ڈبل میوٹینٹ: انڈیا میں کورونا وائرس کی نئی قسم کتنی خطرناک ہے؟

کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا

انڈیا میں حاصل ہونے والے نمونوں میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم 'ڈبل میوٹینٹ' دریافت ہوئی ہے۔ اس میں وائرس کی دو الگ شکل کی قسمیں مل کر اسی وائرس کو تشکیل دیتی ہیں۔ سائنسدان یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ قسم زیادہ خطرناک ہے یا ویکسین اس پر کم اثر انداز ہوتی ہے۔

لیکن یہ ’ڈبل میوٹینٹ‘ قسم ہے کیا؟

وائرس کی کسی بھی قسم کی طرح کورونا وائرس بھی ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کے ساتھ اپنی شکل تبدیل کرتا رہتا ہے۔

شکل میں اس تبدیلی کی کثیر تعداد غیر اہم ہوتی ہے اور وائرس کے رویے کو متاثر نہیں کرتی۔

لیکن بعض اوقات اس سے وائرس کے پروٹین کی شکل میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے جس کی مدد سے یہ انسانی خلیوں میں داخل ہوتا ہے۔ اس لیے وائرس کی ایسی قسمیں زیادہ خطرناک ہوتی ہیں اور باآسانی پھیل سکتی ہیں۔ یہ قسمیں زیادہ مہلک بیماری کا باعث بنتی ہیں یا ویکسین سے متاثر نہیں ہوتیں۔

یہ بھی پڑھیے

ویکسینز ہمیں نظام تنفس کی بیماریوں، جیسے سارس-کوو ٹو جو کووڈ 19 پھیلانے والا وائرس ہے، سے محفوظ رکھتی ہیں۔ ہمارے جسم میں ویکسین سے قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے اور اس وائرس کی اینٹی باڈیز آجاتی ہیں۔

ویکسین کی بہترین قسم وہ ہے جس میں وائرس کو 'غیر مؤثر کرنے والی اینٹی باڈیز' ہوتی ہیں کیونکہ اس طرح انسانی خلیوں میں وائرس داخل نہیں ہو پاتا۔

انڈیا، کورونا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈین حکومت نے کہا ہے کہ مغربی ریاست مہاراشٹر سے لیے گئے نمونوں کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ سال دسمبر کے مقابلے میں وائرس کی 'ای 484 کیو' اور 'ایل 452 آر' اقسام میں اضافہ ہوا ہے۔

وزارتِ صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'اس طرح کے (ڈبل) میوٹیشنز انسانی جسم میں قوت مدافعت سے بچ نکلتے ہیں اور زیادہ بیماری پھیلاتے ہیں۔'

لوزیانا سٹیٹ یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز سینٹر شریوو پورٹ کے وائرولوجسٹ ڈاکٹر جیریمی کامل کہتے ہیں کہ 'ای 484 کیو' اور 'ای 484 کے' ایک جیسی اقسام ہیں۔ ای 484 کے کو جنوبی افریقہ اور برازیل میں بھی پایا گیا ہے اور یہ کئی بار آزادانہ طور پر منظر عام پر آنے والی قسم ہے۔

وائرس کی ایک قسم میں اگر ایک ہی طرز پر اس کی شکل بار بار تبدیل ہوتی ہے تو وائرس کے الگ طریقے سے کام کرنے کے امکان پیدا ہوجاتے ہیں اور پھر اسے 'تشویشناک قسم' سمجھا جاتا ہے۔

انڈیا میں ڈبل میوٹینٹ میں ایل 452 آر کی قسم کو بھی دیکھا گیا ہے۔ پہلی بار اسے امریکہ سے تعلق کی بنا پر توجہ ملی تھی اور اسے 'کیلیفورنیا کی قسم' کہا جاتا تھا۔

کیا ایسے وائرس کم پائے جاتے ہیں؟

ڈاکٹر کامل کے مطابق یہ غیر معمولی بات نہیں۔ انھوں نے حال ہی میں ایک تحقیق میں کام کیا ہے جس میں امریکہ میں نوول کورونا وائرس کی سات اقسام کا جائزہ لیا گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'یہ اب انتہائی عام ہے کہ آپ ایک ہی وقت میں ایک وائرس کی کئی اقسام دیکھتے ہیں۔ ایسا تب بھی ممکن ہے اگر ہم صرف جینیاتی پہلوؤں پر غور کریں۔'

انڈیا

،تصویر کا ذریعہReuters

ان کے مطابق عالمی وبا کی ابتدا میں زیادہ پھیلنے والے جینز میں صرف ایک قسم 'ڈی 614 جی' تھی۔ یہ شکل اب زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ 'اب ہم اس کے علاوہ مزید اقسام کو دیکھتے ہیں۔'

درحقیقت ایک اوپن شیئرنگ ڈیٹا بیس 'جی آئی ایس اے آئی ڈی' نے ایسے 43 وائرسز کی فہرست بنائی ہے جس کی ای 484 کیو اور ایل 452 آر اقسام انڈیا میں پائی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر کامل کہتے ہیں کہ مارچ میں برطانیہ سے جمع کیے گئے وائرس کی چار اقسام ہیں جو بڑے پیمانے پر پھیلی ہیں۔ 'یہ بہت زیادہ اقسام ہیں۔ کیا ہم اس بات کے حوالے سے پراعتماد ہیں کہ انڈین قسم کی صرف دو شکلیں ہیں جو زیادہ پھیلی ہیں؟'

انڈین سائنسدانوں کی جانب سے جی آئی ایس اے آئی ڈی پر ڈیٹا درج کرنے کے بعد دنیا بھر کے سائنسدان یہ جان سکیں گے کہ آیا 'ڈبل میوٹینٹ' وہی قسم ہے جو برطانیہ میں بھی دیکھی گئی ہے یا یہ آزادانہ طور پر ظاہر ہوئی ہے۔ برازیل اور جنوبی افریقہ سے آئی اقسام کے 417 این/ٹی، ای 484 کے اور این 501 وائے کے ساتھ ملنے سے بھی ایسے ہی سٹرین بنے تھے۔

کیا ہمیں نئی قسم سے پریشان ہونا چاہیے؟

وائرس کی جینیاتی شکل میں تبدیلی سے یہ زیادہ آسانی سے لوگوں کو بیمار کر سکتا ہے اور اینٹی باڈیز سے بچ سکتا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اگر وائرس صحیح طریقے سے اپنی شکل تبدیل کر لیتا ہے تو یہ کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کو دوبارہ بیمار کر سکتا ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہReuters

لیکن سائنسدان سمجھتے ہیں کہ ایسے افراد جو ایک بار کورونا سے صحتیاب ہو چکے ہیں یا انھوں نے ویکسین حاصل کی ہے اگر وہ دوبارہ کووڈ 19 کی کسی نئی قسم سے متاثر ہوتے ہیں تو ان میں کم علامات ظاہر ہوتی ہے اور بیماری کی شدت اتنی زیادہ نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر کامل کہتے ہیں کہ اس طرح وائرس کے شکل بدل کے پھیلنے سے ہرڈ امیونٹی (آبادی کے اکثر حصے میں ویکسین کے استعمال یا بیماری کے زیادہ پھیلنے سے قوت مدافعت پیدا ہونا) متاثر ہو سکتی ہے۔

اس سے ایسے افراد بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں جنھیں اس سے زیادہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ وائرس آبادی سے گزرتا ہوا ان تک پہنچ سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انڈیا میں وائرس کی دوسری اقسام کے مقابلے میں ڈبل میوٹینٹ کے زیادہ خطرناک ہونے کے امکانات کم ہیں لیکن مزید معلومات سے ہی یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے۔

کیا انڈیا میں دوسری لہر کا باعث یہی قسم تھی؟

انڈیا میں بدھ کو کووڈ 19 کے 47262 نئے یومیہ متاثرین اور 275 اموات کی تصدیق ہوئی۔ یہ رواں برس یومیہ متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

حیدر آباد میں قائم سینٹر فار سیلولر اینڈ مالیکیولر بائیولوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راکیش مشرا کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر کے 20 فیصد متاثرین میں 'ڈبل میوٹینٹ' قسم پائی گئی ہے اور اس ریاست میں وائرس بہت تیزی سے پھیلا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اس بارے میں شکوک پائے جاتے ہیں کہ انڈیا میں وائرس کی دوسری لہر کا باعث یہ قسم تھی۔ میں کہوں گا ایسا نہیں ہے۔ 80 فیصد نمونوں میں یہ قسم نہیں دیکھی گئی۔ مہاراشٹر میں ہزاروں نمونے لیے گئے لیکن یہ قسم صرف 230 کیسز میں پائی گئی۔'

زیادہ تشویش کا باعث برطانوی یا کینٹ کی قسم ہے جو برطانیہ سمیت 50 سے زیادہ ممالک میں بری طرح پھیل چکی ہے۔ انڈیا میں 10787 نمونوں میں سے 736 میں یہ قسم پائی گئی ہے۔

ڈاکٹر کامل کے مطابق ممکن ہے کہ اس قسم نے 'دوسری لہر کو زیادہ مشکل بنانے میں کردار ادا کیا ہو گا۔' مختلف تحقیقات کے مطابق یہ قسم 50 فیصد زیادہ تیزی سے منتقل ہوتی ہے اور 60 فیصد زیادہ خطرناک ہے۔ وائرس کی پچھلی قسم کی ایک موت کے مقابلے میں اس قسم سے 1.6 اموات ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر کامل کہتے ہیں کہ 'زیادہ امکانات یہ ہیں کہ دوسری لہر انسانی رویوں سے زور پکڑے گی۔'