کورونا کی وبا میں برطانیہ سے پاکستان سفر: شادیوں اور رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے سفری شرائط نظرانداز

پی آئی اے

،تصویر کا ذریعہNurPhoto

،تصویر کا کیپشنسرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف جنوری میں 32 ہزار افراد نے برطانیہ سے پاکستان کا سفر کیا
    • مصنف, راحیلہ بانو
    • عہدہ, بی بی سی ایشیئن نیٹ ورک

’برطانیہ میں کورونا نے سب کو پاگل کر دیا ہے، ہم قید ہو کر رہ گئے تھے، لیکن یہاں ہر کوئی مزے کر رہا ہے۔ اس لیے میں نے بھی سوچا کہ کیوں نہ میں وہاں سے نکلوں اور یہاں آ کر لطف اندوز ہوں۔ یہ میری دوست ہے، یہ بھی مانچسٹر سے آئی ہے۔ میں اس سے تین ماہ سے نہیں ملی تھی۔‘

یہ الفاظ ہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں ایک خاتون کے جو یہ کہتی ہیں کہ کیونکہ مانچسٹر میں ہر کوئی کووڈ سے تنگ ہے اس لیے وہ لاہور میں ایک شادی میں شرکت کرنے آ گئی ہیں۔ اور اس شادی میں ان کی ملاقات مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی اپنی ایک دوست سے بھی ہوئی۔

تاہم جب بی بی سی نے اس خاتون سے رابطہ کر کے پوچھا کہ وہ کس مقصد کے لیے پاکستان گئی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک بیمار عزیز کی عیادت کی غرض سے پاکستان میں ہیں۔

بی بی سی کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ بعض پاکستانی نژاد برطانوی شہری کووڈ کے دوران سفر کی جائز یا قانونی وجوہات کی شرائط کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کا سفر کر رہے ہیں۔

وبا کے دوران اپنی دوہری شہریت کو استعمال کرتے ہوئے مانچسٹر ایئرپورٹ سے ہزاروں پاکستانی نژاد برطانوی شہری پاکستان کا رُخ کر رہے ہیں جہاں کورونا ایک بار پھر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس پھیلاؤ میں کورونا کی ’برطانوی قسم‘ کو بھی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

حکام نے پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کووڈ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں۔

پاکستان میں ویکسینیشن مہم جاری ہے تاہم پانچ اپریل سے عید تک کورونا سے زیادہ متاثرہ شہروں میں تمام اِن ڈور اور آؤٹ ڈور شادی کی تقاریب اور دیگر اجتماعات پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے اور زیادہ متاثرہ علاقوں میں وہ شہر بھی شامل ہیں جہاں برطانیہ سے براہِ راست پروازیں آتی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2021 میں 32 ہزار افراد نے برطانیہ سے پاکستان کا سفر کیا اور ان میں سے تقریباً 15 ہزار مانچسٹر ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے۔ یہ تعداد اس سے نصف ہے جس تعداد نے گذشتہ برس وبا پھیلنے سے پہلے جنوری میں پاکستان کا سفر کیا تھا۔

یاد رہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے صرف چھٹی منانے کے غرض سے پاکستان کا سفر کرنے کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

کچھ پاکستانی نژاد برطانوی ایسی وجوہات کی بنیاد پر سفر کر رہے ہیں جس کی قانونی اجازت ہے لیکن مانچسٹر کے ایک ٹریول ایجنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی افراد غلط بیانی کا سہارا بھی لے رہے ہیں۔

ٹریول ایجنٹ گنوانت کمپووت نے کہا کہ پاکستان کے معاملے میں ’ہر چھ میں سے تین مسافروں کی سفر کی وجوہات اصل ہیں، جن کا کوئی پیارا بیمار ہے، لیکن باقی تین سے جو ردعمل مل رہا ہے، وہ (کووڈ کے دوران) یہاں سال گزار چکے ہیں اور بہت مشکل ہو رہی ہے اور وہ بس یہاں سے دور جانا چاہتے ہیں۔‘

اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی پاکستان آمد سے میرپور میں کورونا کی برطانوی قسم کا پتہ چلا تھا جس کے بعد پاکستان کے سرکاری حکام اور وزرا نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی وجہ برطانیہ سے آنے والے شہری ہیں جو اپنے ساتھ کووڈ کی اس قسم کو لے کر آئے ہیں۔

پاکستان میں کورونا کے متاثرین بڑھنے کے بعد پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچیئن ٹرنر نے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ صرف ان وجوہات کی وجہ سے سفر کریں جن کی قانون اجازت دیتا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ایسے مسافروں کو روانگی سے قبل ایک ایسا فارم پر کرنا ہو گا جس میں انھیں اپنے سفر کی وجوہات کا ذکر کرنا ہو گا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

پاکستان کا موقف

مانچسٹر میں پاکستانی قونصل جنرل طارق وزیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ برطانیہ سے لوگ کورونا کی نئی قسم لے کر پاکستان جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایسی تجاویز زیر غور ہیں جو پہلے کی نسبت بہت سخت ہوں گی جس کا مقصد کورونا کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے پاکستان کے سفر کی وجوہات سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ ثقافتی ہے، جہاں لوگ اپنے رشتہ داروں اور شادیوں میں شریک ہونے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وبا کے دوران بھی سفر آسان ہے اور لوگوں کو آنے جانے کے لیے کئی پروازیں دستیاب ہیں۔

دوہری شہریت والے افراد کے لیے ویزے کے بغیر پاکستان جانے کی آسانی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ایسی پابندیاں لاگو کر دی جائیں گی جن کے تحت پاکستان جانے کی وجوہات سے متعلق مزید دستاویزات پیش کرنی پڑ سکتی ہیں۔