کیپیٹل ہل پر چڑھائی کی پانچ حیرت انگیز اور وائرل ہونے والی تصاویر

،تصویر کا ذریعہMike Theiler / Reuters
صدر ٹرمپ کے پرتشدد حامیوں نے تمام رکاوٹیں عبور کر کے امریکی ریاست کے سیاسی مرکز کیپیٹل ہل کے اندر داخل ہوئے۔ اس وقتکیپیٹل ہل میں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی فتح کی تصدیق کے لیے جو کارروائی جاری تھی اس کی کوریج کے لیے وہاں نیوز فوٹو گرافر بھی موجود تھے جنھوں نے مظاہرین کی عمارت کے اندار ہنگامہ آرائی کے مناظر کو دنیا کے سامنے فوری طور پر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
آخری بار واشنگٹن میں اس عمارت پر برطانوی فوجیوں نے 1814 میں دھاوا بولا تھا۔
مگر اب 2021 میں صدر ٹرمپ کا ایک حامی ہاتھ میں کنفڈریشن کا جھنڈا اٹھائے سینیٹ کے چیمبر کے قریب راہداریوں سے گزر رہا ہے اور اسے کسی خاص مزاحمت کا سامنا نہیں ہے۔
کنفڈریسی امریکہ کی ان جنوبی ریاستوں کا گروپ تھا جس نے امریکہ میں خانہ جنگی کے دوران کوشش کی تھی کہ غلامی ختم نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر امریکہ میں نسلی تعصب کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے بعد ملک میں اس جھنڈے پر پابندی عائد کرنے کے مطالبات نے زور پکڑا ہے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہہ کر اس جھنڈے کا دفاع کیا کہ یہ آزادی اظہار رائے کا معاملہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہWin McNamee / Getty Images
ٹرمپ کا ایک حامی ان کے نام کی ٹوپی پہنے ان سرخ رسیوں کے درمیان سے گزر رہا ہے جو وہاں طے شدہ دورے پر آنے والے سیاحوں کی قطاروں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
اس شخص نے ہاتھ میں پوڈیم اٹھا رکھا ہے جس پر ایوان کے سپیکر کی مہر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ وہ اس پینٹگ کے سامنے تصویر بنوا رہا ہے جس میں جنگ آزادی کے دوران جنرل برگوئن کے سرینڈر کی عکاسی کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہWin McNamee / Getty Images
صدر ٹرمپ کا ایک اور سرگرم حامی جو اپنا نام جیک اینجیلی بتاتا ہے۔ اس نے صدر ٹرمپ کی متعدد ریلیوں میں بڑھ چڑھ کر شرکت کی اور کیپیٹل ہل کے اندر چلاتا ہوا سینیٹ چیمبر کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اس کا حلیہ اسے دیگر مظاہرین سے جدا کرتا تھا جو کالے رنگ کی ہُڈیز پہنے ہوئے تھے۔ صدر ٹرمپ کے حامی سیلفیاں لیتے نظر آئے لیکن واضح تھا کہ وہ وہاں اس لیے آیا تھا کہ دوسرے اس کی تصاویر لیں۔
عموماً تو واشنگٹن ڈی سی میں مظاہروں کی صورت میں مسلح سکیورٹی فورسز بھاری تعداد میں سرکاری عمارتوں کی حفاطت پر مامور ہوتی ہیں لیکن یہاں بظاہر سکیورٹی کم تھی۔

،تصویر کا ذریعہSAUL LOEB / AFP
ٹرمپ کے ایک حامی رچرڈ بارنیٹ ایک ایسی میز پر بوٹ رکھے بیٹھے ہیں جو کانگریس میں طاقت کا مرکز ہے۔ ہاؤس کی سپیکر نینسی پلوسی کا دفتر ہے۔
اس منظر میں جو کہ کچھ روز پہلے تک ناقابل تصور تھا، بارنیٹ اپنی بیس بال کیپ اور چیک والی قمیض پہنے ایک ایسے قصہ گو کی تصویر پیش کر رہے ہیں جو اپنے دوستوں کو اپنی لوٹ کے قصے سنا رہا ہو۔
یہ تصویر اور بارنیٹ اور دیگر مظاہرین کی جانب سے ننیسی پلوسی کی میز پر چھوڑے گئے پیغامات وائرل ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDrew Angerer / Getty Images
اس ڈرامائی تصویر یہ ظاہر کرتی ہے کہ کیسے ایوان کی معمول کی کارروائی تشدد کے نتیجے میں تعطل کا شکار ہوئی۔ کیپیٹل پولیس اپنی بندوقیں ایوان کے دروازوں پر تانے ہوئے ہے جبکہ پرتشدد مظاہرین اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جس طرح دروازوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اسلحہ نکالنے کی ضرورت پیش آگئی، اس پر کئی تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ کیا وہ بغاوت ہوتی دیکھ رہے تھے۔
نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹی وی پر ایک جذباتی خطاب کیا جس میں انھوں نے اسے ’جمہوریت پر ایک حملہ‘ قرار دیا۔ ان کے کہنے کا جو مطلب تھا یہ تصویر اس بات کی عکاسی کرتی ہے۔
تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔










