہ پیٹری کے گھر کے سامنے ویل ڈی زیخ کی مرکزی گلی میں ایک ہیئر سیلون میں کام کرنے کے لیے خود کو محفوظ سمجھتے تھے۔ پیٹری اور جوفو خاندان اس وقت سے ایک دوسرے کے انتہائی قریب رہے ہیں۔
روبی کا اصرار ہے کہ اس علاقے میں دیگر بہت سے یہودی بھی چھپے ہوئے تھے۔ انھوں نے اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے ٹیلیفون رابطے بھی کیے مگر کوئی اس بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔

فرانس میں ہولوکاسٹ
سنہ 1940 سے سنہ 1944 کے دوران فرانس سے 75 ہزار یہودیوں کو گرفتار کر کے حراستی کیمپوں میں منتقل کیا گیا تھا۔
سنہ 1995 میں فرانس نے پہلی مرتبہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس وقت کے فرانس کے صدر یاک شیراک کا کہنا تھا کہ ’وہ تاریک دن ہمیشہ ہماری تاریخ پر ایک دھبے کی مانند رہیں گے۔ یہ (واقعات) ہمارے ماضی اور ہماری روایات کی توہین ہیں۔ غاصبوں کی مجرمانہ حماقت کی ہم (فرانسیسی ریاست) نے اس وقت تائید کی۔‘
انسانیت کے خلاف ان جنگی جرائم کی پاداش میں صرف دو فرانسیسی اہلکاروں کو سزائیں سنائی گئیں۔ سنہ 1994 میں اس وقت کے مقامی انٹیلیجینس سربراہ پال ٹوویئر کو جرائم کا مرتکب پایا گیا اور ان پر سات یہودیوں کی سزائے موت کے احکامات جاری کرنے کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔ یہ احکامات انھوں نے 50 برس قبل دیے تھے جب وہ ’لیون کے قصاب‘ کلاس باربی کے ماتحت کام کر رہے تھے۔
دوسرے سرکاری اہلکار موریس پاپون پر 1690 یہودیوں کو ملک سے ڈی پورٹ کرنے کے احکامات جاری کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا اور انھیں 1998 میں قید کی سزا سنائی گئی۔
کلاؤس باربی جرمن باشندے تھے اور سنہ 1983 میں بولیویا نے انھیں فرانس کے حوالے کیا تھا۔ سنہ 1987 میں انھیں انسانیت کے خلاف 41 جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔

کرسٹل اس بھیانک خاموشی پر زیادہ حیران نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جنگ کے دوران ہونے والے واقعات کے بارے میں کبھی کسی نے بات نہیں کی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا آج بھی جو خاندان یہاں ویل ڈی زیخ میں بستے ہیں انھیں اس حقیقت کا اندازہ ہی نہیں کہ فرانسیسی مزاحمتی ارکان اس شہر میں سرگرم تھے۔
لندن کی کوئین میری یونیورسٹی میں اس حوالے سے تحقیق کرنے والی جین میٹر کہتی ہیں کہ ’جنگ نے خاندانوں کو منقسم کر دیا۔ تعاون کرنے والوں اور مزاحمت کرنے والوں کے لیے جنگ کے بعد اپنے پڑوسیوں کے ساتھ رہتے رہنے کا واحد راستہ یہ تھا کہ جنگ کے دوران جو کچھ ہوا تھا اسے جنگ کے بعد بھلا دیا جائے۔‘
’فریڈرک پیٹری کے لیے بھی ہیوگٹ میولر کو چھپانا 100 فیصد خطرناک عمل تھا۔ ایسا عمل جو جنگ کے خاتمے اور آزادی کے بعد بھی ناپسندیدہ تھا کیونکہ یہ علاقہ شدید کیتھولک، بنیاد پرست اور دائیں بازو کے خیالات رکھنے والی سوسائٹی پر مشتمل تھا۔

،تصویر کا ذریعہROSIE WHITEHOUSE
ویل ڈی زیخ سے کچھ ہی فاصلے پر موجود اینیسی میں موجود پرانی دستاویزات میں جنگ کے دوران حکام کو لکھے گئے کئی خطوط رکھے گئے ہیں جن میں سے زیادہ تر بے نام ہیں۔ ان میں لوگوں کو مزاحمت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
بہنوں کے وہاں سے چلے جانے کے دو ماہ بعد ویل ڈی زیخ کو آزاد کروا لیا گیا مگر مقامی مزاحمت جاری رہی اور اس نے اٹلی میں برسرِپیکار گروہوں کا ساتھ دیا جس پر ابھی بھی جرمنی کا قبضہ تھا۔ ایک مرتبہ پھر پیٹری نے ایک بالکل اجنبی شخص کے لیے اپنی جان داؤ پر لگائی۔ نومبر 1944 میں سردیوں کی ایک شام تھی جب وہ ان برطانوی فوجیوں کے گروہ کو بچانے کے لیے نکلے جنھیں مزاحمتی گروہوں نے پہاڑی دروں تک پہنچا دیا تھا۔ ان کے پاس برفانی موسم سے بچنے کے لیے مناسب کپڑے نہیں تھے چنانچہ وہ سردی سے ہلاک ہونے والے تھے۔
جب پیٹری ان تک پہنچے تو صرف ایک سپاہی ایلفریڈ سوتھون زندہ بچے تھے۔ وہ بمشکل ہی سانس لے پا رہے تھے مگر پیٹری نے انھیں نیم مردگی کی حالت میں چھوڑنا گوارا نہ کیا۔ وہ انھیں واپس اپنے ٹھکانے تک لے آئے اور اپنی والدہ کے ساتھ مل کر ان کا تب تک خیال رکھا جب تک کہ وہ خود چلے جانے کے قابل نہیں ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہRoger Violett / Getty Images
یہ ممکنہ طور پر ایک غیرمقبول کام تھا کیونکہ کئی لوگوں کے نزدیک برطانیہ نے ڈنکرک میں فرانس کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا جبکہ فرانسیسی شہروں پر بمباری بھی کی تھی۔ مگر بالکل ویسے ہی جیسے ڈاکٹر پیٹری نے ہیوگٹ کو چھپانے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی، اسی طرح انھوں نے اپنے اس ایڈوینچر کے بارے میں بھی اپنے خاندان کو تب تک کچھ نہیں بتایا جب تک سوتھون 1953 میں اپنی کہانی بی بی سی ریڈیو کو سنانے پر برطانیہ میں ایک سلیبریٹی نہیں بن گئے۔
ماریون نے پیری سے شادی کر لی اور جنگ کے بعد وہ ہیوگٹ اور اپنے دو چھوٹے بچوں فرانسوا اور سِلوی کے ساتھ پیرس منتقل ہوگئے۔ یہ شادی زیادہ عرصہ نہیں چلی اور ماریون نے لندن میں اپنے دوسرے شوہر جو جوڈاہ اور ان کے بیٹے ٹِم کے ساتھ 'دوسری زندگی' شروع کی۔

،تصویر کا ذریعہRosie Whitehouse
سنہ 1947 میں ہیوگٹ امریکہ کے شہر سان فرانسسکو گئیں تاکہ پیرس میں روپوش رہ کر جنگ سے بچ جانے والے اپنے والد سے مل سکیں۔ وہاں انھیں جیمز کارلٹن سے محبت ہوگئی اور ان کا ایک بیٹا نارمن پیدا ہوا۔ تب سے اب تک وہ وہیں رہتی ہیں۔ ان کے خوبصورت سے گھر میں ان کی والدہ کا نقرئی کافی سیٹ خصوصی جگہ کا حامل ہے۔
ہیوگٹ کی اب خواہش ہے کہ پیٹری کی بہادری اور رحمدلی کو تسلیم کیا جائے، چنانچہ میں یروشلم میں ہولوکاسٹ کے یادگاری مرکز ید وشیم کو خط لکھنے پر رضامندی ظاہر کی کہ کیا وہ پیٹری کو ان غیر یہودی افراد کی اعزازی فہرست میں شامل کریں گے جنھوں نے ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی جانیں داؤ پر لگائیں۔
ید وشیم نے مجھے بتایا کہ اس فیصلے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہRosie Whitehouse
اس دوران میں نے ویل ڈی زیخ کے میئر مارک بوئیر سے انٹرویو کرنے کی کوشش کی تاکہ ان سے ید وشیم میں دی گئی درخواست پر تبصرہ حاصل کیا جا سکے۔ جب ای میل کے ذریعے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تو میں نے ٹاؤن ہال فون کیا جہاں ایک سٹاف رکن نے بتایا کہ یہ 'حساس معاملہ' ہے اس لیے اس پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری عالمی جنگ کی تاریخ اب بھی فرانس کے لیے برا خواب ہے۔ اپنی زندگی کے تاریک ترین دور کو دوبارہ یاد کرنے کے ہیوگٹ کے فیصلے نے ویل ڈی زیخ کو اپنا ماضی پر غور کرنے کا ایک موقع دیا ہے مگر لگتا نہیں کہ یہ ریزورٹ یہ فیصلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔









