جنوبی افریقہ میں تہلکہ مچانے والے ہیرے ’پتھر نکلے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اگر آپ کو کوئی سونے کی جگہ سونے کا پانی چڑھا کر زیورات بیچ دے تو اس پر آپ کو دُکھ ضرور ہو گا۔ ایسا ہی کچھ جنوبی افریقہ میں ہزاروں افراد کے ساتھ ہوا جنھوں نے افواہوں میں آ کر اپنی زندگی بدلنے کے لیے ایک ’ہیرے اگلتے میدان‘ کا رُخ کیا۔
مگر اب جنوبی افریقہ کی حکومت نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ سکھمبوزو مبھلے نامی گاؤں میں ملنے والے بظاہر قیمتی پتھر ہیرے نہیں بلکہ کوارٹز ہیں۔
یہ افواہیں تب شروع ہوئیں کہ جب ایک چرواہے نے سب سے پہلے جوہانسبرگ شہر کے جنوب مشرقی میں 300 کلو میٹر دور ایک کھلے میدان میں ان پتھروں کا انکشاف کیا جس کے بعد ہزاروں خواہشمندوں نے اس گاؤں طرف رُخ کر لیا۔
متعدد آزمائشوں کے بعد حکام نے کہا ہے کہ یہ پتھر درحقیقت کوارٹز کرسٹل ہیں جن کی قیمت ہیروں کے مقابلے بہت کم ہے۔ فلسبار کے بعد زمین کی پرت میں سب سے کثیر تعداد میں پائے جانے والے معدنیات کوارٹز کو سمجھا جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مقامی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ 'آزمائش میں یہ واضح ہوا ہے کہ علاقے سے ملنے والے پتھر ہیرے نہیں ہیں۔'
یہ جنوبی افریقہ کے سب سے غریب علاقوں میں سے ایک ہے اور اس رش کی وجہ اسے حقیقت کو سمجھا جاتا ہے۔ ملک میں معاشی عدم مساوات ہے اور کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے بے روزگاری بڑھی ہے۔
جنوبی افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگار نومسا مسیکو کے مطابق ہیروں کے پیچھے اس دوڑ سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ غربت سے نکلنے کے لیے کیا کچھ کرنے کو تیار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وہ کہتے ہیں کہ اس علاقے میں ہونے والی تحقیق سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ اس کی خصوصیات کے مطابق یہ ایسا علاقہ نہیں ہے جہاں عام طور پر ہیرے پائے جاتے ہیں۔ 'مزید تحقیقات میں پتا چلے گا کہ آیا معدنیات سے روزگار کے موقع پیدا کر کے لاکھوں علاقہ مکینوں کو روزگار مل سکتا ہے یا نہیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نومسا مسیکو کے مطابق حکومت نے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ کھدائی روک دیں کیونکہ کان کنی کی غیر قانونی سرگرمیوں کے ماحول پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔
یہ رش شروع کیسے ہوا؟
ایک چرواہے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے پہلے کسی کھلے میدان میں ان پتھروں کا انکشاف کیا۔
تب سے سوشل میڈیا پر ایسی بہت سی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آنے لگیں جس میں لوگوں نے یہ دعویٰ کیا کہ انھیں بھی ہیرے جیسے کنکر ملے ہیں۔
صوبائی حکومت نے انتباہ کیا تھا کہ یہ کھدائی غیر قانونی ہے لیکن بہت سارے لوگوں کے لیے بظاہر یہ غربت سے نکلنے کے لیے زندگی میں صرف ایک بار ملنے والا موقع تھا۔
اس آن لائن دھماکے نے پڑوس کے قصبوں اور دیہات سے سینکڑوں لوگوں کو اس خزانے کی جگہ پر جانے پر مائل کیا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAFP
ہیروں سے اپنی قسمت بدلنے کے خواہشمند کون؟
جنوبی افریقہ میں بی بی سی کی نامہ نگار نومسا ماسیکو کہ مطابق اس پتھر کی تلاش میں آنے والوں میں زیادہ تر بے روزگار خواتین شامل تھیں۔
نومسا ماسیکو کہتی ہیں کہ 'صبح سویرے جب سے ہم یہاں پہنچے ہیں، اس وادی میں سینکڑوں لوگ موجود ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کے پاس کلہاڑیاں اور بیلچے ہیں اور وہ ہیرے کی تلاش میں کھدائی کر رہے ہیں۔'
بہت سی خواتین نے یہاں کھدائی کرتے ہوئے رات بھی گزاری ہے، ان میں سے کچھ نے گاؤن پہن رکھے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ رات کو یہاں سردی تھی۔
اس مقام پر موجود ایک خاتون ویلیل ویلاکازی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: 'یہ کمیونٹی کے لیے بہت مددگار ثابت ہو گا۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے جرائم ختم ہو جائیں گے خاص طور پر خواتین کے خلاف جرائم کیونکہ نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے ایسی چیزیں کرتے ہیں۔'
سکھمبوزو مبھلے نے کہا: 'مجھے امید ہے کہ اس سے ہمارے گھر میں تبدیلی آئے گی کیونکہ ہم بہت جدوجہد کر رہے ہیں تو مجھے امید ہے کہ چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔'
جنوبی افریقہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں بے روزگاری کی شرح 33 فیصد ہے اور 15 سے 34 برس کی عمر کے لوگوں میں یہ شرح 46 فیصد ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جوہانسبرگ یونیورسٹی میں سینٹر فار سوشل ڈیویلپمنٹ کی ایک ماہر نفیسات ڈاکٹر میلنڈا ڈو ٹائٹ کہتی ہیں کہ کھدائی کرنے والے، جن میں سے اکثریت کے پاس 'کچھ نہیں'، یقین رکھتے ہیں کہ یہ ایک خدائی تحفہ ہے۔
ہیروں کے بارے میں کچھ لوگ یہی کہتے ہیں کہ 'یہ خدا مہیا کر رہا ہے، یہ زمین ہمارے لیے مہیا کر رہی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کچھ سامنے آئے گا۔'
صوبہ کوازولو نٹا کی حکومت نے لوگوں کو یہاں سے جانے کا کہا ہے۔ پریمیئر سہلے زیکالاالہ نے کہا ہے کہ 'ہمیں پریشانی ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو افراتفری اور ممکنہ بھگدڑ مچ سکتی ہے۔'
ویب سائٹ جیالوجی ڈاٹ کام کے مطابق جنوبی افریقہ دنیا بھر میں ہیروں کا چوتھا بڑا پروڈیوسر ہے اور ہیروں کی تلاش میں آئے لوگ شاید اسی وجہ سے پر امید ہیں۔
سنہ 1905 میں یہاں سے ہی دنیا کا سب سے بڑا کھردرا کوالٹی کا 'کلینن ہیرا' ملا تھا۔
سٹیلنبوسچ یونیورسٹی میں مٹی پر تحقیق کرنے والی ڈاکٹر مشعل فرانسس نے پہلے ہی متنبہ کردیا تھا کہ ان کے خیال میں یہ حالیہ دریافت شدہ پتھر کوارٹز ہو سکتے ہیں، جو ایک بہت ہی کم قیمتی کرسٹل ہے اور ہیرے کی طرح دکھائی دیتا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'ہیرے تلاش کرنا انتہائی نایاب ہے۔ کان کنی کی کمپنیاں اس کے لیے بہت زیادہ پیسہ خرچ کرتی ہیں اور گندگی میں ہیرے ملنے کا امکان بہت کم ہے۔












